فورسز کی موجودگی سےطلباءکا مستقبل مخدوش

بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتونی کے حکمنامے پر عمل کرتے ہوئے بھارتی فوج کو30 نومبر 2007 تک تمام سکولوں ،ہسپتالوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو خالی کرنا تھا لیکن مزید دو ماہ گذرجانے کے باوجود بھارتی فوج کا مکمل انخلاءنہیں ہوگیا ہے اور دیگر اہم عمارتوں کی طرح بانڈی پورہ کے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹیوٹ میںبھارتی فوج کا قبضہ ہنوز جاری ہے۔
بانڈی پورہ داچھی گام روڈ پر واقع انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں سینکڑوں طالب علموں کا مستقبل مخدوش ہورہاہے ۔آئی ٹی آئی میں ریڈیو ، ٹی وی ، ٹائپنگ ،شارٹ ہینڈ اور لڑکیوں کو خصوصی طور سلائی کا ہنر سکھایا جاتا ہے۔ مذکورہ انسٹیچوٹ میں زیر تعلیم طلباءنے بتایا”یہاں کئی روز پہلے خودکش حملہ ہونے کی افواہ ہوگئی تھی جس کے بعد انسٹی ٹیوٹ میں جامہ تلاشی اور شناختی کارڈدیکھنے کا سلسلہ مزید سخت کیا گیا“۔ انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم ایک طالبہ انیسہ(نام تبدیل )نے بتایا” فوج کی موجودگی کے باعث یہاں زیر تعلیم طلباءو طالبات اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں“۔مذکورہ طالبہ کا کہنا تھا” خوف و ہراس کی وجہ سے کئی ایک طلباءنے انسٹی ٹیوٹ کو خیرباد ہی کہہ ڈالا“۔ایک اور طالب علم خورشید احمد(نام تبدیل)نے کہا’ ہمیں ہمیشہ یہ فکر دامن گیررہتی ہے کہ کہیں اگر واقعی خود کش حملہ ہوا تو ہمارا کیا ہوگا، کہیں لینے کے دینے نہ پڑجائیںکیونکہ کئی دفعہ خودکش حملہ ہونے کی افواہ ہونے کے بعد ہمیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا ”۔
مقامی بستی کے لوگوں نے اس نمائندے کو بتایا ”نوے کی دہائی میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف ) نے مذکورہ عمارت میں ڈھیرا جمایا اور تقریباً 12سال کے طویل عرصہ کے بعد 57RR نے سی آر پی ایف کی جگہ لے لی جس سے تعلیمی اداروں میں نہ صرف طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ طلباء کے ارد گر د فوج کی موجودگی سے ا±ن کی نفسیات پربھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںاور طالبات کو فورسز کی موجودگی سے شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے“۔ایک مقامی شہری عبدالغفار نے کہا”ہمیںہر وقت ایک خطرہ لاحق رہتاہے کہ اگر اس کیمپ پر حملہ ہوتا ہے تو ہمارے بچوں کا کیاہوگا کیونکہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ فوج پر حملہ ہونے کے بعد عام لوگ ہی نشانہ بنتے ہیں“۔
فوج کے شعبہ میڈیا کے سر براہ کر نل منجندر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مذکو رہ عما رت میں دراصل ادارے کا ہو سٹل ہوتاتھا اور یہ عمارت انہیں ضلعی انتظامیہ نے فراہم کی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے کے کسی بھی طالبعلم نے ہو سٹل میں رہائش کے لئے درخواست نہیں دی تھی جسکی وجہ سے یہ عمارت بے کا ر تھی اور اسی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کو یہ عمارت فوج کے سپرد کرنے میں کو ئی دشو اری پیش نہیں آئی ۔انہو ں نے کہا کہ فوج نے مذکو رہ عمار ت کو اپنی تحویل میں لینے سے قبل آئی ٹی آئی حکام سے با ضابطہ اجا زت حاصل کرلی تھی ۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیردفاع اے کے انتونی کی سربراہی میں سرینگر میں گذشتہ سال جو میٹنگ منعقد ہوئی تھی اس میں ریاستی حکومت نے وزیردفاع کو480عمارتوںکی لسٹ دی تھی جن پرفورسز گذشتہ کئی برسوں سے قابض ہیں تاہم وزیردفاع کوبتایاگیا تھا کہ وادی میں 72سرکاری عمارتوں سے فوج کوہٹایاگیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی سکولی عمارتوں کو بھی خالی کرایاگیا ہے۔ وزیر دفاع کی ہدایت کے مطابق ان سبھی جگہوں سے سیکورٹی فورسز 30نومبر تک نکل جانی چاہئے تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: