عاقب 15روز قبل عسکری میدان میں کود پڑا تھا

جولائی 13, 2017

عید الفطر سے قبل عاقب کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ عنقریب وہ اس دنیا کو خیر باد کہنے والا ہے۔مہاراشٹر کے شہر پونے میں بی ٹیک میں ایک سال پڑھائی کرنے کے بعد اُس نے ناگام چاڈورہ میں دوکان کھولی اور اپنے والدین کی کفالت کرنے لگا۔عاقب نے صرف 15روز قبل عسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی اور منگل کی شام جب فورسز نے اُس مکان کو گھیرا جس میں عاقب اپنے دو ساتھیوں سمیت پھنسا ہوا تھا تو اُس نے اپنی ماں کو فون پر یہ روح فرسا خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔ Read the rest of this entry »


راجپورہ کا غریب کنبہ اپنے محنت کش بیٹے سے محروم

اگست 27, 2016

Altaf Rajporaراجپورہ (پلوامہ)//گھر سے بازار چاول لانے گیا تھا لیکن واپس نہ لوٹا اور راستے میں ہی فورسز کی گولیوںکا شکار ہوکر ابدی نیند سوگیا ۔یہ کہانی راجپورہ پلوامہ کے 18سالہ الطاف احمد راتھر کی ہے،جو پیشے سے ٹریکٹرڈرائیور تھا۔اپنے والد کی صحت اورگھر کی معیشی حالت مدنظر رکھتے ہوئے الطاف نے 12سال کی عمر میں ہی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور مزدوری شروع کی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الطاف نے ٹریکٹر چلانا سیکھ لیا اورآج اُسے ٹریکٹر چلانے کیلئے ماہانہ4ہزار روپئے تنخواہ ملتی تھی۔اپنی کم تنخواہ،گھر کی کمزورمالی حالت،اپنے لاغروالداور چھوٹی بہن کی صحت کے پیش نظروہ نہ صرف ٹریکٹر چلاتا تھا بلکہ اُسے لوڈ اور اَن لوڈکرنے کا کام بھی خود ہی کرتا تھا جس کیلئے اُسے مزیدمزدوری مل جاتی تھی۔ Read the rest of this entry »


سوئیبگ میں فوجی اہلکاروں کی ہڑبونگ

اگست 17, 2016

حزب سپریم کمانڈر سیدصلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئیبگ اوردہرمنہ میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا ہوئی جب مقامی آبادی کے مطابق فوجی اہلکاروں نے بلا لحاظ عمر و جنس لوگوں کی شدیدمارپیٹ کے بعدمتعددرہائشی مکانوں،نجی گاڑیوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں کے مطابق دہرمنہ میں قائم 2آرآرفوجی کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے متعدد رہائشی مکانوں ،دکانوں اور نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جن میں ساتویں جماعت کے تین طالب علم بھی شامل ہیں،جن میں سے ایک طالب علم شوکت احمد ملک کو نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ شوکت جہلم ویلی کالج (جے وی سی)میں زیر علاج ہے۔ Read the rest of this entry »


رواں جدوجہد میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں/گیلانی،میرواعظ

اگست 13, 2016

مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے رواں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کشمیری ایک باغیرت قوم ہے جس نے 70سال سے بھارت کے قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔مذکورہ قائدین کے مطابق بھارت حقائق کو نظرانداز کرکے جموں و کشمیر میں جبروتشدد کا اراستہ اختیار کئے ہوئے ہے اورنہتے لوگوں کے پُرامن پروگرام ناکام بنانے کیلئے انسانی اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ Read the rest of this entry »


جامع مسجد سرینگر نرغے میں،مسلسل5ویں مرتبہ نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن

اگست 12, 2016

12کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے طویل عرصے سے سخت ترین کرفیو اور جاری احتجاجی لہر کے بیچ مسلسل پانچویں مرتبہ سرینگر کی مرکزی جامع مسجدمیں پولیس نے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔کرفیو کے ان ایام میں پانچ وقت کی نمازوں پربھی قدغن عائد رہی۔ واضح رہے کہ 8جولائی کی شام حزب کمانڈر برہان وانی کواپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ جاں بحق کیا گیا ۔پولیس نے اُن کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے ساتھ ہی جامع مسجد کو حصار میں لے لیا اورتب سے لیکر آج تک نہ صرف جمعہ بلکہ پانچ وقت کی نمازوں پر بھی مکمل قدغن ہے۔ Read the rest of this entry »


کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر سرکاری قدغن

جولائی 17, 2016

aaکرفیو زدہ کشمیر میں اتوار کو اخبارات کی اشاعت پر تین روز تک جاری رہنے والی سرکاری پابندی شروع ہوگئی۔ واضح رہے کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں جبکہ کیبل ٹی وی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے سنیچر کو اخبار مالکان اور مدیران سے اگلے تین روز تک پابندی جاری رکھنے کی اطلاع دی جس کے بعد مدیران و مالکان نے حکومتی کارروائی کو’پریس ایمرجنسی ‘ قرار دیتے ہوئے اخبارات کی اشاعت روک دینے کا فیصلہ لیا۔ Read the rest of this entry »


فورسزنے زخمیوں کو بخشا نہ تیمارداروں کو

جولائی 14, 2016

حزب کمانڈر برہان وانی اور اْس کے دوساتھیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجی لہر کے دوران فورسزکی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو سرینگر لانے کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس زخمی کا گلو کوز چڑھایا گیا تھا وہ باہر پھینک دیا گیا اور تیمار داروں کی بھی شدید مارپیٹ کی گئی۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ زخمی شہریوں کو سرینگر پہنچانے سے قبل پولیس و فورسز کے بعض اہلکاروں نے راستے میں ہی بے تحاشا تشدد کا نشانہ بنایا۔حالانکہ 2010میں اس سے بھی بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا لیکن اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: