مدارس کی مالی معاونت ،’اس حمام میں سب ننگے ‘

ریاست میں کئی روز سے مدارس کو مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے مالی امداد کی باتیں ہورہی ہیں اور اس سے دینی مدارس اور اداروں سے وابستہ اشخاص پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب کچھ ادارے باضابطہ طور پر تردیدی بیانات جاری کرنے لگے ہیں اور مالی امدادحاصل کرنے کی نفی کررہے ہیں۔ادھر مرکزی وزراء وقفے وقفے سے اس بات کو اُچھالنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے جبکہ ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کو انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے اس طرح کی امداد پہلی بارفراہم کی گئی جس کی منصفانہ تقسیم محکمہ تعلیم کو سونپی گئی۔اس سے عام لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے کہ آیا کون سے مدارس یا دینی ادارے ہیں جو بظاہر عوامی پیسے سے چلتے ہیں مگر پس پردہ اور ہی کچھ کہانی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس بات کو لیکر دینی مدارس کو اس طرح کا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے تھا گویا یہ ایک نارمل معاملہ ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے کس کو امداد نہیں مل رہی ہے۔ اور پھر آئین ہند بھی اقلیتی اداروں کو مالی امداد دینے کی سفارش کرتا ہے۔ نہ صرف اقلیتی اداروں ، بلکہ ان کے کلچر اور زبان کے تحفظ کیلئے بھی آئین کی دفعہ 25میں واضح طور پر تشریح کی گئی ہے۔واضح رہے کہ انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت کی باقی دیگرریاستوں میں بھی قائم مذہبی مدارس کومالی معاونت دی جارہی ہے تاکہ ان مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی بہرور کیا جاسکے۔حالانکہ جس طرح کی امداد ملنی چاہئے تھی، عام مشاہدے میں وہ نہیں ملتا ہے اور یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مرکزی سرکار نے مدارس کو دی جارہی مالی معاونت کی تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔ باہر کی ریاستوں میں تو یہ کوئی بڑا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے اسلئے وہاں مدارس کو جو کچھ بھی مل رہا ہے وہ اسے چپ چاپ قبول کرکے اپنے تصرف میں لاتے ہیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیر میں یہ معاملہ حساس تصور کیا جارہا ہے اور پھر اس کی تشریح و توضیح اس انداز سے کی گئی ہے گویا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یہ ایک بالکل غلط بات ہے کیونکہ ہندوستان کا شاید ہی کوئی مذہبی ادارہ یا سکول وغیرہ ہوگا جس کی سرکار مالی معاونت نہیں کررہی ہو۔ اور پھر اگر ایسی امداد عام لوگوں کی نظروں میں غلط ہے تو حج پر سبسڈی بھی تو غلط ہے اور وہ پیسہ بھی وہیں سے آتا ہے جہاں سے مدارس کا(اگر کچھ آیا بھی ہوگا) آتا ہے۔اس مسئلے کو لیکر کئی ایک مفاد پرست عناصر میدان میں کود پڑے ہیں جو امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر مرکزی حکومت مالی امداد کرتی ہے تو کون سا احسان کرتی ہے۔ مسلمانوں سے ٹیکسوں کی کتنی آمدنی مرکزی خزانے میں جاتی ہے اور پھر بدلے میں مسلمانوں کو ملتا کیا ہے۔ ان کی شرح خواندگی دیکھئے، ان کے مالی انڈیکس پر نظر دوڑائیں اور ریاستی یا مرکزی ملازمتوں میں ان کے تناسب پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اگر اربوں روپے بھی مسلمانوں پر خرچ کئے جائیں تو وہ بھی کم ہیں چہ جائیکہ چند کروڑ روپے کی مالی امداد۔اسلئے مسلمانوں کوصورت حال کا ادراک کرکے آپسی تفرقہ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ اتنا حساس نہیں جتنا کہ باور کرایا جاتا ہے۔ریاست میں پیداشدہ اس تنازعہ کے ضمن میں ریاستی وزیر تعلیم پیرزادہ محمد سعید نے اعتراف کیا کہ انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے جموں و کشمیر کو اس طرح کی امداد فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ’’ریاستی حکومت نے اس مالی امداد کے منصفانہ تقسیم کیلئے ناظم تعلیم جموں و سرینگر کو اختیارات تفویض کئے جو مستحق اداروں کی نشاندہی کرکے انہیں شفاف طریقے سے یہ امداد بہم پہنچائیں ‘‘۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس(گ) کے چئیرمین سید علی شاہ گیلانی نے یہ معاملہ منظر عام پر آتے ہی اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ مسلم دشمن قوتوں نے تاریخ کے ہر دور میں اس حربے کو استعمال کیا ہے اور انہیں اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں جبکہ بیشتر اوقات میں وہ علماء اور مولوی ان کے جھانسے میں آکر شکار ہوجاتے ہیں جو دین کے بجائے کسی خاص مسلک کی طرف دعوت دینے کو اسلام کی اصل خدمت سمجھتے ہیں اور جو اپنی کم فہمی کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں اور ان کی مساجد تک کو تقسیم کرانے کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں‘۔انہوں نے جموں کشمیر کی حدود میں کام کرنے والی تمام چھوٹی بڑی اسلامی تنظیموں اور ان کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور اپنے ملّی اور قومی کاز کی حفاظت کو ہر صورت میں ترجیح دیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 67 other followers