کیا روئی کے گالوں سے نجات ممکن نہیں؟

11/05/2022

چند سال قبل وادی میں عدالت عالیہ کے حکم نامہ پر مادہ روسی سفیدوں کو کاٹنے کی مہم شروع کی گئی تھی اور بعد اذاں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی دی گئی تھی تاکہ مقررہ وقت پر مادہ روسی سفیدوں کی شاخ تراشی کیلئے اقدامات کئے جائیں تاہم صورتحال جوں کی توں ہے۔کورونا نہ ہونے کے باوجود آج بھی لوگ ماسک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہا جائے جو لوگ کورونا کے ماحول میں ماسک پہننے کے عادی نہیں تھے ،وہ آج روئی کے گالوں کی وجہ سے ماسک پہنے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وادی بھر روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی کی وجہ سے شہریوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ روئی کے ان گالوں نے اہل وادی کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔

Read the rest of this entry »


معاشرتی ڈھانچہ تباہ،میل جول قصۂ پارینہ

03/03/2022

 انسان کے پیدا ہوتے ہی اس سے کئی رشتے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ کوئی ماں کہلاتی ہے کوئی باپ، کوئی بہن تو کوئی بھائی، کوئی دادی تو کوئی دادا۔ اس طرح ڈھیروں رشتے اس سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ رشتے ہماری زندگی میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔رشتے اور مضبوط تعلقات خدا کی بہت بڑی نعمت ہے اور زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رشتے ہماری زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور ان رشتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان رشتوں کے بغیر زندگی ویران اور بے رونق ہو جاتی ہے۔

Read the rest of this entry »


اختلاف رائے جرم نہیں،اعتدال برقرار رکھیں

22/01/2022

آج کی دنیا میں اظہار رائے اورا ختلا ف رائے بنیادی انسانی حقوق تصور کئے جاتے ہیں اور ان حقوق پر کسی طرح کا قدغن انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ حق شروع سے ہی نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔ کسی معاشرے میں اختلاف رائے کا ہونا اس معاشرے میں زندہ انسانوں کے وجود کا ثبوت ہے۔ اختلاف رائے انسانی ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے اور اندازِفکر میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ تاہم جہاں اختلاف رائے معاشرے کےلئے سود مند ہے وہیں آج کل کے معاشروں میں اختلاف رائے بگاڑ بھی پیدا کر رہا ہے اور اس کی سیدھی وجہ وہ رویئے ہیں جو کسی صورت میں بھی کسی دوسری رائے کو سننا پسند نہیں کرتے اور اپنی بات کی صداقت کو ثابت کرنے میں انتہاءپسندی کی حد تک چلے جاتے ہیں جو معاشرے کی اخلاقی فضا کو آلودہ کرتی ہے۔

Read the rest of this entry »


اظہار رائے کی آزادی

11/01/2022

نکتہ نظر بیان کریں ، کسی کی تذلیل نہیں
اظہارِ رائے کی آزادی انسان کا بنیادی اور اخلاقی حق ہے جس سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ حق شعورکو پروان چڑھا کر بہت ساری گتھیوں کو سلجھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہرانسان تقریروتحریر میں آزاد ہے اورکسی بھی فکر، نظریہ، سوچ، عمل اورنظام کے بارے میں اپنا ایک خاص نکتہ نظر قائم کرسکتا ہے اورکسی بھی فکر، سوچ، نظریہ یا عمل کی حمایت کرکے اس کی ترویج کرسکتا ہے یا پھر تنقید کرنے سے اس کی اصلاح یا اس سے یکسر منحرف ہوجانے کا بھی حق رکھتا ہے۔

Read the rest of this entry »


سوچ بدلیں زندگی خود بدل جائے گی

03/01/2022

غور و فکر کرنا انسانوں کا خاص وصف ہے۔ دنیا میں ہزاروں معاملات ہیں جن پر انسان غور کر کے دنیا اور خود کو بدلنے کی سعی کر سکتا ہے۔ معمولی واقع اور بات سے متاثر ہو کر انسان میں مکمل بدلاﺅ آ سکتا ہے۔ دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنا اتنا ضروری نہیں جتنا اپنے آپ کواور اپنی سوچ کو بدلنا ضروری ہے۔ خود کو بدلنے میں پختہ ارادہ اور مکمل حوصلہ لگتا ہے۔ انسان اور جانور میں ان کی حرکات و سکنات اور عادت و اطوار میں فرق نہ رہے تو وہ اشرف المخلوقات کے حقیقی منصب پر فائز نہیں رہ سکتا، وہ اس کا حقدار تب ہی ہے جب علامات واضح ہوں جو تفاوت کرسکے کہ انسان افضل ہے۔

Read the rest of this entry »

%d bloggers like this: