وزیر دفاع کا اعلان بے بنیادثابت

بارہمولہ کالج ہنوز فورسز کے قبضے میں
بھارتی وزارت دفاع اور پندرہویں کور کے سابق سربراہ کے 30نومبر 2007ءتک تمام تعلیمی اداروں اور اسپتالی عمارتوں کو خالی کرنے کے دعوﺅں کے برعکس بارہ مولہ کے وومنز ڈگری کالج کی 17کنال اراضی اور دو عمارتیں ہنوز سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کی 53ویںبٹالین کے قبضے میں ہیں اور ریاستی حکومت ان کو وہاں سے نکالنے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ مذکورہ کالج میں 2ہزار سے زائد طالبات زیرتعلیم ہیں اور کالج انتظامیہ کے مطابق انہیں ہوسٹل کی اشد ضرورت ہے جو تاحال تعمیر کرنے میں صرف اس لئے دشواریاں پیش آرہی ہیں کیونکہ اس کے لئے درکار اراضی سی آر پی ایف کے قبضے میں ہے۔ کالج ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ دور دراز علاقوں جن میں اوڑی، کرناہ ،کپوارہ اور سرینگر سے مذکورہ کالج میں سینکڑوں طالبات زیر تعلیم ہیں جنہیں ہوسٹل سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات درپیش ہےں۔ کالج ذرائع کے مطابق طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداداور نئے شعبہ جات کی ضرورت کے پیش نظر نئے بلاک تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج کو آڈیٹوریم کی ضرورت ہے جبکہ کھیل کود کیلئے میدان کی وسعت طلبہ کی دیرینہ مانگ ہے اور ضرورت بھی اور ان ضرورتوں کے پیش نظر گزشتہ سال کالج نے16 کنال اور17 مرلہ اراضی خرید لی جس پر دو عمارتیں بھی کھڑی ہیں ۔کالج ذرائع کا کہناہے کہ اس کے لئے کالج نے ایک کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور نئے بلاک تعمیر کرنے کے لئے ہمارے پاس فنڈس بھی ہیں لیکن یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب فورسز اپنا قبضہ چھوڑدیں۔کالج کے ایک پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ کئی مرتبہ ضلعی انتظامیہ، ریاستی ومرکزی سرکارکی نو ٹس میںلایاگیا لیکن ریاستی سرکاراس بارے میں خاموش ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی پولیس کے سربراہان جن میں ڈی آئی جی ، ایس ایس پی اور آئی جی پی سے پرنسپل بذات خود ملاقی ہوئے لیکن یقین دہانیوں کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکے۔ مذکورہ پروفیسر کا کہنا تھا کہ کالج کی طالبا ت کے لئے کھیلنا کودنا بھی مشکل بن گیاہے کیونکہ فورسز کی نظریں ہمیشہ ان کی طرف ہی مرکوز رہتی ہیں۔ ایک طالبہ نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ فورسز اہلکاروں کی گھو رتی ہوئی آنکھو ں کے سامنے اپنی پڑھائی یا کھیل کود میں اچھی طرح حصہ لینامشکل ہو تا ہے کیونکہ اس کا سب سے بڑا اثر انسان کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ ایک اور طالبہ نے انکشاف کیا کہ کھیل کود کے دوران سی آر پی ایف بنکروں میں موبائل کیمروں سے لڑکیوں کی تصاویر کھینچتے ہیںجو انتہائی پریشان کن ہے۔سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ انہو ں نے اس اراضی کو از خو د قبضے میں نہیں لیا ہے بلکہ انہیں ضلعی انتظامیہ نے مذکو رہ جگہ فراہم کی ہے انہوں نے کہا کہ اگر انہیںکیمپ کے لئے کسی اور جگہ متبادل جگہ فراہم کی جائے گی تو انہیں کالج کی اراضی اور عما رتیں چھوڑنے پر کو ئی اعتراض نہیں ہو گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: