<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:geo="http://www.w3.org/2003/01/geo/wgs84_pos#" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/"
	>

<channel>
	<title>Imtiyaz Khan</title>
	<atom:link href="http://imtiyazkhan.wordpress.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com</link>
	<description>Journalist-Conflict Ridden Kashmir</description>
	<lastBuildDate>Sun, 29 Jan 2012 12:26:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.com/</generator>
<cloud domain='imtiyazkhan.wordpress.com' port='80' path='/?rsscloud=notify' registerProcedure='' protocol='http-post' />
<image>
		<url>http://s2.wp.com/i/buttonw-com.png</url>
		<title>Imtiyaz Khan</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com</link>
	</image>
	<atom:link rel="search" type="application/opensearchdescription+xml" href="http://imtiyazkhan.wordpress.com/osd.xml" title="Imtiyaz Khan" />
	<atom:link rel='hub' href='http://imtiyazkhan.wordpress.com/?pushpress=hub'/>
		<item>
		<title>افسپا۔۔۔قتل عام کا لائسنس کب منسوخ ہوگا؟</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/28/afspasupereme-courtarmy-police-fake-encounter/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/28/afspasupereme-courtarmy-police-fake-encounter/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 15:19:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=914</guid>
		<description><![CDATA[سپریم کورٹ کی طرف سے فوج کو سرزنش کرنے کے بعد ریاست میں افسپا کو لیکر بحث میں پھر سے شدت آنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات سے ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے جواز پر سوالیہ نشان [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=914&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/supereme-court-of-india.gif"><img class=" wp-image-915 alignright" title="Supereme Court Of India" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/supereme-court-of-india.gif?w=135&#038;h=78" alt="" width="135" height="78" /></a>سپریم کورٹ کی طرف سے فوج کو سرزنش کرنے کے بعد ریاست میں افسپا کو لیکر بحث میں پھر سے شدت آنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات سے ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے جواز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پتھری بل فرضی جھڑپ میں فوج کے رول اور پھر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کو لیکر فوج کو لتاڑتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو ریاستی سرکار کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ عرصے سے عمر عبداللہ نے افسپا کے سلسلے میں یہ رخ اپنایا ہے کہ اب اس کڑے اور بے رحم قانون کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ حالانکہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام کسی بھی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ریاست کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں افسپا جیسے کالے قوانین کو نافذ کرکے مسلمانوں کے قتل عام کی راہیں کھول دی گئیں اور پھر فوج نے بھی اس کا بھرپور استعمال کیا اور سینکڑوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کرتوتوں کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی بھی تو اسے مذکورہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے خاموش کرایا گیا۔ کنن پوش پورہ جیسا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے باوجود وہ لوگ آزاد گھوم رہے ہیں جو اس واقعے میں ملوث تھے اور اس کا جواز بھی افسپا جیسے مکروہ قانون میں ڈھونڈ نکالا گیا۔ <span id="more-914"></span><br />
ادھر ریاست کی بھارت نواز سیاسی قیادت بھی کسی طرح سے اس گورکھ دھندے میں دودھ کی دھلی نہیں ہے۔ یہاں پر ببانگ دہل افسپا کے خلاف بولنے والے عملی طور پر وزارت داخلہ کو اس بارے میں ایک عدد عرضی بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔ چند روز پہلے وزارت داخلہ نے سرعام نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے جھوٹ کی پول کھول دی جب حق اطلاعات قانون کے تحت دی گئی ایک عرضی کے جواب میں اس نے واضح کیا کہ مذکورہ وزارت کو افسپا ہٹائے جانے کے سلسلے میں ریاست سے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔<br />
یاد رہے کہ پتھری بل’جھڑپ‘ کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب امریکی صدر بل کلنٹن کی بھارت آمد پر20 مارچ 2000ء کی شب جنوبی کشمیر کے چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ اقلیت کے35 سے زائد افراد کے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی اور محض پانچ روز بعد اس واقعہ کیلئے ذمہ دار’’ پانچ غیر ملکی عسکریت پسندوں‘‘ کو پتھری بل میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں مرکزی تفتیشی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جنگجو قرار دئے گئے پانچوں افراد در اصل عام کشمیری تھے۔یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مژھل ’جھڑپ‘ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا ’’شفافیت کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں کشمیر میں آرمی ہی جیوری اور ہینگ مین ہے‘‘۔ مژھل ’جھڑپ‘ کے بارے میں بھی ابتدائی پولیس تحقیقات سے پتہ چلا تھاکہ فوج نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو جنگجو قرار دے کر ایک فرضی جھڑپ میں ماراتھا۔ بھارتی فوج نے بھی کہا تھا کہ اس واقعے میں انہوں نے خود بھی تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔یاد رہے کہ شمالی ضلع کپواڑہ کے مژھل سیکٹر میں تین شہریوں کو فرضی جھڑپ میں قتل کر کے انہیں بھی غیرملکی مسلح جنگجو قرار دیا گیا تھا۔ لیکن پولیس کی طرف سے ان کی شناخت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بارہ مولہ کے نادی ہل علاقہ کے رہنے والے شفیع ، شہزاد اور ریاض نامی تین مزدور تھے، جنہیں ایک کشمیری مخبر نے فوجی افسر کو ’فروخت‘ کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پہلی مدت کے لئے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کشمیر کے اپنے پہلے دورے پر کہا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلے میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ ہوگی، لیکن تمام دعوے اور وعدے ایک طرف زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں۔7اگست2011 کو پولیس اور فوج نے پونچھ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مرہوٹ جنگل میں 12گھنٹے کی تصادم آرائی کے دوران پاکستانی عسکریت پسند ابوعثمان مارا گیا جولشکرطیبہ کا ڈویژنل کمانڈر تھا۔مقتول کی شناخت بعد میں اشوک کمار ولد چیت رام نامی ایک ہندو کے بطور ہوئی جو ریاسی کا رہنے والا تھا اور ذہنی مریض تھا۔جموں میں تعینات فوج کی سولہویں کور کے ترجمان کرنل ارورا نے اس وقت بتایا تھا کہ یہ آپریشن ایک پولیس اہلکار اور ایک فوجی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا تھااور مارے گئے شخص کی شناخت ہوتے ہی دونوں کو غیرمسلح کر کے گرفتار کرلیا گیا۔<br />
فرضی جھڑپوں اور حراستی ہلاکتوں کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد کشمیری عوام میں عام تاثر یہی ہے کہ ’فرضی جھڑپوں‘ کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نہ ہی چھٹی سنگھ پورہ میں 35سکھوں کے قتل عام میں ملوث اصل مجرمو ں کو پکڑا جا سکا ہے اور نہ اس واقعہ کے فقط چار روز بعد پتھری بل میں ایک فرضی جھڑپ کے دوران مارے گئے پانچ شہریوں کے قاتلوں کو سزا دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے افسپا اور اس کے اطلاق کے جواز پر ہی سوالیہ لگ جاتا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا کہ ’’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پتھری بل معاملے کے12سال بعد بھی ہم متعلقین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کو مد نظر رکھتے ہوئے متاثرین یہ کہنے میں پھرحق بجانب ہیں کہ عدالتی نظام پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گذشتہ12برسوں سے ہم ایک ایسے کیس میں انصاف فراہم نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی ملوثین کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لا سکے ہیں ،جس کے بارے میں سی بی آئی نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس معاملے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی سرزد ہوئی ہے۔<br />
فرضی جھڑپیں، حراستی گمشدگیاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں گذشتہ 22 برسوں سے کشمیر میں روز مرہ کا مشاہدہ گھر گھر کی کہانی اور گلی گلی کی داستان ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بستی بستی لوگوں کو اس قسم کی شکایتیں ہیں لیکن شہر ناپرساں جسے کشمیر کہتے ہیں میں طوطے کی آواز پر کون کان دھرتا ہے۔ البتہ 2007 میں فرضی جھڑپوں اور ہلاکتوں سے ڈرامائی انداز میں نقاب سرک گئی۔گاندربل میں کوکرناگ کے عبدالرحمان پڈر کے اہل خانہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں پولیس تھانوں ، چوکیوں اور فوجی و نیم فوجی کیمپوں کی خاک چھاننے کے بعد اتفاقیہ طور پر 2007 کے ابتدائی ایّام میں شادی پورہ (گاندربل) کی پولیس چوکی میں ایک ’’ہلاک شدہ پاکستانی جنگجو’’ کی تصویر کو دیکھ کر چونک گئے۔ تصویر کو دیکھ کر ہی عبد الرحمان کے والد 70 سالہ غلام رسول پڈر کو یقین ہوگیا کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے۔ ’’میں اندھا بھی ہوتا، تو بھی اپنے بچے کو پہچان لیتا‘‘ غلام رسول پڈر نے اخباری نمائندوں کو بتایا۔ یہ نقطہ آغاز تھااور اب تک کئی سارے واقعات میں ایسی نعشوں کو قبروں سے کھود نکالا گیا ہے، جنہیں فورسز نے فرضی جھڑپوں میں مار ڈالنے کے بعد پاکستانی جنگجو قرار دیا تھا۔ حد یہ ہے کہ گاندربل میں قبروں پر کتبے بھی لگائے گئے تھے جن میں ان کے نام اور پاکستان میں ان کی جائے سکونت بھی درج تھی۔ مثلاً عبدالرحمان پڈر کی قبر پر لگائے گئے کتبے میں ان کی شناخت یہ درج کی گئی تھی: ابو حافظ ساکن ملتان پاکستان۔<br />
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے حیرت انگیز طور پرسرکردہ انسانی حقوق کارکن اور قانون دان ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کی ہلاکت میں ملوث اشتہاری ملازم میجر اوتار سنگھ کو مطلوب ترین ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔میجر اوتار جو 35آر آر میں بلبل کے نام سے جانا جاتا تھا،نے8مارچ1996کو رام باغ علاقے میں نامور انسانی حقوق کارکن اور ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کود ن د ھاڑے اس وقت گرفتار کرلیا تھاجب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ماروتی گاڑی میں سوار ہو کر گھر کی طرف جا رہا تھا۔ فوج نے تاہم جلیل اندرابی کی گرفتاری سے ہی انکار کیا تھاجس کے دوران27مارچ کو ایڈو کیٹ جلیل اندرابی کی لاش راجباغ علاقے میں دریائے جہلم سے بر آمد کی گئی۔ذرائع کے مطابق 42سالہ ایڈو کیٹ جلیل اندرابی کو فوج نے حراست کے دوران سر میں گولی مار کر جاں بحق کیا تھااور اْن کی آنکھیں تک نوچ لی گئی تھیں۔چنانچہ ریاستی حکومت نے 4اپریل2011کو ایک خط زیر نمبرPros۔7/11کے تحت وزارت خارجہ سے اس بات کی اپیل کی کہ وہ میجر اوتار کی بھارت منتقلی کیلئے امریکہ میں قائم اپنے سفارتی دفتر کو متحرک کریں۔خارجہ وزارت کو مطلع کرنے کے با وجود ابھی تک ملزم کی گرفتاری یا بھارت حوالگی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں اور جب سے لیکر آج تک یہ کیس بھی لٹکا ہوا ہے۔واضح رہے کہ میجراوتار اس وقت امریکہ کے شہرکیلیفورنیا میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہے۔<br />
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’’ گذشتہ 22سال میں پولیس یا فورسز نے جھڑپوں کے بعد متعدد نوجوانوں کو پاکستانی جنگجو قرار دیا، عوام نے انہیں مذہبی رسوم کے مطابق دفن کیا لیکن کیا وہ واقعی پاکستانی تھے، اس پر کل بھی شک تھا، آج بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا وہ واقعی جنگجو بھی تھے، یا عبدالرحمان پڈر ہی کی طرح نہتے شہری تھے جنہیں پیسے اور پرموشن کی لالچ میں پولیس والوں نے ان کو فرضی جھڑپوں کے ڈرامے رچا کر مارڈالا۔فرضی جھڑپ ، فرضی نام اور فرضی سکونت لیکن زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ کشمیر یا اس سے باہر کسی بھی رجل رشید اور بھلے مانس نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جب پاکستانی جنگجو جاں بحق ہوجاتے ہیں تو ان کے نام ا ور دیگر تفصیلات کہاں سے نازل ہوتی ہیں؟ کیا وہ اپنا’ بیوڈاٹا’ یا ’سی وی ‘جیبوں میں لئے پھرتے ہیں!‘‘کیا فرضی جھڑپوں میں مارے گئے افراد واقعی پاکستانی تھے یا پھر کیا وہ واقعی جنگجو تھے؟ سوال اتنا ہی نہیں ہے، ایک مقامی قانون دان کہتے ہیں ’’ جنگجوؤں کو بھی حراست میں لینے کے بعد اس کو قانونی چارہ جوئی کے بغیر قتل کرنا ایک سنگین جرم ہے، جو سزا کا مستوجب ہے‘‘ ۔ معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جو کچھ سامنے آیا ہے، یہ محض نمونہ مشتے از خروارے یاTip of the Ice Bergکہا جاسکتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکاری طور پر بھی ایک ہزار سے زائد افراد کی ’’گمشدگی’’ کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ غیر کاری تنظیمیں اس تعداد کو10 ہزار کے آس پاس بتاتی ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، عوام کو اور گمشدہ افراد کے لواحقین کو اس بات کا حق ہے کہ انہیں صحیح صحیح صورت حال کی جانکاری دی جائے۔<br />
حراستی قتل اور فرضی جھڑپوں کے دوران جاں بحق کئے جانے کے خلاف وادی میں ہر بار عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار ہوتا رہا، احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں لیکن اس کے باوجود یہ مہیب اور خوفناک سلسلہ نہیں رک سکا ۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق نومبر 2002 سے حراستی ہلاکتوں اور فرضی جھڑپوں کے 173واقعات رونما ہوئے ہیں ۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/914/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/914/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=914&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/28/afspasupereme-courtarmy-police-fake-encounter/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/supereme-court-of-india.gif?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">Supereme Court Of India</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>سرمائی بحران کے سامنے حکومت بے بس</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/18/kashmirsrinagar-jammu-highwaygashpbpioc/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/18/kashmirsrinagar-jammu-highwaygashpbpioc/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 18 Jan 2012 14:03:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=909</guid>
		<description><![CDATA[یہ پہلی بار نہیں کہ وادی میں موسم سرما نے اپنے کڑے تیور دکھائے ہوں بلکہ ہر برس کی طرح امسال بھی اپنے ہی وقت پر دستک دی جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔رواں جاڑے کو تاہم جموں کشمیر کی تاریخ میں اسلئے ہمیشہ یادکیا جائے گا کہ ابھی برفباری شروع بھی نہیں ہوئی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=909&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/gas.jpg"><img class="size-thumbnail wp-image-910 alignright" title="gas" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/gas.jpg?w=150&#038;h=93" alt="" width="150" height="93" /></a>یہ پہلی بار نہیں کہ وادی میں موسم سرما نے اپنے کڑے تیور دکھائے ہوں بلکہ ہر برس کی طرح امسال بھی اپنے ہی وقت پر دستک دی جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔رواں جاڑے کو تاہم جموں کشمیر کی تاریخ میں اسلئے ہمیشہ یادکیا جائے گا کہ ابھی برفباری شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ وادی میں اندھیرا چھاگیا اورضروری اشیاء ناپید ہوگئے ۔ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد شاہراہ ’ سرینگر جموں شاہراہ ‘بند ہوگئی اور یوں بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کو کشمیری عوام کیلئے’ رگِ حیات‘ کی اہمیت حاصل ہے ۔ اس ساری صورتحال نے صوبائی انتظامیہ کے دعوؤں کی پول کھول دی کیونکہ ہر سال کی طرح جاڑے سے قبل نیوزکانفرنسوں اور بیانات میں اس عزم کو دہرایا گیاتھا کہ ’ ضروری اشیاء کا وافر اسٹاک موجود ہے‘۔<span id="more-909"></span>فوج،فضائیہ اور دیگر اداروں کی مدد کے بعد جوں توں کرکے بجلی کی سپلائی تو کئی روز بعد بحال کی گئی البتہ ضروری اشیاء بالخصوص رسوئی گیس کی عدم دستیابی نے وادی کے عوام کو انتہائی پریشان کردیا ہے ۔اس پر طرہ یہ کہ زخموں پر مرہم کرنے کے بجائے ریاستی سرکار نے اس سال ایک نیا قدم اٹھایا کہ 15 کلو کے گیس سلینڈر میں صرف 5 کلو ہی فراہم کئے جائیں گے۔ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے وزیر قمرعلی آخون کے مطابق ’پانچ کلو گیس کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ ہرگھر میں چولہا جلے‘۔سرکاری ذرائع سے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق وادی میں فی الوقت انڈین اوئل کارپوریشن(آئی او سی) کے 1,25000صارفین ہیں جبکہ ہندوستان پیٹرولیم(ایچ پی) کے ساڑھے6لاکھ اور بھارت پیٹرولیم (بی پی)کے 60ہزار صارفین ہیں ۔باوثوق ذرائع کے مطابق ان تینوں کمپنیوں کے پاس وادی میں فی الوقت کوئی اسٹاک موجود نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر میں قائم ہندوستان پیٹرولیم کے رِی فلنگ پلانٹ سے صرف بارہ ہزار سلنڈر بھرے جا سکتے ہیں جبکہ صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مذکورہ فلنگ اسٹیشن بھی خالی ہونے کے قریب ہے۔وادی کے ایک مؤقر روزنامہ سے وابستہ مسعود الحسن نے اسٹاک پوزیشن کی صورتحال پر سرکاری اعداد وشمار کو محض لوگوں کو بہلانے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا’’سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ سرینگر جموں شاہراہ بند ہوتے ہی وادی میں ضروری اشیاء خاص کر گیس کی قلت کیوں پیدا ہوجاتی ہے جبکہ لداخ ایک ایسا خطہ ہے جس کا 6 ماہ تک بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ جاتا ہے وہاں گیس کی قلت نہیں ہوتی‘‘۔واضح رہے کہ لداخ صوبے میں6ماہ کیلئے ضروری اشیا ء کا سٹاک کیا جاتا ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق لداخ صوبے میں فی الوقت 80ہزارگیس سلنڈرموجود ہیں لیکن کشمیر میں اس وقت ایک لاکھ گیس سلنڈروں کی ضرورت کے باوجود صرف5سے10ہزار تک ہی گیس سلنڈر موجود ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ اب انتظامیہ نے محض5کلو گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے صارفین میں مزید پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔عوامی حلقے اس تازہ اعلان کو انتظامیہ کی ناکامی اور نااہلی سے تعبیر کررہے ہیں۔عوامی حلقے شائد یہ کہنے میں بجا ہیں کیونکہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اور ہوٹل و ریستورانوں میں ہر جگہ گھریلو گیس سلنڈروں کا استعمال جاری و ساری ہے تو پھر یہ نیا حکمنامہ کیا فقط عوام کیلئے ہی ہے۔ جاوید احمد وانی نامی ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ’ سرکاری مشینری کی اب یہ عادت بن چکی ہے کہ ہر سال سرما کے دوران برف باری کی وجہ سے جب پورا نظام مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے تو پھر عوام کا جائز غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے حیلے او ر بہانے تراشے جاتے ہیں‘۔جاوید کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انتظامیہ کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود کشمیری عوام کو ہر برس موسم سرما کی مار جھیلنا پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس صورتحال پرپٹرولیم کمپنیوں کو مورد الزام ٹھہرا کرپورے معاملے سے پلو جاڑ لیاہو لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرکے وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہوسکتے ہیں۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/909/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/909/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=909&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/18/kashmirsrinagar-jammu-highwaygashpbpioc/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2012/01/gas.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">gas</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>پرامن سال کا نعرہ کھوکھلا</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/02/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81-%da%a9%da%be%d9%88%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/02/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81-%da%a9%da%be%d9%88%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 02 Jan 2012 15:57:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=906</guid>
		<description><![CDATA[حقوق البشر کی تنظیم نے حقائق منظر عام پر لائے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم ایک معروف تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے سال 2011کے دوران ہوئی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2011کو پرامن سال تعبیر کرنے کا جو سرکاری بیان منظر عام پر [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=906&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong>حقوق البشر کی تنظیم نے حقائق منظر عام پر لائے</strong><br />
جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم ایک معروف تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے سال 2011کے دوران ہوئی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2011کو پرامن سال تعبیر کرنے کا جو سرکاری بیان منظر عام پر آیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق’’سال2011 میں 6خواتین ،11طالب علم ،100جنگجو،71 فورسز اہلکار،6عدم شناخت افراداور8سیاسی لیڈر وکارکنان سمیت 233افراد مارے گئے جبکہ مبینہ حراستی وفرضی جھڑپوں کے دوران 7افراد کو فورسز نے ابدی نیند سلا دیا ‘‘۔واضح رہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سال2011کو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پرامن سال قرار دیا ہے ۔<span id="more-906"></span><br />
جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نامی اس ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں مختلف عسکری و غیر عسکری کاروائیوں میں 233افراد کی موقت واقع ہوئی جن میں6خواتین اور11طالب علم بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہوئے11طالب علموں میں7کم عمر بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’ 233افراد میں سے 56عام شہری وسیاسی کارکن اورلیڈر شامل ہیں جبکہ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئی مختلف معرکہ آرائیوں کے دوران100جنگجو جاں بحق ہوئے‘‘۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں 71فورسز اہلکاروافسران بھی لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایسے 6افراد بھی مختلف واقعات کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن کی شناخت نہیں ہوگئی ۔ جے کے سی سی ایس نامی اس ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا ہے کہ ذہنی دباؤ کے نتیجے میں 15فورسز اہلکارنے مختلف خودکشی واقعات کے دوران جان گنوا دی جبکہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر فورسز اہلکاروں نے ایک دوسرے پر بندوقیں تان لیں جس کے نتیجے میں 9اہلکاروں لقمہ اجل بن گئے ۔رپورٹ کے مطابق مختلف واقعات کے دوران 8سیاسی لیڈر و کارکنان کی موت واقع ہوئی جن میں 4کا تعلق برسراقتدارنیشنل کانفرنس تنظیم سے تھا،2 کانگریس پارٹی اور1 سیاسی کارکن کا تعلق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی) کے ساتھ تھا جبکہ سیاسی لیڈران میں جمعیت اہلحدیث کے صدر مولوی شوکت احمد شاہ کو بھی جاں بحق کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ پولیس نے مولوی شوکت احمد شاہ قتل کیس کے سلسلے میں فوری طور پر تحقیقات کر کے ملزمان کو حراست میں لیا تاہم دیگر سیاسی کارکنان کی ہلاکت میں ملوث افراد کو ابھی تک قانون کے شکنجے میں نہیں لایا گیا ،اسطرح انصاف کے تقاضوں کو پُر کرنا ابھی باقی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں زندہ بارودی شل پھٹ جانے کے نتیجے میں 8افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر کمسن بچوں کی تعداد تھی جبکہ ایک شخص کی موت بارودی سرنگ دھماکے کی وجہ سے واقع ہوئی۔ مذکورہ ادارے نے حکومت کی طرف سے مختلف مواقع پر تحقیقاتی اعلانات پر کہا ہے کہ سال 2003سے لیکر 2011تک ریاستی سرکار نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے 151تحقیقاتی احکامات صادر کئے تاہم ابھی تک ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق ’شمالی کشمیر کے ناظم رشید ساکن سوپور کی حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حق اطلاعات قانون کے تحت جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم نہیں کئے ‘۔ مذکورہ ادارے نے گمنام قبروں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستی حقوق کمیشن نے گمنام قبروں پر مہر ثبت کر کے انٹر نیشنل پیپلز ٹریبونل فار ہیومن رائٹس اینڈجسٹس (آئی پی ٹی کے) کی تحقیقات کو صحیح ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ آئی پی ٹی کے نے 2008سے ہی جموں کشمیر میں گمنام قبروں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔حقوق البشر کیلئے سرگرم عمل اس حوالے سے کہا ہے کہ 2011 میں انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے میں ایک فائل پیش کی تاہم اس حساس معاملے پر کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سال 2011کے دوران بھی عام شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا، ٹنل کے آر پار مزید 2افراد لاپتہ ہوئے جن میں سشیل رینا ساکن عشمقام اسلام آباد اور نثار احمد بانڈے ساکنہ بانہال شامل ہیں۔ جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی کے مطابق یہ اعدادوشمار صاف ظاہر کررہے ہیں کہ ریاست سال2011میں کس قدرامن قائم رہا۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/906/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/906/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=906&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2012/01/02/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81-%da%a9%da%be%d9%88%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>سال 2011: شیرین وتلخ یادوں کے ساتھ رخصت</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/31/2011-new-year-2012jammu-kashmirindia-militancy-forces/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/31/2011-new-year-2012jammu-kashmirindia-militancy-forces/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Dec 2011 10:23:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=900</guid>
		<description><![CDATA[سال2011 ۱پنی تمام شیرین وتلخ یادیں چھوڑ کر الوداع کہہ گیا۔ اس سال کا اگراجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سال بھی جموں کشمیر کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔2010 کے غموں اور رنجشوں کو بھلا کر2011 سے نئی امیدیں باندھ کر اس کا خیر مقدم کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=900&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong></strong><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/12/20111.jpg"><img class=" wp-image-902 alignright" title="2011" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/12/20111.jpg?w=135&#038;h=96" alt="" width="135" height="96" /></a>سال2011 ۱پنی تمام شیرین وتلخ یادیں چھوڑ کر الوداع کہہ گیا۔ اس سال کا اگراجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سال بھی جموں کشمیر کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔2010 کے غموں اور رنجشوں کو بھلا کر2011 سے نئی امیدیں باندھ کر اس کا خیر مقدم کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا لیکن رخصت ہونے و الے اس سال نے بھی ان مایوسیوں سے عوام کا دامن بھردیا ۔روٹی ، کپڑا اورمکان فراہم کرنے والے حکمرانوں کے دعوے حسب سابقہ سراب ثابت ہوئے۔ریاست میں سینکڑوں افراد نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا رہے۔سال2010کے مقابلے میں اگرچہ 2011 قدرے پر امن رہا تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوران 179 ہلاکتیں ہوئیں جن میں97 جنگجو،5 خواتین ،8 معصوم بچے، 47 عام شہری اور 35 فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اس سال جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا شوکت احمد شاہ کا قتل ،حزب اقتدار کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی کرائم برانچ میں ہوئی پر اسرار ہلاکت ، پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی شمولیت ،وادی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑاریل حادثہ، بغیر ڈرائیور ریل کا 40 کلومیٹر مسافت طے کرنااورریاست کے ایک سینئر وزیر پر حملہ جیسے کئی ہنگامہ خیز واقعات رونما ہوئے۔<span id="more-900"></span><br />
جنوری<br />
یکم جنوری کو صوبہ جموں کے گول رام بن علاقے میں جنگجوؤں اور فوج کے مابین ایک خونین جھڑپ میں ٹریٹوریل آرمی کے 2اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ 4جنوری کوسرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں جنگجوؤں نے ایس ایچ او بٹہ مالو کی نجی کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مذکورہ ایس ایچ او کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا۔ 5جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی یوتھ ونگ نے لالچوک میں 26 جنوری کو ترنگا لہرانے کا اعلان کیا۔ جنوری کی26تاریخ کو ہی کپواڑہ کے مضافاتی جنگل آمن کھرہامہ ورنو میں فوج کے ہاتھوں ایک نامعلوم شخص جاں بحق ہوگیا ۔ 10 جنوری لداخ خطے میں موٹرسائیکلوں پر سوار چینی افواج نے کنٹرول لائن عبور کرکے ایک مسافر شیڈ کو مسمار کردیا۔ 21جنوری کوسرحدی حفاظتی فورس( بی ایس ایف) نے جموں کے اکھنور سیکٹر میں ایک درانداز کومارنے کا دعویٰ کیا ۔ 24جنوری کو جنگجوؤں نے شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں قائم سی آر پی ایف کی 179ویں بٹالین پر فائرنگ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔27 جنوری کوجی آر صوفی ریاست کے چیف انفارمیشن کمشنر نامزد ہوئے ۔ 31جنوری کو سوپور کے ہی مسلم پیر علاقے میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے 2سگی بہنوں عارفہ اور اختر دختران غلام نبی ڈار کو اغوا کر نے کے بعد قتل کیا۔اسی روزسینئر آئی اے ایس آفیسر مادھو لعل نے ریاستی چیف سکریٹری کا عہد ہ سنبھالا۔<br />
فروری<br />
2فروری کو سوپور میں نامعلوم جنگجوؤں نے کانگریس لیڈر غلام رسول کار کی رہائش گاہ پر رائفل گرینڈ وں سے حملہ کردیا۔ اسی روز ترال میں فوج کی ایک گشتی پارٹی پر جنگجوؤں نے زبردست فائرنگ کی ۔4فروری کو ہندوارہ میں رات دیر گئے فوج کی 4پیرا کے اہلکاروں نے 21سالہ نوجوان منظو راحمد ماگرے ولد غلام احمد ساکن گنڈ چوگل کو گولی مار کرموت کے گھاٹ اتاردیا۔ 8فروری کو رام بن میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان خونین جھڑپ میں 10برسوں سے سرگرم حزب المجاہدین نامی عسکری جماعت کے ڈویژنل کمانڈر عبدالرشید نائک عرف قاری زبیر اور مشتاق احمد جاں بحق ہوگئے ۔اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک مرغ فروش سمیت 2افراد کو گولی مار کر زخمی کردیا ۔9 فروری کو حکومت نے پنچایتی چناؤ کرانے کا اعلان کیا ۔10 فروری کو اسلامی ممالک کی بین الاقوامی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے او آئی سی کے ایجنڈے میں کشمیر سر فہرست رکھنے کا اعلان کیا ۔11 فروری کو بے جی پی کے کارکنوں نے بھارت کے شہر اجمیر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک پر پتھرا ؤ کیا ۔ 13فروری کو سرینگر کے مضافاتی علاقے ملورہ میں ایک خوفناک دھماکے میں3بھائی بہن، 14سالہ نور محمد ، 8سالہ بسمہ مقبول اور 4سالہ مسکان دختران محمد مقبول بٹ داعی اجل کو لبیک کہہ ہوگئے ۔ 15فروری کو جنگجوؤں نے سوپور میں پلازہ ہوٹل کے باہر قائم سی آر پی ایف 174بٹالین کے بنکر پر ہتھ گولہ پھینکا ۔ 16فروری کو وانگورہ بارہمولہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے محمد اکبر نامی شہری کے مکان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اسکی 2معصوم بچیاں 16سالہ شائستہ اور 8سالہ مومنہ زخمی ہوئیں ۔17فروری کو سوپور کے وار پورہ علاقے میں جنگجوؤں نے ایک پولیس پوسٹ اور کورٹ روڑ پر واقع فوج کے کیمپ پر یکے بعد دیگر گرینڈ حملے کردئیے ،اسی روز پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ہندوپاک افواج کے درمیان گولی باری ہوئی جبکہ حاجن سونا واری میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس ورکر غلام حسن ڈار کو گولی مار کر ابدی نیند سلادیا ۔18 فروری کوبھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات واپس لینے کے ریاستی مطالبے کو مستردکردیا ۔ 19فروری کو وار پورہ سوپور میں جنگجوؤں نے خودکار ہتھیاروں سے ایک پولیس پارٹی کونشانہ بنایا تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔24 فروری کو پلوامہ کے قلم پورہ راجپورہ میں جنگجو فورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہوگئے ۔27 فروری کو کاکہ پورہ قاضی گنڈ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک ٹپر ڈرائیور محمد ایوب وانی پر گولی چلاکر اسے ہلاک کردیا ۔28 فروری کو جموں میں ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا ۔اسی روز کریری پٹن میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک سابق جنگجو نذیر احمد لون کو گولی مارکر ہلاک کردیا جبکہ بٹہ مالو میں ایک گرنیڈ حملے میں ایک ایگزیکٹیو انجینئر اور ایک پولیس آفیسر سمیت4 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں ایگزیکٹیو انجینئر شکیل احمد ساکن بال گارڈن اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔<br />
مارچ<br />
2 مارچ کو ڈاڈہ سر ترال میں جنگجو اور فورسز کے مابین فائرنگ کے ایک واقع میں شبیر احمد نامی ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔3 مارچ کو پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی نے ڈپٹی سپیکر کے عہدے سے مستعفی ہوئے ۔7 مارچ کولگام میں نامعلوم افراد نے دو پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرکے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی اور ان کا اسلحہ چھین لیا۔ اسی روز شام کو وانہ بل نوگام میں جنگجو ؤں نے ریل پٹری کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی ۔9 مارچ کو جموں کے سانبہ سیکٹر میں ایک پاکستانی جنگجومارا گیا ۔10 مارچ کو پولیس نے سرینگر کے فور شو روڈ پر جیش محمد کے 2 جنگجوؤں سجاد افغانی اور عمر بلال کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ اسی روز کپواڑہ میں ایک بارودی شل پھٹنے سے تین کم سن بھائی بہن زخمی ہوگئے۔12 مارچ کو سوپور اور شوپیان میں دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران 3 جنگجوجاں بحق ہوئے۔13 مارچ کو کرال ٹینگ سوپور میں جھڑ پ کے دوران ایک مقامی جنگجو وسیم احمد جاں بحق ہوگیا جبکہ اسی روز ہاتھی شاہ سوپور میں ایک بنکر پر ہتھ گولہ پھینکا گیا ۔14 مارچ کو پنچایتی انتخابات کیلئے تاریخوں کا اعلان کیا گیا ۔17 مارچ کو شہر سرینگر میں بارہ فورسز بنکر ہٹائے گئے ۔19مارچ کو کیلر شوپیان میں جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک جبکہ دوسرا فرار ہوگیا۔20 مارچ کو رعناواری سرینگر میں ایک گرنیڈ دھماکے میں 4 فورسز اہلکار زخمی ہوگئے ۔21 مارچ کو سوپور میں جنگجوؤں نے ایک اسٹنٹ انسپکٹر کو گولی مارکر زخمی کردیا ۔23 مارچ کو پی ڈی پی کے ممبراسمبلی بانڈی پورہ نظام الدین بٹ نے وزیراعلیٰ کے خلاف لگائے گئے رشوت ستانی کے الزامات کو واپس لیتے ہوئے ان سے معذرت طلب کی ۔24 مارچ کوایجی ٹیشن 2010 کے دوران زخمی ہونے والی ایک خاتون حنیفہ دختر غلام حسن وانی ساکن کریر ی نے دم توڑ دیا ۔28 مارچ کو سوپور میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک پاکستانی جنگجوابو طلحہ مارا گیا۔30 مارچ کو پنگلش ترال میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے حلقہ صدر غلام محی الدین بٹ کو ہلاک کیاجبکہ اس حملے میں اس کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئیں ۔<br />
اپریل<br />
3 اپریل کو کیلر شوپیان میں ایک جنگجو مارا گیا ۔5 اپریل کوڈاڈہ سر ترال میں جھڑپ کے دوران ایک فوجی اور ایک پولیس اہلکار کے علاوہ ایک مقامی جنگجو بھی ماراگیا جبکہ اسی شام حول سرینگر میں ایک گرنیڈ حملہ بھی ہوا ۔8 اپریل کو مائسمہ گاؤکدل سرینگر میں بعد دوپہر ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں جمعیت اہلحدیث صدر مولانا شوکت احمد شاہ جاں بحق ہوئے ۔12 اپریل کو اکھنور میں ایک بارودی شل پھٹنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے ۔15 اپریل کو پکھر پورہ چرار شریف میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک خاتون پنچایتی امیدوار کر ہلاک کردیا ۔اسی روز لال پورہ کپواڑہ میں فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوگیا تاہم لوگوں نے اسے ایک عام شہری بتاکر احتجاجی مظاہرے کئے ۔<br />
17 اپریل کو ایک حیران کن واقعے میں جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ ریلوے اسٹیشن سے ریل نے بغیر کسی ڈرائیور کے 40 کلو میٹر تک مسافت طے کئے اور بعد میں خود بخود رک گئی ۔20 اپریل کو دلی کے نامزد مذاکراتکار حریت کانفرنس (ع) کے لیڈرمولانا عباس سے ملاقی ہوئے جس کے بعد اسے حریت (ع) کی رکنیت سے معطل کیا گیا۔اسی روز کراسنگ ووٹنگ کے مرتکب بی جے پی کے7 اراکین معطل کئے گئے ۔24 اپریل کو رام بن بانہال میں ایک جنگجو اور ایک فوجی اہلکار جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔ اسی روز اچھ بل سوپور سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ حافظ قرآن محمد اشرف لون کی لاش کریری بارہمولہ سے برآمد کی گئی ۔25 اپریل کو آزاد گنج بارہمولہ میں پتھراؤ کی زد میں آکر ایک ایس آر ٹی ڈرائیور زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔اسی روز شہر سرینگر کے نوگام علاقے میں نا معلوم اسلحہ برداروں کے حملے میں پولیس کے 2 کانسٹیبل ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ 30اپریل کو ایندر پلوامہ میں جنگجو دو فوجیوں کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہوگئے جبکہ اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے شمس الدین میر نامی ایک شخص پر گولیاں چلا کر اسے ہلاک کردیا ۔<br />
مئی<br />
3مئی کو ادھمپور میں ایک کار بم دھماکے میں ایک دودھ فروش ہلاک جبکہ راجوری میں بی ایس ایف کی فائرنگ میں ایک عام شہر کی موت واقع ہوئی ۔5 مئی کو راجوری کے نوشہرہ میں بارودی سرنگ دھماکے میں فوج کا ایک میجر ہلاک ہوگیا ۔12 مئی کو لولاب کپواڑہ میں جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک فوجی حوالدار ہلاک ہوگیا ۔16 مئی کو سوپور کے زالورہ علاقے میں ایک جھڑ پ کے دوران ابو حنزلہ جاں بحق ہوا جبکہ کشتواڑ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک کانگریس لیڈر کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کردیا ۔23 مئی کو پونچھ میں جھڑپ کے دوران ایک لشکر کمانڈر ہلاک ہوگیا ۔24 مئی کو ہندوارہ کے لربل علاقے میں جھڑپ کے دوران 2 جنگجو جاں بحق ہوگئے۔26 مئی کو کیلر شوپیان میں جھڑپ کے دوران دو جنگجو لقمۂ اجل بن گئے اور دو رہاشی مکان زمین بوس ہوگئے ۔27 مئی کو نوپورہ سوپور میں فوج کے ساتھ جھڑپ میں دو پاکستانی جنگجو مارے گئے جبکہ اسی روز راجوارہندوارہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک شہری کے مکان میں داخل ہو کر اس کے بیٹے منظور احمد میر کو ہلا ک کیا ۔28 مئی کو انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا کو پولیس نے سرینگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔29 مئی کو اکھنور میں ایک نوجوان شلنگ کے دوران ہلاک ہوگیا ۔<br />
جون<br />
یکم جون کو حریت کانفرنس (ع) نے اتحاد مسلمین کی رکنیت بحال کی جبکہ اسی روز پروفیسر طلت نے دانشگاہ کشمیر کے نئے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا ۔3 جون کو نسیم باغ سوپور میں 3 جنگجو مارے گئے ۔6 جون کو پریس کالونی سرینگر کے نزدیک سوپور کے ایک تاجر محمد افضل خان کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔8 جون کو سوپور میں جنگجوؤں نے پولیس کانسٹیبل منظور احمد ساکنہ بانڈی پورہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔14 جون کو کیلر شوپیان میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک شہری کو ہلاک کردیا جبکہ ہندواڑہ کے ایک جنگل میں دو جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔اسی روز وادی کو پونچھ کے ساتھ ملانے والی شاہراہ مغل روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت کو سرکار کی طرف سے ہری جھنڈی مل گئی۔20 جون کو حریت (گ) کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی نے اپنی ویب سائٹ کا افتتاح کیا ۔21 جون کو بھارت کے وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سرینگر کے پائین شہر کا دورہ کیا۔23 جون کو ڈوڈہ اور بانڈی پورہ میں فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 3 جنگجو ہلاک ہوگئے ۔ 27جون کو رٹھسن ترال میں ایک جھڑپ کے دوران ایک ہاتھ سے محروم ڈویژنل کمانڈر مظفر ملحہ اور اس کا ساتھی سہیل احمد جاں بحق ہوگیا جبکہ اسی روز نجون کنگن میں بندوق برداروں نے9 بچوں کے باپ کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔29 جون کو آرمپورہ سوپور میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ بمنہ سرینگر میں بندوق برداروں نے ایک پولیس انسپکٹر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔<br />
جولائی<br />
5 جولائی کو کرالہ پورہ ہندوارہ میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ اسی روزکوٹھی باغ تھانے سے وابستہ ایک وائرلیس آپریٹر نے دم توڑ دیا جو 29 جون کو نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں زخمی ہوا تھا ۔ 6 جولائی کو سوپور پولیس اسٹیشن پر پے در پے گرنیڈ حملوں میں 9 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔9 جولائی کو راجپورہ پلوامہ میں 2 جنگجو جاں بحق جبکہ اسی روز شام دیر گئے ترال کے ڈاڈہ سر علاقے میں ایک بارودی شل پھٹنے سے2 معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے۔اسی روزسوپور پولیس تھانے پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے دم توڑ دیا ۔15 جولائی کو میدان پورہ لولاب میں ایک خونریز جھڑپ کے دوران 5 جنگجو اور ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ۔20 جولائی کو امریکہ کی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے کشمیر نساد اور کشمیر امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام نبی فائی کو گرفتار کرلیا گیا ۔21 جولائی کو دمہال ہانجی پورہ میں ایک خاتون کی مبینہ عصمت ریزی کے خلا ف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔23 جولائی کو ہندوارہ میں 2 جنگجو مارے گئے جبکہ اسی روز ڈنگی وچھ سوپور میں ایک بارودی شل پھٹنے سے دو معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے۔24 جولائی کو سوپور میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک شہری کو ہلاک کیا اسی روز پونچھ میں ایک پاکستانی جنگجو کی لاش برآمد کی گئی۔26 جولائی کو پاکستان کے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نئی دلی پہنچ گئیں اور انہوں نے حریت(گ) کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی ،حریت (گ) کے سینئر لیڈر ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی کے علاوہ کئی علیحدگی پسند لیڈران سے ملاقات کی ۔27 جولائی کو مژھل سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کے دوران فوج کے دو جونئیر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) ہلاک ہوگئے اور شمالی قصبہ سوپور میں جنگجو ؤں نے ایک مزدور کو ہلا ک کیا۔29 جولائی کو راشن پورہ کپواڑہ اور ہائے ہامہ نوگام میں فوج کے ساتھ دو الگ جھڑپوں کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔30 جولائی کو پہلگام میں سڑک کے ایک حادثے کے دوران 12 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ اسی روز سابق ہائی کورٹ جج جسٹس یشپال نرگوترا کو جموں کشمیر احتساب کمیشن کے چیرمین نامزد کیا گیا۔31 جولائی کو سوپور میں ناظم رشید نامی نوجوان کی حراستی ہلاکت کا واقع پیش آیا ۔<br />
اگست<br />
3 اگست کو راجواڑ سیکٹر میں ایک جنگجو ماراگیا ۔4 اگست کوزچلڈارہ ہندوارہ، کشتواراورپلوامہ میں فوج کے ساتھ الگ الگ جھڑپوں میں 4 جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔5 اگست کو راجوارہ میں ایک فوجی اہلکار مارا گیا۔7 اگست کو کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں فوج نے دو جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ۔8 اگست کو سرنکوٹ میں ایک ذہنی مریض کو جھڑپ میں ہلاک کرکے عسکریت پسند جتلانے کا انکشاف ہوا جس کے بعد پولیس نے دو فوجی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ،اسی روز ہندواڑہ میں جھڑپ کے دوران لشکر ڈویژنل کمانڈر ابو عثمان مارا گیا ۔10 اگست کو دلی کے ایک عدالت نے چھٹی پورہ ، سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کے قتل کے الزام میں دو کشمیریوں کو بری کردیا۔11 اگست کو کپواڑہ میں ایک جنگجو مارا گیا۔13 اگست کو سالانہ امرناتھ یاترا اختتام پذیر ہوئی۔15 اگست کو کپواڑہ کے ایک جنگل میں حزب المجاہدین کے ایک ڈویژنل کمانڈر اور اس کے ساتھی کی بوسیدہ لاشیں برآمد کی گئی۔20 اگست کوگریز سیکٹر میں سال کی سب سے بڑی دراندازی کوشش کے دوران کشتیوں میں سوار 12 جنگجو اور فوج کا ایک لیفٹنٹ ہلاک ہوگیا ۔21 اگست کو پونچھ میں ایک جنگجو مارا گیاجبکہ اسی روز انسانی حقوق کی کمیشن کی جانب سے ریاست میں38 مقامات پر 2156 گمنام قبروں کا انکشاف کیا گیا ۔22 اگست کوہندوارہ میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔اسی روز ہندوارہ میں 2 جنگجو ہلاک ہوگئے۔25 اگست کو بٹہ مالو اور بارہمولہ میں دو گرنیڈ حملوں کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ اسی روز سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک مرغ فروش کو ہلاک کردیا ۔ 28 اگست کو وزیراعلیٰ نے عیدالفطر کے موقعہ پر2010 کی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران1200 واقعات میں ملوث نوجوانوں کے تمام کیسوں کو واپس لینے کا عام اعلان کیا ۔30اگست کو ماتری گام پلوامہ میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔<br />
ستمبر<br />
یکم ستمبر کو کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج کا ایک جے سی او اور پاکستانی فوج کے 3 اہلکار جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے ۔2 ستمبر کو ہندواڑہ میں جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوا۔3 ستمبر کو کپواڑہ میں ایک جنگجو ہلاک ہوا جبکہ اسی روز کانگو پلوامہ میں نامعلوم وردی پوش اہلکاروں نے رفیق حسین بنگرو کو مارپیٹ کرکے موت کی ابدی نیند سلادیا ۔7 ستمبر کو دلی ہائیکورٹ کے باہر ہوئے بم دھماکے میں11 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے ۔8 ستمبر کو دلی بم دھماکوں کے سلسلے میں کشتواڑ سے دو بھائیوں کو گرفتار کیا گیا ۔14 ستمبر کو چینی فوج نے لداخ میں کنٹرول لائن عبور کرکے بھارت کے فوجی بنکر اور آئی ٹی بی پی کے خیموں کو مسمار کردیا۔ اسی روز بٹہ پورہ سوپور میں جھڑپ کے دوران لشکرطیبہ کا ابویونی جاں بحق ہوگیا ۔15 ستمبر کو سنگرونی پلوامہ میں اغوا کئے گئے ایک رہاشدہ جنگجو نذیر احمد کی ذبح شدہ لاش جنگل سے برآمد ہوئی ۔17 ستمبر کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم بریسٹر سلطان محمد چودھری سرینگر پہنچے۔20 ستمبر کو میدان پورہ لولاب میں کباڑی کے سامان میں بارودی شل پھٹنے سے ایک کمسن طالب علم ہلاک جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ اسی روز سانبہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوا ۔27 ستمبر کو کرالہ کپواڑ ہ میں جھڑپ کے دوران دو ایس او جی اہلکار 3 فوجی اور 5 جنگجو مارے گئے۔30 ستمبرکو نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ طور کرائم برانچ کی حراست میں موت واقع ہوئی جس کے خلاف اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے زبردست ہنگامہ کیا اور اس کی ہلاکت کیلئے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ ناصر اسلم وانی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔<br />
اکتوبر<br />
2 اکتوبر کو کپواڑہ میں ایک جنگجو مارا گیا ۔3 اکتوبر کو کپواڑہ اور پلوامہ میں دو جنگجو مارے گئے۔ اسی روز وزارت دفاع نے سرینگر میں دفاعی اراضی سکنڈل کو طشت از بام کیا۔5 اکتوبر کو اکھنور میں ایک نامعلوم جنگجو مارنے کا فورسز نے دعویٰ کیا ۔6اکتوبر کو نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال کو پارٹی کا ترجمانی اعلیٰ مقرر کیا۔8 اکتوبر کو ڈوڑہ میں فوج کے ساتھ جھڑپ میں ایک جنگجو ہلاک ہوا ۔9 اکتوبر کو کنگن میں جھڑپ کے دوران دو جنگجو کمانڈر ہلاک ہوگئے۔12 اکتوبر کو پانپور کا دسویں جماعت کا طالب علم مظفر احمد جو گذشتہ عوامی ایجی ٹیشن کے دوران زخمی ہواتھا نے دم توڑ دیا ، اسی روز گاندربل میں 2 جنگجو مارے گئے۔ 15 اکتوبر کو حضرتبل میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے دم توڑ دیا ۔17 ستمبر کو پلوامہ میں ایک جنگجو مارا گیا ۔ 19 اکتوبر کو ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے کنن پوش کیس دوبارہ کھولنے اور از سرنو تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ۔21 اکتوبر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے زیون سرینگر میں ریاست میں افسپا کو جزوی طور ہٹانے کا اعلان کیا ۔ 23 اکتوبر کو گذشتہ عوامی ایجی ٹیشن کے دوران گولی لگنے کی وجہ سے پلہالن کے 25 سالہ جہانگیر احمد نے دم توڑ دیا۔25 اکتو بر کوسرینگر ، مائسمہ ،زینہ پورہ شوپیان میں مشتبہ جنگجوؤں نے فورسز کے 4 ٹھکانوں کونشانہ بنایا جس کے دوران 4 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔31 اکتوبر کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو تیسری بار پارٹی صدر منتخب کیا گیا ۔<br />
نومبر<br />
10 نومبر کو نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر مصطفی کمال کو ترجمان اعلیٰ کی مستعفی ہونے کی ہدایت دی ۔16 نومبر کو کشتواڑ جھڑپ کے دوران ایک جنگجوہلاک ہوا ۔17 نومبر کو کیلر شوپیان میں جھڑ پ کے دوران ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔18 نومبر کو ریاستی سرکار نے سید محمد یوسف قتل کی تحقیقات کیلئے ایک نفری سبکدوش جسٹس ایچ ایس بیدی کو جوڈیشل انکوائری کیلئے نامزد کیا ہے ۔20 نومبر کو تارزو سوپورہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک فارسٹر کو گولی مار ہلاک کردیا ۔23 نومبر کو پٹن میں ایک دکان پر ہوئے گرنیڈ دھماکے میں 2 افراد زخمی ہوئے ۔24 نومبر جموں میں بارودی سرنگ کی زد میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوگیا ۔اسی روز نامعلوم بندوق بردار نے نائد کھائے سمبل میں ایک سرکار نواز بندوق بردارکو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔25 نومبر کو ترال میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے ایک بلاک صدر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔<br />
دسمبر<br />
یکم دسمبر کو پائین شہر میں21 سال بعد فورسز نے فردوس سینما خالی کردیا ۔6 دسمبر کو شنگر پورہ پلوامہ میں جنگجو ؤں نے ایک ڈرائیور کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔11 دسمبر کو نامعلوم بندوق برداروں نے ریاستی وزیر علی محمد ساگر پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ اپنی بھتیجی کی سگائی کی تقریب میں شرکت کررہے تھے ، اس حملے میں وزیرموصوف کا ذاتی محافظ ہلاک اور دیگر 3 اہلکار زخمی ہوگئے ۔24 دسمبر کو بٹہ مالومیں اسلحہ برداروں نے نیشنل کانفرنس کے ایک بلاک صدر کو ہلاک کیا ۔25 دسمبر کو کولگام میں برادر کشی کے واقعے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اپنے 3ساتھیوں کو ہلاک کیا۔28 دسمبر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ لندن سے واپس لوٹ آئے ۔29 دسمبر کو وزیراعلیٰ نے شادی پورہ سمبل میں ایک پل کا افتتاح کیا ۔30 دسمبر کو پلوامہ میں ایک اور برادر کشی کے واقعے کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوگیا ۔<br />
اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں مقامی خبر رساں ایجنسی سی این ایس سے بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔خدا کرے کہ 2012 عوام کی امیدوں اور امنگوں کے مطابق گزرے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/900/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/900/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=900&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/31/2011-new-year-2012jammu-kashmirindia-militancy-forces/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/12/20111.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">2011</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>مدارس کی مالی معاونت ،’اس حمام میں سب ننگے ‘</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/20/%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%aa-%d8%8c%d8%a7%d8%b3-%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%a8-%d9%86/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/20/%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%aa-%d8%8c%d8%a7%d8%b3-%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%a8-%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 20 Dec 2011 12:44:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=895</guid>
		<description><![CDATA[ریاست میں کئی روز سے مدارس کو مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے مالی امداد کی باتیں ہورہی ہیں اور اس سے دینی مدارس اور اداروں سے وابستہ اشخاص پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب کچھ ادارے باضابطہ طور پر تردیدی بیانات جاری کرنے لگے ہیں اور مالی امدادحاصل [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=895&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong></strong>ریاست میں کئی روز سے مدارس کو مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے مالی امداد کی باتیں ہورہی ہیں اور اس سے دینی مدارس اور اداروں سے وابستہ اشخاص پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب کچھ ادارے باضابطہ طور پر تردیدی بیانات جاری کرنے لگے ہیں اور مالی امدادحاصل کرنے کی نفی کررہے ہیں۔ادھر مرکزی وزراء وقفے وقفے سے اس بات کو اُچھالنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے جبکہ ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کو انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے اس طرح کی امداد پہلی بارفراہم کی گئی جس کی منصفانہ تقسیم محکمہ تعلیم کو سونپی گئی۔<span id="more-895"></span>اس سے عام لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے کہ آیا کون سے مدارس یا دینی ادارے ہیں جو بظاہر عوامی پیسے سے چلتے ہیں مگر پس پردہ اور ہی کچھ کہانی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس بات کو لیکر دینی مدارس کو اس طرح کا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے تھا گویا یہ ایک نارمل معاملہ ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے کس کو امداد نہیں مل رہی ہے۔ اور پھر آئین ہند بھی اقلیتی اداروں کو مالی امداد دینے کی سفارش کرتا ہے۔ نہ صرف اقلیتی اداروں ، بلکہ ان کے کلچر اور زبان کے تحفظ کیلئے بھی آئین کی دفعہ 25میں واضح طور پر تشریح کی گئی ہے۔واضح رہے کہ انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت کی باقی دیگرریاستوں میں بھی قائم مذہبی مدارس کومالی معاونت دی جارہی ہے تاکہ ان مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی بہرور کیا جاسکے۔حالانکہ جس طرح کی امداد ملنی چاہئے تھی، عام مشاہدے میں وہ نہیں ملتا ہے اور یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مرکزی سرکار نے مدارس کو دی جارہی مالی معاونت کی تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔ باہر کی ریاستوں میں تو یہ کوئی بڑا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے اسلئے وہاں مدارس کو جو کچھ بھی مل رہا ہے وہ اسے چپ چاپ قبول کرکے اپنے تصرف میں لاتے ہیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیر میں یہ معاملہ حساس تصور کیا جارہا ہے اور پھر اس کی تشریح و توضیح اس انداز سے کی گئی ہے گویا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یہ ایک بالکل غلط بات ہے کیونکہ ہندوستان کا شاید ہی کوئی مذہبی ادارہ یا سکول وغیرہ ہوگا جس کی سرکار مالی معاونت نہیں کررہی ہو۔ اور پھر اگر ایسی امداد عام لوگوں کی نظروں میں غلط ہے تو حج پر سبسڈی بھی تو غلط ہے اور وہ پیسہ بھی وہیں سے آتا ہے جہاں سے مدارس کا(اگر کچھ آیا بھی ہوگا) آتا ہے۔اس مسئلے کو لیکر کئی ایک مفاد پرست عناصر میدان میں کود پڑے ہیں جو امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر مرکزی حکومت مالی امداد کرتی ہے تو کون سا احسان کرتی ہے۔ مسلمانوں سے ٹیکسوں کی کتنی آمدنی مرکزی خزانے میں جاتی ہے اور پھر بدلے میں مسلمانوں کو ملتا کیا ہے۔ ان کی شرح خواندگی دیکھئے، ان کے مالی انڈیکس پر نظر دوڑائیں اور ریاستی یا مرکزی ملازمتوں میں ان کے تناسب پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اگر اربوں روپے بھی مسلمانوں پر خرچ کئے جائیں تو وہ بھی کم ہیں چہ جائیکہ چند کروڑ روپے کی مالی امداد۔اسلئے مسلمانوں کوصورت حال کا ادراک کرکے آپسی تفرقہ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ اتنا حساس نہیں جتنا کہ باور کرایا جاتا ہے۔ریاست میں پیداشدہ اس تنازعہ کے ضمن میں ریاستی وزیر تعلیم پیرزادہ محمد سعید نے اعتراف کیا کہ انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے جموں و کشمیر کو اس طرح کی امداد فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ’’ریاستی حکومت نے اس مالی امداد کے منصفانہ تقسیم کیلئے ناظم تعلیم جموں و سرینگر کو اختیارات تفویض کئے جو مستحق اداروں کی نشاندہی کرکے انہیں شفاف طریقے سے یہ امداد بہم پہنچائیں ‘‘۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس(گ) کے چئیرمین سید علی شاہ گیلانی نے یہ معاملہ منظر عام پر آتے ہی اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ مسلم دشمن قوتوں نے تاریخ کے ہر دور میں اس حربے کو استعمال کیا ہے اور انہیں اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں جبکہ بیشتر اوقات میں وہ علماء اور مولوی ان کے جھانسے میں آکر شکار ہوجاتے ہیں جو دین کے بجائے کسی خاص مسلک کی طرف دعوت دینے کو اسلام کی اصل خدمت سمجھتے ہیں اور جو اپنی کم فہمی کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں اور ان کی مساجد تک کو تقسیم کرانے کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں‘۔انہوں نے جموں کشمیر کی حدود میں کام کرنے والی تمام چھوٹی بڑی اسلامی تنظیموں اور ان کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور اپنے ملّی اور قومی کاز کی حفاظت کو ہر صورت میں ترجیح دیں۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/895/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/895/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=895&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/12/20/%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%aa-%d8%8c%d8%a7%d8%b3-%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%a8-%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ایجی ٹیشن2010: 13ماہ بعد ایک اور طالب علم جاں بحق</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/12/%d8%a7%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b4%d9%862010-13%d9%85%d8%a7%db%81-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/12/%d8%a7%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b4%d9%862010-13%d9%85%d8%a7%db%81-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 12 Oct 2011 14:14:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=890</guid>
		<description><![CDATA[سال 2010کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں13ماہ کے طویل وقفے کے بعد بدھ دکوایک اور طالب علم کا اضافہ ہوگیا۔مظفر احمد میرنامی یہ طالب علم 13ستمبر 2010کو فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھااورتادم مرگ سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہا جہاں بالآخربدھ کی صبح داعی اجل [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=890&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;">سال 2010کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں13ماہ کے طویل وقفے کے بعد بدھ دکوایک اور طالب علم کا اضافہ ہوگیا۔مظفر احمد میرنامی یہ طالب علم 13ستمبر 2010کو فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھااورتادم مرگ سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہا جہاں بالآخربدھ کی صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔اس طرح گذشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق کئے گئے افراد کی تعداد122پہنچ گئی۔<span id="more-890"></span><br />
گذشتہ سال کی ایجی ٹیشن کے دوران وادی کے دوسرے علاقوں کی طرح جنوبی قصبہ پانپور میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف شدید مظاہرے ہورہے تھے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پیلٹ گولیوں کا استعمال کیا۔ اس دوران آنسو گیس کا ایک گولہ مظفر احمد میر کی کمر میں لگ گیا اور ریڈ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوگئی ۔مظفراحمد میر ولد غلام محمد میراس وقت زخمی ہوگیا جب وہ دسویں کے امتحان کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹیوشن سینٹر کی طرف جارہا تھا۔مظفر مسلسل ایک سال سے کوما میں پڑا رہا۔ مظفر احمد کے لواحقین کے مطابق اس کو حال ہی میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ صورہ سے گھر منتقل کیا گیا تھا اور اس عرصے کے دوران اُس کے والدین نے اُس کی زندگی بچانے کیلئے بے حد کوششیں انجام دیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ملکیتی زمین فروخت کی ۔ مظفرکے گھروالوں کا کہنا ہے کہ اُس کی حالت گذشتہ کچھ دنوں سے کافی خراب تھی اور وہ بدھوار کی صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔مظفر کے انتقال کی خبر علاقے میں پھیلتے ہی لوگوں کی ایک بھاری تعداد غلام محمد میر کے گھر کے باہر جمع ہوگئی اور نماز جنازہ میں شرکت کی ۔مظفر کو آزادی اور اسلام کے فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد خاک کیا گیا۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/890/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/890/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=890&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/12/%d8%a7%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b4%d9%862010-13%d9%85%d8%a7%db%81-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>اسمبلی کا مختصر اجلاس ختم</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/04/%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%d8%ae%d8%aa%d9%85/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/04/%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%d8%ae%d8%aa%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 04 Oct 2011 16:00:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=887</guid>
		<description><![CDATA[قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے آخری روز منگل کو نیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ حراستی ہلاکت پرحزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے زوردار احتجاج، نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی کی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=887&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong></strong><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/jk-assembly.jpg"><img class="size-thumbnail wp-image-888 alignright" title="J&amp;K Assembly" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/jk-assembly.jpg?w=150&#038;h=92" alt="" width="150" height="92" /></a>قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے آخری روز منگل کو نیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ حراستی ہلاکت پرحزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے زوردار احتجاج، نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جونہی شروع ہوئی تو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھرنیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔ محبوبہ مفتی ایوان کی کارروائی کو التواء میں ڈال کر یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں پی ڈی پی نے سپیکر کے پاس تازہ تحریک التواء پیش کی تھی۔<span id="more-887"></span><br />
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر کی حمایت میں پارٹی کے سبھی ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور سپیکر پر تحریک التواء منظور کرنے پر زور دیا۔اس دوران حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے چند ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ دونوں پارٹیوں کے ممبران نے ایک دوسرے پرالزامات کی بوچھاڑ کی ۔اس صورتحال کے نتیجے میں ایوان میں شوروغل بپا ہوا۔محبوبہ نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سرکار ایوان کو گمراہ کررہی ہے کیونکہ اس ہلاکت کی جوڈیشل تحقیقات کیلئے رہاستی ہائی کورٹ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت نے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ اس ضمن میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرینگر کو علیحدہ تحقیقات کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔محبوبہ نے زوردیکر کہا’’یہ اعلیٰ سطحی کورپشن اور قتل کا معاملہ ہے، اس پر ایوان میں نہیں تو کیا سڑکوں پر بحث کریں گے؟ایوان میں جھوٹ بولا جارہا ہے اور ارکان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس معاملے کو دبایا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ رہاستی ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو فون کرکے اس بات کی جانکاری حاصل کریں کہ آیا اس سلسلے میں واقعی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے یا نہیں!‘‘پی ڈی پی صدر نے تحریک التواء کے بارے میں سپیکرسے اپنا جواب طلب کیا۔انہوں نے کہا’’ایوان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پیسہ کہاں سے آیا ، کس نے کس کو دیا اور اس کا مقصد کیا تھا؟‘‘اسی دوران قانون و پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد ساگر نے اس بات کی وضاحت کی کہ اخبار میں بدقسمتی سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرے گی۔وزیر موصوف نے کیس کی چھان بین کے حوالے سے ہائی کورٹ کو لکھے گئے خط اور اسکی رسید کی کاپیاں ایوان میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے اسی روز عدالت عالیہ سے رجوع کیا جس روز یہ واقعہ پیش آیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ اسی دوران پی ڈی پی کے نظام الدین بٹ نے حکومت سے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ جوڈیشل تحقیقات کے اعلان کے بعد سید محمد یوسف کی ہلاکت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ہاتھوں الگ تحقیقات کرانے کا کیا مطلب ہے۔سپیکر محمد اکبر لون نے پی ڈی پی کے احتجاجی ممبران کو یہ کہتے ہوئے خاموش رہنے کا مشورہ دیا کہ وہ تحریک التواء پر وقفہ سوالات کے بعد اپنا فیصلہ سنائیں گے لیکن اپوزیشن ممبران احتجاج کرتے رہے ، وہ ویل میں آگئے اور انہوں نے زبردست شور شرابہ کے بیچ حکومت مخالف نعرے لگائے۔ تاہم سپیکرکے کہنے پر وقفہ سوالات شروع کیا گیا اور ہنگامہ آرائی کے عالم میں ہی سوالات اور جوابات کا سلسلہ چلتا رہا۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود اگر 2Gاسکینڈل پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جاسکتی ہے تو سید محمد یوسف کی ہلاکت پر ایسا کرنے میں کیا حرج ہے۔ایوان میں سوموار کو پیش آئی صورتحال کو شرمناک قرار دیتے ہوئے سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے سپیکر سے گذارش کی کہ وہ مذکورہ ہلاکت کو لیکر سرکار کو ایک بیان دینے کیلئے کہیں اور حزب اختلاف کی بات بھی سنی جائے تاکہ ایوان کی کارروائی ممکن ہوسکے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاستی اسمبلی ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔سپیکر محمد اکبر لون نے جواب میں کہا کہ سید محمد یوسف کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کے چلتے اس معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ محمد یوسف تاریگامی نے استفسار کیا کہ اگر بحث کرانا ممکن نہیں تو سرکار ایوان میں بیان دے۔اس موقعہ پر پینتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے سپیکر سے بحث کرانے کی درخواست کی اور اس ضمن میں قانون کا حوالہ دیا۔دوسری جانب پی ڈی ارکان ’’اندھا قانون نہیں چلے گا، حساب دو حساب دو، پیسے اور قتل کا حساب دو ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ویل میں آکر اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے۔انہوں نے اسمبلی سیکریٹری کی ٹیبل پر موجود کاغذات پھاڑ کر ہوا میں پھینک دئے اور سیکریٹری کو بھی اپنی کرسی چھوڑ کر وہاں سے ہٹنا پڑا۔اس طرح حزب اختلاف کے ارکان پورے وقفہ سوالات کے دوران ویل میں رہتے ہوئے احتجاج کرتے رہے اور اس دوران ممبران کی طرف سے سوالات پوچھنے اور وزراء کی طرف سے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رہا لیکن کس نے کیا کہا؟ شورشرابے کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیا۔وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی پی ڈی پی ممبران کے احتجاج میں مزید شدت پیدا ہوئی اور انہوں نے زور زور سے’’اندھاقانون نہیں چلے گا، تانا شاہی نہیں چلے گی، غنڈہ گردی نہیں چلے گی، ہمیں ریٹ لسٹ بتاؤ ، نکلیں گے نکلیں گے، سارے راز نکلیں گے‘‘ کے نعرے لگائے جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی میں باربار رکاؤٹ پیدا ہوئی۔چنانچہ جب اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور نعرے بازی کی وجہ سے ایوان میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا تو سپیکر محمد اکبر لون نے 11بجکر40 منٹ پر ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/887/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/887/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=887&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/04/%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%d8%ae%d8%aa%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/jk-assembly.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">J&#38;K Assembly</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>پارلیمانی اقدار کی دھجیاں اڑادی گئیں</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%82%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%d8%ac%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%91%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c%da%ba/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%82%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%d8%ac%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%91%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 Oct 2011 16:30:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=878</guid>
		<description><![CDATA[جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سوموار کونیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت معاملہ پر اسپیکر اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر نے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے اورپارلیمانی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں کہ ایوان میں موجود حاضرین کے سر شرم سے جھک [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=878&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong></strong><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/assembly.jpg"><img class="size-thumbnail wp-image-879 alignright" title="S" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/assembly.jpg?w=150&#038;h=97" alt="" width="150" height="97" /></a>جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سوموار کونیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت معاملہ پر اسپیکر اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر نے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے اورپارلیمانی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں کہ ایوان میں موجود حاضرین کے سر شرم سے جھک گئے ۔اس دوارن سپیکر نے پی ڈی پی کی تحریک التوا مسترد کرتے ہوئے اپنے برتاؤ پر معذرت طلب کی تاہم ایوان کی کارروائی مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی اور مقررہ وقت سے قبل ہی دن بھر کیلئے برخاست کرنا پڑی۔<span id="more-878"></span><br />
سوموار کی صبح ساڑھے نو بجے جونہی سپیکر ایوان میں نمودار ہوکر اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اپنی نشست سے کھڑی ہوئیں اورسپیکر سے مخاطب ہوکر ایوان کی معمول کی کارروائی کو ملتوی کرکے گزشتہ دنوں نیشنل کانفرنس ورکرسید محمد یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ پی ڈی پی نے اس سلسلے میں تحریک اتوا پیش کی تھی ۔سپیکرکے اس اعلان کے بعد کہ وہ وقفہ سوالات کے بعد اس تحریک پراپنا فیصلہ سنائیں گے کہ پی ڈی پی کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے احتجاجاًکھڑے ہوئے اور اپنا مطالبہ جاری رکھا۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے ایک بار پھر سپیکر سے مخاطب ہوکر کہا’’یہ قتل کا معاملہ ہے اور اس میں لین دین کا بھی مسئلہ ہے جس کے لئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور امور داخلہ کے وزیر مملکت پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں،اسلئے اس پر بحث کرانے کی فوری ضرورت ہے‘‘۔اسی اثناء میں حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران اسمبلی بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور وزیر اعلیٰ پر لگائے گئے الزامات پر برہمی کا اظہارکرنے لگے۔اپوزیشن ارکان اپنے مطالبے پر بضد رہے اوراس دوران انہوں نے’’یوسف کے قاتلوں کو پیش کرو، یوسف کے پیسے کا حساب دو‘‘ کے نعرے لگانا شروع کیا جبکہ جواب میں نیشنل کانفرنس ارکان نے’’ڈاکٹر لون کے قاتلوں کو پیش کرو، ڈرامہ بازی نہیں چلے گی‘‘ کے نعرے لگائے جس کے نتیجے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے۔شورو غل کے عالم میں ہی پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مولوی افتخار حسین انصاری نے سپیکر سے کچھ کہا جس پرسپیکرمحمد اکبر لون سیخ پا ہوگئے اور انہوں انصاری سے مخاطب ہوکر کہا’’ او مولوی! تم مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے، تو غدار ہے ، غدار ہے، غدار ہے ،بے ایمان مولوی چپ ہوجاؤ، بے ایمانوں کا بے ایمان ، انکم ٹیکس کا حساب دو، ٹیکس واپس کرو‘‘۔اس پر انصاری طیش میںآگئے اور انہوں نے پنکھا اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر سپیکر کی میز کی طرف دے مارا ۔اس موقعہ پرانصاری اور سپیکر کے درمیان زبردست گرم گفتاری،نوک جھونک اور تلخ کلامی ہوئی، یہاں تک کہ نوبت گالم گلوچ پر آپہنچی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف شرمناک حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے۔اسپیکر نے پی ڈی پی ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا‘‘مجھ کو گالی دے گا،میں اس کو گالی دوں گا، جو مجھے چور کہے گا، میں اس کو چور کہوں گا‘‘۔ اس دوران ا سپیکر نے تحریک التواء پیش کرنے والے پی ڈی پی ممبران کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے پر بحث کرانے کی اجازت دی گئی تو اسکی تحقیقات متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت نے پہلے ہی اس کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں، لہٰذا تحریک التوا مسترد کی جاتی ہے ۔ایوان کی گھمبیر صورتھال کے بعدا سپیکر نے ایوان میں پیش آئے واقعہ اور پی ڈی پی ممبر کے ساتھ تلخ کلامی پر معذرت طلب کی۔انہوں نے کہا’’ مولوی صاحب میرے استاد رہے ہیں، مجھے سیاست میں انہوں نے ہی لایا، میں انکے تئیں عقیدت رکھتا ہوں، ہم ایک ہی جگہ کھائے، پئے اور سوئے ہیں، اگر مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی تو میں اس کے لئے معافی چاہتا ہوں‘‘۔اسی دوران پی ڈی پی ارکان ایک بار پھر سید محمد یوسف کی ہلاکت پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے اور اسی اثناء میں وہ نعرے بازی کرتے ہوئے سپیکر کی میز کے سامنے ویل میں آگئے جس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسمبلی سیکریٹری کی میز پر موجود کاغذات پھاڑ ڈالے اور انکے عملے کا ٹیبل الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔حالات کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ سپیکر نے ایوان کی کارروائی کے اختتام کا اعلان کیا۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/878/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/878/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=878&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%82%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%be%d8%ac%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%91%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/assembly.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">S</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئےتیارہوں:عمرعبداللہ</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%db%92-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%aa/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%db%92-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%aa/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 Oct 2011 16:15:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=882</guid>
		<description><![CDATA[وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=882&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><strong></strong><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/omar-abdullah.jpg"><img class="size-thumbnail wp-image-883 alignright" title="Omar Abdullah" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/omar-abdullah.jpg?w=103&#038;h=150" alt="" width="103" height="150" /></a>وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئے تیار ہیں۔واضح رہے کہ محمد یوسف کی موت چند روز قبل پولیس حراست میں واقع ہوگئی تھی۔وزیر اعلیٰ نے اس ہلاکت کے بارے میں ان پر اور انکے والد ودیگر ساتھیوں پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکے بارے میں جوڈیشل انکوائری کا انتظار کیا جائے کیونکہ تحقیقات کے بعد ہی’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ہوجائے گا ۔<span id="more-882"></span><br />
سوموار کو اسمبلی کارروائی کے اختتام کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سید محمد یوسف کی ہلاکت کا واقعہ ایک بدقسمتی ہے اور اس سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں حقائق کو مسخ کرکے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ معاملے کی سنگین اور مجرمانہ نوعیت کو بھانپتے ہوئے انہوں نے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا اور نہ صرف امور داخلہ کے وزیر مملکت کو بھی وہاں موجود رہنے کیلئے کہا بلکہ یہ معاملہ پولیس کی کرائم برانچ کو سونپ دیا تاکہ اس کی مکمل تحقیقات عمل میں لاکر حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔انہوں نے بتایا’’حقیت یہ ہے کہ میری پارٹی کے دو ورکر میرے پاس آئے اور ایک تیسرے ورکر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے ، معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اور اسکی شفاف چھان بین کے مفاد میں ، میں نے تینوں ورکروں کو اپنے پاس بلایا ‘‘۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس واقعہ کے بارے میں میڈیا میں بھی قیاس آرائیوں سے کام لیا گیا ۔تاہم ان کا کہنا تھا’’میں نے معاملے کا سنجیدہ نوٹس سنجیدہ نوٹس لیا اور اس شخص کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا جو نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتا ہے ‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’اس معاملے پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ میں ، میرے والد اور میرے ساتھی کورپشن میں ملوث ہیں ، یہاں تک کہ مجھے قتل میں بھی ملوث ٹھہرانے کی کوشش کی گئی‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اسکی جوڈیشل انکوائری کے احکامات صادر کئے اور ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اس کی چھان بین کے لئے ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کو مامور کریں۔ان کا کہنا تھا’’اگر اس میں ہمارے پاس کچھ چھپانے کے لئے ہوتا تو ہم نے ہائی کورٹ جج کے ہاتھوں تحقیقات کا حکم نہیں دیا ہوتا، میں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معاملہ کرائم برانچ کو سونپا اور اسکی جوڈیشل تحقیقات کے احکامات صادر کئے،حالانکہ اس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا، بجائے اس کے کہ ہمارے اس اقدام کی سراہنا کی جاتی، الٹا ہم پر ہی الزامات لگائے جارہے ہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا’’پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ موصول ہونے کے بغیر ہی میڈیا اور بعض سیاسی پارٹیاں اس نتیجے پر کیسے پہنچ گئیں کہ سید محمد یوسف کا ٹارچر کیا گیا؟‘‘وزیر اعلیٰ نے بتایا ’’ میری خاموشی کو میرے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور میں اس پر بات کرنے پر مجبور ہوگیا، میں نے صفائی نہیں دی اسلئے میں گنہگار ہوگیا؟‘‘ وزیر اعلیٰ نے یہ بات زور دیکر کہی’’ میں جوڈیشل انکوائری میں مکمل یقین رکھتا ہوں اور اس بات کا بے صبری سے انتظار کررہا ہوں کہ جوڈیشل کمیشن کا اپنا کام مکمل کرکے حقائق منظر عام پر لائے، مجھے اس بات میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ میں کمیشن کے سامنے حاضر ہوجاؤں اور انکے سوالات کا جواب دوں‘‘۔سیدمحمد یوسف کی ہلاکت کے سلسلے میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی طرف سے سید محمد یوسف کی ہلاکت کے بارے میں وزیر اعلیٰ، نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور انکے دیگر ساتھیوں پر عائد کئے گئے الزامات کے تعلق سے عمر عبداللہ نے کہا ’’اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی صدر نے مجھ پر، میرے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور میرے دیگر ساتھیوں پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں ، میں اس پر رد عمل ظاہر نہیں کروں گا، نہ پریس کے ذریعے اور نہ ذاتی طور، میں اس معاملے پر ہتک عزت کیس کے سلسلے میں اپنے وکلاء کے ساتھ مشورہ کررہا ہوں اور وہی اس پر ردعمل کا اظہار کریں گے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے آخرپر یہ بات دہرائی کہ وہ سید محمد یوسف کی ہلاکت کے معاملے پر تب تک کسی سوال کا جواب نہیں دیں گے ، جب تک نہ اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری مکمل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے چیف جسٹس بہت جلد بیرون ریاست سے لوٹ آئیں گے جس کے بعد معاملے کی چھان بین شروع کی جائے گی۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/882/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/882/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=882&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/10/03/%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%db%92-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/omar-abdullah.jpg?w=103" medium="image">
			<media:title type="html">Omar Abdullah</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>جموں کشمیر میں 74ہزار کنال پر فوج قابض:سرکار</title>
		<link>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/09/30/%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-74%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d8%b6%d8%b3%d8%b1/</link>
		<comments>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/09/30/%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-74%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d8%b6%d8%b3%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 30 Sep 2011 17:16:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>imtiyazkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://imtiyazkhan.wordpress.com/?p=867</guid>
		<description><![CDATA[جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رواں اجلاس میں جمعہ کو ریاستی سرکار نے اعتراف کیا کہ لداخ کو چھوڑ کر ریاست میں اس وقت بھی 73518.18کنال اراضی غیر قانونی طور فورسز کی مختلف ایجنسیوں کے تصرف میں ہے جس میں وادی کے 25957کنال 8مرلہ اور جموں صوبہ کے 47561کنال 1مرلہ اراضی شامل ہیں۔جموں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=867&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:justify;"><a href="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/raman-bhala.jpg"><img class="size-thumbnail wp-image-868 alignright" title="Raman Bhala" src="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/raman-bhala.jpg?w=150&#038;h=126" alt="" width="150" height="126" /></a>جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رواں اجلاس میں جمعہ کو ریاستی سرکار نے اعتراف کیا کہ لداخ کو چھوڑ کر ریاست میں اس وقت بھی 73518.18کنال اراضی غیر قانونی طور فورسز کی مختلف ایجنسیوں کے تصرف میں ہے جس میں وادی کے 25957کنال 8مرلہ اور جموں صوبہ کے 47561کنال 1مرلہ اراضی شامل ہیں۔جموں کشمیر کے وزیر مال رمن بھلہ نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور رکن اسمبلی محبوبہ مفتی کی طرف سے پوچھے گئے ایک غیر ستارہ زدہ سوال کے تحریری جواب سے ایوان کو آگاہ کیا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وادی کے شمالی ضلع بارہمولہ میں سب سے زیادہ یعنی 9314کنال اور15مرلہ جبکہ سرینگر ضلع کی سب سے کم اراضی یعنی 74کنال فورسز کی غیر قانونی تحویل میں ہے ۔ حکومت نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جموں خطے میں کہیں پر بھی فورسز نے ریاست کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ نہیں کیا ہے البتہ خطے میں مجموعی طور پر 47561کنال اور10مرلہ اراضی فورسز کی مختلف ایجنسیوں کی تحویل میں ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ قانون کے تحت لوازمات پورا کرنے کا عمل مختلف ضلع کمشنروں کی طرف سے جاری ہے۔<span id="more-867"></span><br />
ا سمبلی اجلاس کے پانچویں روز جموں کشمیر کے وزیر مال رمن بھلہ نے ایوان کو تحریری طور پر جانکاری فراہم کی کہ وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں فوج اورفورسز کی دیگر ایجنسیوں نے 25957کنال اراضی پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔وادی کے شمالی ضلع بارہمولہ میں سب سے زیادہ یعنی 9314کنال اور15مرلہ اراضی سیکورٹی فورسز کی مختلف ایجنسیوں کے غیر قانونی قبضے میں ہے، جس میں فوج نے 8396کنال6مرلہ، سرحدی حفاظتی فورس 90کنال اور 14مرلہ، سی آر پی ایف نے 548کنال اور5مرلہ اورپولیس نے 279کنال اور10مرلہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے۔اعدادو شمار کے مطابق سرینگر ضلع کی سب سے کم اراضی فورسز کی غیر قانونی تحویل میں ہے جہاں مجموعی طور پر 74کنال اراضی فورسز کے ناجائز قبضے میں ہے جس میں سے 14کنال اراضی فوج جبکہ 60کنال اراضی سی آر پی ایف کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔حکومت کی طرف سے ایوان کو جاری اعداد شمار کے مطابق’ جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں کل ملاکر 5449کنال اراضی فوج اورفورسز کی دیگر ایجنسیوں کے غیر قانونی قبضے میں ہے جس میں سے فوج نے5210کنال3مرلہ، سی آر پی ایف نے 220کنال 17مرلہ اور پولیس نے18کنال اراضی پر غیر قانونی قبضہ جمایا ہے۔جنوبی کشمیر کے ہی کولگام ضلع میں فورسز نے 691کنال پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اس میں سے 571کنال 2مرلہ اراضی فوج اور 120کنال8مرلہ اراضی سی آر پی ایف کے قبضے میں ہے‘۔رمن بھلہ کے تحریری جواب کے مطابق جنوبی ضلع شوپیان میں 487کنال10مرلہ اراضی فورسز کے ناجائز قبضے میں ہے اور اس میں سے فوج نے 432 کنال 10مرلہ، سی آر پی ایف نے 44کنال04مرلہ اور پولیس نے 11کنال06مرلہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ جمایا ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ہی پلوامہ ضلع میں 1320کنال1مرلہ اراضی کو سیکورٹی فورسز نے غیر قانونی قبضے میں لے رکھا ہے ، اس میں سے 605کنال اراضی فوج، 60کنال8مرلہ بی ایس ایف ، 202کنال 13مرلہ اراضی سی آر پی ایف جبکہ452 کنال اراضی پولیس کے ناجائز قبضے میں ہے۔وزیر مال نے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں فورسز کے ناجائز قبضے میں 5065کنال 13مرلہ اراضی میں سے فوج نے4507کنال 16مرلہ، بی ایس ایف نے 545کنال18مرلہ،سی آر پی ایف نے 4کنال12مرلہ اورآئی ٹی بی پی نے 7 کنال 7 مرلہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ شمالی کشمیر کے ہی سرحدی ضلع کپوارہ میں 2069کنال اور7مرلہ اراضی فورسز کے قبضے میں ہے اور اس ساری اراضی پر فوج کا قبضہ ہے۔ تحریری جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ وسطی ضلع بڈگام میں مجموعی طور پر821کنال 14مرلہ اراضی فورسز کی مختلف ایجنسیوں کے ناجائز قبضے میں ہے ،جس میں 548کنال 14مرلہ اراضی فوج جبکہ 273کنال اراضی ائر فورس کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ اسی طرح گاندربل میں فورسز کے قبضے میں663کنال18مرلہ اراضی پر صرف فوج کا ناجائز قبضہ ہے۔ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وزیر مال نے بتایا کہ جموں صوبہ کے ڈوڈہ اور ادھمپور اضلاع میں کوئی بھی اراضی غیر قانونی طور فورسز کے زیر تصرف نہیں ہے تاہم جموں میں 32532کنال 10 مرلہ ، کٹھوعہ میں795کنال 19مرلہ ،کشتواڑ میں198کنال16مرلہ،پونچھ میں7996کنال ، راجوری میں 2858کنال 12مرلہ ، رام بن میں74کنال19مرلہ،ریاسی میں341کنال 16مرلہ اور سانبہ میں2762کنال 18مرلہ اراضی فوج اور فورسز کی دیگر ایجنسیوں نے غیر قانونی طور اپنے زیر تصرف رکھی ہے۔یاد رہے کہ ریاست میں فی الوقت جموں کشمیر پولیس کے علاوہ اسپیشل آپریشن فورس(ایس او جی)، فوج ،سرحدی حفاظتی فورس(بی ایس ایف)،نیم فوجی دستے(سی آر پی ایف)،انڈو تبتین بارڈر پولیس(آئی ٹی بی پی)و غیرہ تعینات ہیں۔غور طلب ہے کہ ان تفاصیل میں کشمیر صوبہ میں لیہہ اور کرگل ضلع کو چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ تفاصیل فراہم نہیں کی گئی ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 24اگست 2009کو ریاستی حکومت نے اسمبلی میں تحریری طور اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فورسز کی مختلف ایجنسیوں نے ریاست میں10لاکھ 54ہزار اور721کنال اراضی اپنے تصرف میں رکھی ہے جس میں سے 855407کنال غیر قانونی قبضہ میں ہیں جبکہ صرف199314کنال کا ہی معاؤضہ ادا کیا جارہا ہے ،یا یہ اراضی ان ایجنسیوں نے لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے تحت حاصل کی ہے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/imtiyazkhan.wordpress.com/867/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/imtiyazkhan.wordpress.com/867/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=imtiyazkhan.wordpress.com&amp;blog=10998937&amp;post=867&amp;subd=imtiyazkhan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://imtiyazkhan.wordpress.com/2011/09/30/%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-74%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d8%b6%d8%b3%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>34.039249 74.786956</georss:point>
		<geo:lat>34.039249</geo:lat>
		<geo:long>74.786956</geo:long>
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/2f1980809927ff1b706cf874af2562c6?s=96&#38;d=wavatar&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">imtiyazkhan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://imtiyazkhan.files.wordpress.com/2011/10/raman-bhala.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">Raman Bhala</media:title>
		</media:content>
	</item>
	</channel>
</rss>
