ٹریننگ نہ کرنے میں ہی عافیت ہے:اساتذہ

اساتذہ کیلئے مخصوص ٹریننگ کالج فورسز کی تحویل میں
وزیر دفاع اے کے انتونی کی طرف سے کشمیر میں بھارتی فورسزکے زیر قبضہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور نجی املاک کو خالی کرنے کے دعوﺅں کے برعکس فوج اور نیم فوجی دستہ(سی آر پی ایف) ابھی تک کئی اہم اداروں اوراملاک کی عمارات پر قابض ہے۔ ان عمارات میںبارہمولہ ضلع کی ڈائٹ بھی شامل ہے جہاں سی آر پی ایف اورسپیشل اوپریشن گروپ تعینات ہے۔ریاست کے ہر ضلع میں ڈائٹ یعنی ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اساتذہ کی تربیت کیلئے قائم ہوتا ہے اور ضلع بارہ مولہ کے ہزاروں اساتذہ صاحبان کی حصول تربیت کیلئے یہ ادارہ سوپور میں واقع ہے۔مقامی ذرایع کے مطابق ڈایٹ کی اس عمارت پرسی آر پی ایف نوے کی دہائی سے قابض ہے اورتقریباً 6کنال اراضی بھی سی آر پی ایف اور ایس او جی نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے اور آج کل یہاں سی آر پی ایف کی179وین بٹالین اور ایس او جی سوپور ڈھیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ڈایٹ کے ملازم نے اس نمائندے کو بتایا” ڈایٹ کی عمارتوں پر فورسز کے قبضہ کی وجہ سے بارہ مولہ ضلع کے تقریباً 7ہزار اساتذہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ سی آر پی ایف اور ایس او جی کے ہوتے ہوئے اکثر اساتذہ صاحبان اس ادارے کا رخ نہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں “۔مذکورہ آفسر کی اس بات کی تصدیق ڈایٹ میں آئے ہوئے ایک استاد نے یہ کہہ کر کی ’روز مرہ کی جامہ تلاشیوں نے پہلے ہی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کیا ہے اور اب کس کو یہ شوق ہوگا کہ وہ یہاں آکر اور پریشانیاں مول لے“۔
یاد رہے جموں کشمیر کے گورنر ریٹایرڈ لیفٹننٹ جنرل ایس کے سہنا نے حالیہ اسمبلی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران دعوی کیا تھا کہ فوج نے تمام عمارات مقررہ ڈیڈ لاین یعنی 30نومبر2007 سے پہلے خالی کر دی ہیں لیکن گورنر کا یہ دعویٰ فی الوقت غلط ثابت ہورہا ہے۔
ڈایٹ آفسر کا اس حوالے سے کہنا ہے”نوے کی دہائی میں ادارے کی عمارات پر قبضہ جمانے کے بعد فورسز نے آج تک نہ کوئی کرایہ ادا کیا ہے اور نہ ہی مذکورہ عمارتوں کو چھوڑنے کی بات کی ہے“۔مذکورہ آفسر کے مطابق اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو کئی بار آگاہ کیا گیا لیکن وہ سب کوششیںلاحاصل رہیں۔ مذکورہ آفسر کے مطابق ڈایٹ کا ہوسٹل مکمل طور فورسز کے قبضے میں ہے جبکہ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریشن بلڈنگ بھی ان ہی کے قبضے میں ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فورسز کی وجہ سے ان کا کام بھی متاثر ہے۔مذکورہ آفسر کا کہنا تھا” فورسز نے ہمیں ڈایٹ کی پرانی عمارت میں دھکیل دیا ہے جبکہ خود اچھی عمارتوں میں ڈھیرہ جمائے ہوئے ہیں“۔سوپور کے ایک شہری عبدالعزیز نے بتایا” مذکورہ ادارے کا کانفرنس ہال سوپورکی اکثر ضرورتوں کو پورا کرتا تھا،جس میں سمینار اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی کے مطابق انہو ں نے اس اراضی کو از خو د قبضے میں نہیں لیا ہے بلکہ انہیں ضلعی انتظامیہ نے مذکو رہ جگہ فراہم کی ہے انہو ں نے کہا کہ اگر انہیںکیمپ کے لئے کسی اور جگہ متبادل جگہ فراہم کی جائے گی تو انہیں مذکورہ ادارے کی اراضی اور عما رتیں چھوڑنے پر کو ئی اعتراض نہیں ہو گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: