سال2011 ۱پنی تمام شیرین وتلخ یادیں چھوڑ کر الوداع کہہ گیا۔ اس سال کا اگراجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سال بھی جموں کشمیر کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔2010 کے غموں اور رنجشوں کو بھلا کر2011 سے نئی امیدیں باندھ کر اس کا خیر مقدم کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا لیکن رخصت ہونے و الے اس سال نے بھی ان مایوسیوں سے عوام کا دامن بھردیا ۔روٹی ، کپڑا اورمکان فراہم کرنے والے حکمرانوں کے دعوے حسب سابقہ سراب ثابت ہوئے۔ریاست میں سینکڑوں افراد نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا رہے۔سال2010کے مقابلے میں اگرچہ 2011 قدرے پر امن رہا تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوران 179 ہلاکتیں ہوئیں جن میں97 جنگجو،5 خواتین ،8 معصوم بچے، 47 عام شہری اور 35 فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اس سال جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا شوکت احمد شاہ کا قتل ،حزب اقتدار کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی کرائم برانچ میں ہوئی پر اسرار ہلاکت ، پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی شمولیت ،وادی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑاریل حادثہ، بغیر ڈرائیور ریل کا 40 کلومیٹر مسافت طے کرنااورریاست کے ایک سینئر وزیر پر حملہ جیسے کئی ہنگامہ خیز واقعات رونما ہوئے۔
جنوری
یکم جنوری کو صوبہ جموں کے گول رام بن علاقے میں جنگجوؤں اور فوج کے مابین ایک خونین جھڑپ میں ٹریٹوریل آرمی کے 2اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ 4جنوری کوسرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں جنگجوؤں نے ایس ایچ او بٹہ مالو کی نجی کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مذکورہ ایس ایچ او کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا۔ 5جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی یوتھ ونگ نے لالچوک میں 26 جنوری کو ترنگا لہرانے کا اعلان کیا۔ جنوری کی26تاریخ کو ہی کپواڑہ کے مضافاتی جنگل آمن کھرہامہ ورنو میں فوج کے ہاتھوں ایک نامعلوم شخص جاں بحق ہوگیا ۔ 10 جنوری لداخ خطے میں موٹرسائیکلوں پر سوار چینی افواج نے کنٹرول لائن عبور کرکے ایک مسافر شیڈ کو مسمار کردیا۔ 21جنوری کوسرحدی حفاظتی فورس( بی ایس ایف) نے جموں کے اکھنور سیکٹر میں ایک درانداز کومارنے کا دعویٰ کیا ۔ 24جنوری کو جنگجوؤں نے شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں قائم سی آر پی ایف کی 179ویں بٹالین پر فائرنگ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔27 جنوری کوجی آر صوفی ریاست کے چیف انفارمیشن کمشنر نامزد ہوئے ۔ 31جنوری کو سوپور کے ہی مسلم پیر علاقے میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے 2سگی بہنوں عارفہ اور اختر دختران غلام نبی ڈار کو اغوا کر نے کے بعد قتل کیا۔اسی روزسینئر آئی اے ایس آفیسر مادھو لعل نے ریاستی چیف سکریٹری کا عہد ہ سنبھالا۔
فروری
2فروری کو سوپور میں نامعلوم جنگجوؤں نے کانگریس لیڈر غلام رسول کار کی رہائش گاہ پر رائفل گرینڈ وں سے حملہ کردیا۔ اسی روز ترال میں فوج کی ایک گشتی پارٹی پر جنگجوؤں نے زبردست فائرنگ کی ۔4فروری کو ہندوارہ میں رات دیر گئے فوج کی 4پیرا کے اہلکاروں نے 21سالہ نوجوان منظو راحمد ماگرے ولد غلام احمد ساکن گنڈ چوگل کو گولی مار کرموت کے گھاٹ اتاردیا۔ 8فروری کو رام بن میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان خونین جھڑپ میں 10برسوں سے سرگرم حزب المجاہدین نامی عسکری جماعت کے ڈویژنل کمانڈر عبدالرشید نائک عرف قاری زبیر اور مشتاق احمد جاں بحق ہوگئے ۔اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک مرغ فروش سمیت 2افراد کو گولی مار کر زخمی کردیا ۔9 فروری کو حکومت نے پنچایتی چناؤ کرانے کا اعلان کیا ۔10 فروری کو اسلامی ممالک کی بین الاقوامی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے او آئی سی کے ایجنڈے میں کشمیر سر فہرست رکھنے کا اعلان کیا ۔11 فروری کو بے جی پی کے کارکنوں نے بھارت کے شہر اجمیر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک پر پتھرا ؤ کیا ۔ 13فروری کو سرینگر کے مضافاتی علاقے ملورہ میں ایک خوفناک دھماکے میں3بھائی بہن، 14سالہ نور محمد ، 8سالہ بسمہ مقبول اور 4سالہ مسکان دختران محمد مقبول بٹ داعی اجل کو لبیک کہہ ہوگئے ۔ 15فروری کو جنگجوؤں نے سوپور میں پلازہ ہوٹل کے باہر قائم سی آر پی ایف 174بٹالین کے بنکر پر ہتھ گولہ پھینکا ۔ 16فروری کو وانگورہ بارہمولہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے محمد اکبر نامی شہری کے مکان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اسکی 2معصوم بچیاں 16سالہ شائستہ اور 8سالہ مومنہ زخمی ہوئیں ۔17فروری کو سوپور کے وار پورہ علاقے میں جنگجوؤں نے ایک پولیس پوسٹ اور کورٹ روڑ پر واقع فوج کے کیمپ پر یکے بعد دیگر گرینڈ حملے کردئیے ،اسی روز پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ہندوپاک افواج کے درمیان گولی باری ہوئی جبکہ حاجن سونا واری میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس ورکر غلام حسن ڈار کو گولی مار کر ابدی نیند سلادیا ۔18 فروری کوبھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات واپس لینے کے ریاستی مطالبے کو مستردکردیا ۔ 19فروری کو وار پورہ سوپور میں جنگجوؤں نے خودکار ہتھیاروں سے ایک پولیس پارٹی کونشانہ بنایا تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔24 فروری کو پلوامہ کے قلم پورہ راجپورہ میں جنگجو فورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہوگئے ۔27 فروری کو کاکہ پورہ قاضی گنڈ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک ٹپر ڈرائیور محمد ایوب وانی پر گولی چلاکر اسے ہلاک کردیا ۔28 فروری کو جموں میں ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا ۔اسی روز کریری پٹن میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک سابق جنگجو نذیر احمد لون کو گولی مارکر ہلاک کردیا جبکہ بٹہ مالو میں ایک گرنیڈ حملے میں ایک ایگزیکٹیو انجینئر اور ایک پولیس آفیسر سمیت4 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں ایگزیکٹیو انجینئر شکیل احمد ساکن بال گارڈن اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔
مارچ
2 مارچ کو ڈاڈہ سر ترال میں جنگجو اور فورسز کے مابین فائرنگ کے ایک واقع میں شبیر احمد نامی ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔3 مارچ کو پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی نے ڈپٹی سپیکر کے عہدے سے مستعفی ہوئے ۔7 مارچ کولگام میں نامعلوم افراد نے دو پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرکے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی اور ان کا اسلحہ چھین لیا۔ اسی روز شام کو وانہ بل نوگام میں جنگجو ؤں نے ریل پٹری کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی ۔9 مارچ کو جموں کے سانبہ سیکٹر میں ایک پاکستانی جنگجومارا گیا ۔10 مارچ کو پولیس نے سرینگر کے فور شو روڈ پر جیش محمد کے 2 جنگجوؤں سجاد افغانی اور عمر بلال کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ اسی روز کپواڑہ میں ایک بارودی شل پھٹنے سے تین کم سن بھائی بہن زخمی ہوگئے۔12 مارچ کو سوپور اور شوپیان میں دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران 3 جنگجوجاں بحق ہوئے۔13 مارچ کو کرال ٹینگ سوپور میں جھڑ پ کے دوران ایک مقامی جنگجو وسیم احمد جاں بحق ہوگیا جبکہ اسی روز ہاتھی شاہ سوپور میں ایک بنکر پر ہتھ گولہ پھینکا گیا ۔14 مارچ کو پنچایتی انتخابات کیلئے تاریخوں کا اعلان کیا گیا ۔17 مارچ کو شہر سرینگر میں بارہ فورسز بنکر ہٹائے گئے ۔19مارچ کو کیلر شوپیان میں جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک جبکہ دوسرا فرار ہوگیا۔20 مارچ کو رعناواری سرینگر میں ایک گرنیڈ دھماکے میں 4 فورسز اہلکار زخمی ہوگئے ۔21 مارچ کو سوپور میں جنگجوؤں نے ایک اسٹنٹ انسپکٹر کو گولی مارکر زخمی کردیا ۔23 مارچ کو پی ڈی پی کے ممبراسمبلی بانڈی پورہ نظام الدین بٹ نے وزیراعلیٰ کے خلاف لگائے گئے رشوت ستانی کے الزامات کو واپس لیتے ہوئے ان سے معذرت طلب کی ۔24 مارچ کوایجی ٹیشن 2010 کے دوران زخمی ہونے والی ایک خاتون حنیفہ دختر غلام حسن وانی ساکن کریر ی نے دم توڑ دیا ۔28 مارچ کو سوپور میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک پاکستانی جنگجوابو طلحہ مارا گیا۔30 مارچ کو پنگلش ترال میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے حلقہ صدر غلام محی الدین بٹ کو ہلاک کیاجبکہ اس حملے میں اس کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئیں ۔
اپریل
3 اپریل کو کیلر شوپیان میں ایک جنگجو مارا گیا ۔5 اپریل کوڈاڈہ سر ترال میں جھڑپ کے دوران ایک فوجی اور ایک پولیس اہلکار کے علاوہ ایک مقامی جنگجو بھی ماراگیا جبکہ اسی شام حول سرینگر میں ایک گرنیڈ حملہ بھی ہوا ۔8 اپریل کو مائسمہ گاؤکدل سرینگر میں بعد دوپہر ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں جمعیت اہلحدیث صدر مولانا شوکت احمد شاہ جاں بحق ہوئے ۔12 اپریل کو اکھنور میں ایک بارودی شل پھٹنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے ۔15 اپریل کو پکھر پورہ چرار شریف میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک خاتون پنچایتی امیدوار کر ہلاک کردیا ۔اسی روز لال پورہ کپواڑہ میں فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوگیا تاہم لوگوں نے اسے ایک عام شہری بتاکر احتجاجی مظاہرے کئے ۔
17 اپریل کو ایک حیران کن واقعے میں جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ ریلوے اسٹیشن سے ریل نے بغیر کسی ڈرائیور کے 40 کلو میٹر تک مسافت طے کئے اور بعد میں خود بخود رک گئی ۔20 اپریل کو دلی کے نامزد مذاکراتکار حریت کانفرنس (ع) کے لیڈرمولانا عباس سے ملاقی ہوئے جس کے بعد اسے حریت (ع) کی رکنیت سے معطل کیا گیا۔اسی روز کراسنگ ووٹنگ کے مرتکب بی جے پی کے7 اراکین معطل کئے گئے ۔24 اپریل کو رام بن بانہال میں ایک جنگجو اور ایک فوجی اہلکار جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔ اسی روز اچھ بل سوپور سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ حافظ قرآن محمد اشرف لون کی لاش کریری بارہمولہ سے برآمد کی گئی ۔25 اپریل کو آزاد گنج بارہمولہ میں پتھراؤ کی زد میں آکر ایک ایس آر ٹی ڈرائیور زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔اسی روز شہر سرینگر کے نوگام علاقے میں نا معلوم اسلحہ برداروں کے حملے میں پولیس کے 2 کانسٹیبل ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ 30اپریل کو ایندر پلوامہ میں جنگجو دو فوجیوں کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہوگئے جبکہ اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے شمس الدین میر نامی ایک شخص پر گولیاں چلا کر اسے ہلاک کردیا ۔
مئی
3مئی کو ادھمپور میں ایک کار بم دھماکے میں ایک دودھ فروش ہلاک جبکہ راجوری میں بی ایس ایف کی فائرنگ میں ایک عام شہر کی موت واقع ہوئی ۔5 مئی کو راجوری کے نوشہرہ میں بارودی سرنگ دھماکے میں فوج کا ایک میجر ہلاک ہوگیا ۔12 مئی کو لولاب کپواڑہ میں جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک فوجی حوالدار ہلاک ہوگیا ۔16 مئی کو سوپور کے زالورہ علاقے میں ایک جھڑ پ کے دوران ابو حنزلہ جاں بحق ہوا جبکہ کشتواڑ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک کانگریس لیڈر کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کردیا ۔23 مئی کو پونچھ میں جھڑپ کے دوران ایک لشکر کمانڈر ہلاک ہوگیا ۔24 مئی کو ہندوارہ کے لربل علاقے میں جھڑپ کے دوران 2 جنگجو جاں بحق ہوگئے۔26 مئی کو کیلر شوپیان میں جھڑپ کے دوران دو جنگجو لقمۂ اجل بن گئے اور دو رہاشی مکان زمین بوس ہوگئے ۔27 مئی کو نوپورہ سوپور میں فوج کے ساتھ جھڑپ میں دو پاکستانی جنگجو مارے گئے جبکہ اسی روز راجوارہندوارہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک شہری کے مکان میں داخل ہو کر اس کے بیٹے منظور احمد میر کو ہلا ک کیا ۔28 مئی کو انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا کو پولیس نے سرینگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔29 مئی کو اکھنور میں ایک نوجوان شلنگ کے دوران ہلاک ہوگیا ۔
جون
یکم جون کو حریت کانفرنس (ع) نے اتحاد مسلمین کی رکنیت بحال کی جبکہ اسی روز پروفیسر طلت نے دانشگاہ کشمیر کے نئے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا ۔3 جون کو نسیم باغ سوپور میں 3 جنگجو مارے گئے ۔6 جون کو پریس کالونی سرینگر کے نزدیک سوپور کے ایک تاجر محمد افضل خان کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔8 جون کو سوپور میں جنگجوؤں نے پولیس کانسٹیبل منظور احمد ساکنہ بانڈی پورہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔14 جون کو کیلر شوپیان میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک شہری کو ہلاک کردیا جبکہ ہندواڑہ کے ایک جنگل میں دو جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔اسی روز وادی کو پونچھ کے ساتھ ملانے والی شاہراہ مغل روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت کو سرکار کی طرف سے ہری جھنڈی مل گئی۔20 جون کو حریت (گ) کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی نے اپنی ویب سائٹ کا افتتاح کیا ۔21 جون کو بھارت کے وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سرینگر کے پائین شہر کا دورہ کیا۔23 جون کو ڈوڈہ اور بانڈی پورہ میں فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 3 جنگجو ہلاک ہوگئے ۔ 27جون کو رٹھسن ترال میں ایک جھڑپ کے دوران ایک ہاتھ سے محروم ڈویژنل کمانڈر مظفر ملحہ اور اس کا ساتھی سہیل احمد جاں بحق ہوگیا جبکہ اسی روز نجون کنگن میں بندوق برداروں نے9 بچوں کے باپ کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔29 جون کو آرمپورہ سوپور میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ بمنہ سرینگر میں بندوق برداروں نے ایک پولیس انسپکٹر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔
جولائی
5 جولائی کو کرالہ پورہ ہندوارہ میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ اسی روزکوٹھی باغ تھانے سے وابستہ ایک وائرلیس آپریٹر نے دم توڑ دیا جو 29 جون کو نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں زخمی ہوا تھا ۔ 6 جولائی کو سوپور پولیس اسٹیشن پر پے در پے گرنیڈ حملوں میں 9 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔9 جولائی کو راجپورہ پلوامہ میں 2 جنگجو جاں بحق جبکہ اسی روز شام دیر گئے ترال کے ڈاڈہ سر علاقے میں ایک بارودی شل پھٹنے سے2 معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے۔اسی روزسوپور پولیس تھانے پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے دم توڑ دیا ۔15 جولائی کو میدان پورہ لولاب میں ایک خونریز جھڑپ کے دوران 5 جنگجو اور ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ۔20 جولائی کو امریکہ کی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے کشمیر نساد اور کشمیر امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام نبی فائی کو گرفتار کرلیا گیا ۔21 جولائی کو دمہال ہانجی پورہ میں ایک خاتون کی مبینہ عصمت ریزی کے خلا ف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔23 جولائی کو ہندوارہ میں 2 جنگجو مارے گئے جبکہ اسی روز ڈنگی وچھ سوپور میں ایک بارودی شل پھٹنے سے دو معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے۔24 جولائی کو سوپور میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک شہری کو ہلاک کیا اسی روز پونچھ میں ایک پاکستانی جنگجو کی لاش برآمد کی گئی۔26 جولائی کو پاکستان کے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نئی دلی پہنچ گئیں اور انہوں نے حریت(گ) کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی ،حریت (گ) کے سینئر لیڈر ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی کے علاوہ کئی علیحدگی پسند لیڈران سے ملاقات کی ۔27 جولائی کو مژھل سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کے دوران فوج کے دو جونئیر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) ہلاک ہوگئے اور شمالی قصبہ سوپور میں جنگجو ؤں نے ایک مزدور کو ہلا ک کیا۔29 جولائی کو راشن پورہ کپواڑہ اور ہائے ہامہ نوگام میں فوج کے ساتھ دو الگ جھڑپوں کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔30 جولائی کو پہلگام میں سڑک کے ایک حادثے کے دوران 12 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ اسی روز سابق ہائی کورٹ جج جسٹس یشپال نرگوترا کو جموں کشمیر احتساب کمیشن کے چیرمین نامزد کیا گیا۔31 جولائی کو سوپور میں ناظم رشید نامی نوجوان کی حراستی ہلاکت کا واقع پیش آیا ۔
اگست
3 اگست کو راجواڑ سیکٹر میں ایک جنگجو ماراگیا ۔4 اگست کوزچلڈارہ ہندوارہ، کشتواراورپلوامہ میں فوج کے ساتھ الگ الگ جھڑپوں میں 4 جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔5 اگست کو راجوارہ میں ایک فوجی اہلکار مارا گیا۔7 اگست کو کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں فوج نے دو جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ۔8 اگست کو سرنکوٹ میں ایک ذہنی مریض کو جھڑپ میں ہلاک کرکے عسکریت پسند جتلانے کا انکشاف ہوا جس کے بعد پولیس نے دو فوجی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ،اسی روز ہندواڑہ میں جھڑپ کے دوران لشکر ڈویژنل کمانڈر ابو عثمان مارا گیا ۔10 اگست کو دلی کے ایک عدالت نے چھٹی پورہ ، سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کے قتل کے الزام میں دو کشمیریوں کو بری کردیا۔11 اگست کو کپواڑہ میں ایک جنگجو مارا گیا۔13 اگست کو سالانہ امرناتھ یاترا اختتام پذیر ہوئی۔15 اگست کو کپواڑہ کے ایک جنگل میں حزب المجاہدین کے ایک ڈویژنل کمانڈر اور اس کے ساتھی کی بوسیدہ لاشیں برآمد کی گئی۔20 اگست کوگریز سیکٹر میں سال کی سب سے بڑی دراندازی کوشش کے دوران کشتیوں میں سوار 12 جنگجو اور فوج کا ایک لیفٹنٹ ہلاک ہوگیا ۔21 اگست کو پونچھ میں ایک جنگجو مارا گیاجبکہ اسی روز انسانی حقوق کی کمیشن کی جانب سے ریاست میں38 مقامات پر 2156 گمنام قبروں کا انکشاف کیا گیا ۔22 اگست کوہندوارہ میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔اسی روز ہندوارہ میں 2 جنگجو ہلاک ہوگئے۔25 اگست کو بٹہ مالو اور بارہمولہ میں دو گرنیڈ حملوں کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک مرغ فروش کو ہلاک کردیا ۔ 28 اگست کو وزیراعلیٰ نے عیدالفطر کے موقعہ پر2010 کی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران1200 واقعات میں ملوث نوجوانوں کے تمام کیسوں کو واپس لینے کا عام اعلان کیا ۔30اگست کو ماتری گام پلوامہ میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔
ستمبر
یکم ستمبر کو کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج کا ایک جے سی او اور پاکستانی فوج کے 3 اہلکار جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے ۔2 ستمبر کو ہندواڑہ میں جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوا۔3 ستمبر کو کپواڑہ میں ایک جنگجو ہلاک ہوا جبکہ اسی روز کانگو پلوامہ میں نامعلوم وردی پوش اہلکاروں نے رفیق حسین بنگرو کو مارپیٹ کرکے موت کی ابدی نیند سلادیا ۔7 ستمبر کو دلی ہائیکورٹ کے باہر ہوئے بم دھماکے میں11 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے ۔8 ستمبر کو دلی بم دھماکوں کے سلسلے میں کشتواڑ سے دو بھائیوں کو گرفتار کیا گیا ۔14 ستمبر کو چینی فوج نے لداخ میں کنٹرول لائن عبور کرکے بھارت کے فوجی بنکر اور آئی ٹی بی پی کے خیموں کو مسمار کردیا۔ اسی روز بٹہ پورہ سوپور میں جھڑپ کے دوران لشکرطیبہ کا ابویونی جاں بحق ہوگیا ۔15 ستمبر کو سنگرونی پلوامہ میں اغوا کئے گئے ایک رہاشدہ جنگجو نذیر احمد کی ذبح شدہ لاش جنگل سے برآمد ہوئی ۔17 ستمبر کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم بریسٹر سلطان محمد چودھری سرینگر پہنچے۔20 ستمبر کو میدان پورہ لولاب میں کباڑی کے سامان میں بارودی شل پھٹنے سے ایک کمسن طالب علم ہلاک جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ اسی روز سانبہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوا ۔27 ستمبر کو کرالہ کپواڑ ہ میں جھڑپ کے دوران دو ایس او جی اہلکار 3 فوجی اور 5 جنگجو مارے گئے۔30 ستمبرکو نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ طور کرائم برانچ کی حراست میں موت واقع ہوئی جس کے خلاف اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے زبردست ہنگامہ کیا اور اس کی ہلاکت کیلئے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ ناصر اسلم وانی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔
اکتوبر
2 اکتوبر کو کپواڑہ میں ایک جنگجو مارا گیا ۔3 اکتوبر کو کپواڑہ اور پلوامہ میں دو جنگجو مارے گئے۔ اسی روز وزارت دفاع نے سرینگر میں دفاعی اراضی سکنڈل کو طشت از بام کیا۔5 اکتوبر کو اکھنور میں ایک نامعلوم جنگجو مارنے کا فورسز نے دعویٰ کیا ۔6اکتوبر کو نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال کو پارٹی کا ترجمانی اعلیٰ مقرر کیا۔8 اکتوبر کو ڈوڑہ میں فوج کے ساتھ جھڑپ میں ایک جنگجو ہلاک ہوا ۔9 اکتوبر کو کنگن میں جھڑپ کے دوران دو جنگجو کمانڈر ہلاک ہوگئے۔12 اکتوبر کو پانپور کا دسویں جماعت کا طالب علم مظفر احمد جو گذشتہ عوامی ایجی ٹیشن کے دوران زخمی ہواتھا نے دم توڑ دیا ، اسی روز گاندربل میں 2 جنگجو مارے گئے۔ 15 اکتوبر کو حضرتبل میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے دم توڑ دیا ۔17 ستمبر کو پلوامہ میں ایک جنگجو مارا گیا ۔ 19 اکتوبر کو ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے کنن پوش کیس دوبارہ کھولنے اور از سرنو تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ۔21 اکتوبر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے زیون سرینگر میں ریاست میں افسپا کو جزوی طور ہٹانے کا اعلان کیا ۔ 23 اکتوبر کو گذشتہ عوامی ایجی ٹیشن کے دوران گولی لگنے کی وجہ سے پلہالن کے 25 سالہ جہانگیر احمد نے دم توڑ دیا۔25 اکتو بر کوسرینگر ، مائسمہ ،زینہ پورہ شوپیان میں مشتبہ جنگجوؤں نے فورسز کے 4 ٹھکانوں کونشانہ بنایا جس کے دوران 4 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔31 اکتوبر کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو تیسری بار پارٹی صدر منتخب کیا گیا ۔
نومبر
10 نومبر کو نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر مصطفی کمال کو ترجمان اعلیٰ کی مستعفی ہونے کی ہدایت دی ۔16 نومبر کو کشتواڑ جھڑپ کے دوران ایک جنگجوہلاک ہوا ۔17 نومبر کو کیلر شوپیان میں جھڑ پ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔18 نومبر کو ریاستی سرکار نے سید محمد یوسف قتل کی تحقیقات کیلئے ایک نفری سبکدوش جسٹس ایچ ایس بیدی کو جوڈیشل انکوائری کیلئے نامزد کیا ہے ۔20 نومبر کو تارزو سوپورہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک فارسٹر کو گولی مار ہلاک کردیا ۔23 نومبر کو پٹن میں ایک دکان پر ہوئے گرنیڈ دھماکے میں 2 افراد زخمی ہوئے ۔24 نومبر جموں میں بارودی سرنگ کی زد میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوگیا ۔اسی روز نامعلوم بندوق بردار نے نائد کھائے سمبل میں ایک سرکار نواز بندوق بردارکو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔25 نومبر کو ترال میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے ایک بلاک صدر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔
دسمبر
یکم دسمبر کو پائین شہر میں21 سال بعد فورسز نے فردوس سینما خالی کردیا ۔6 دسمبر کو شنگر پورہ پلوامہ میں جنگجو ؤں نے ایک ڈرائیور کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔11 دسمبر کو نامعلوم بندوق برداروں نے ریاستی وزیر علی محمد ساگر پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ اپنی بھتیجی کی سگائی کی تقریب میں شرکت کررہے تھے ، اس حملے میں وزیرموصوف کا ذاتی محافظ ہلاک اور دیگر 3 اہلکار زخمی ہوگئے ۔24 دسمبر کو بٹہ مالومیں اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے ایک بلاک صدر کو ہلاک کیا ۔25 دسمبر کو کولگام میں برادر کشی کے واقعے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اپنے 3ساتھیوں کو ہلاک کیا۔28 دسمبر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ لندن سے واپس لوٹ آئے ۔29 دسمبر کو وزیراعلیٰ نے شادی پورہ سمبل میں ایک پل کا افتتاح کیا ۔30 دسمبر کو پلوامہ میں ایک اور برادر کشی کے واقعے کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوگیا ۔
اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں مقامی خبر رساں ایجنسی سی این ایس سے بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔خدا کرے کہ 2012 عوام کی امیدوں اور امنگوں کے مطابق گزرے۔