آبی وسائل کی بربادی افسوسناک:مقررین

ہر سال دو فروری کو ‘آبگاہوں کا عالمی دن’ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد آبگاہوں اور ان کے ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔وادی کی تین آبگاہوں کو نیشنل کنزرویشن پروگرام کیلئے انتخاب کیا گیاہے اور ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف عنقریب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان باتوں کا اظہار ’عالمی یوم آبگاہ ‘کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے چیف وائلڈ لائف وارڈن نے کیا۔ تقریب کا انعقاد محکمہ وائلڈ لائف نے’ نیشنل سوسائٹی فار پروجکشن آف واٹر رسورسز اینڈ ویٹ لینڈس ‘کے اشتراک سے کیا تھا۔ سرینگر کے کالج آف ایجوکیشن میںاس تقریب دوران مقررین نے آبی وسائل کی بربادی پر افسوس کا اظہار کیا ۔مقررین نے کہا کہ وادی کے اکثر جھیل تباہی کے دہانے پر ہیں بلکہ ڈل جھیل ، خوشحال سر ، نگین اور آنچارجھیل ختم ہوگئے ہیں۔ چیف وائلڈ لائف وارڈن روف احمد زرگر نے اس موقع پر کہا ” آبی ذخائر کے تحفظ کیلئے اس دن کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے“۔انہوں نے کہا ” جو آبگاہیں محکمہ کے حدودمیں ہیں وہ محفوظ ہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کہیں کہیں لوگوں نے ناجائز تجاوزات کھڑے کئے ہیں جن کے خلاف بہت جلد کارروائی عمل میں لائی جائے گی“۔زرگر نے مزید کہا” وادی کی تین آبگاہوں کو نیشنل کنزرویشن پروگرام کیلئے منتخب کیا گیا ہے اور عنقریب ان آبگاہوں پر مرکزی امداد و تعاون سے کام شروع کیا جائے گا“۔چیف وائلڈ لائف وارڈن کے مطابق یہ تین آبگاہیں شالہ بگ، میر گنڈ اور ہائیگام ہیں ۔پرنسپل کالج آف ایجوکیشن ڈاکٹر عبد الحمید خان نے کہا”ریاست کو ان آبی پناہگاہوں سے ایک مقام حاصل ہے اور ان کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے“۔چئرمین این ایس پی ڈبلیو ایس ڈبلیو نذیر بے نظیر نے کہا ”ہمارے باغات اور زرعی اراضی کا انحصار آبی وسائل پر ہے لیکن ہم نے اپنے ہی ہاتھوں ان کو برباد کیا ہے“۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈل جھیل سکڑتا ہی جارہا ہے اور مستقبل قریب میں اس کا نام فقط کاغذوں میں ہی رہے گا“۔تقریب پر ایڈشنل دیوژنل کمشنر کشمیر عبد الرشید میر مہمان خصوصی تھے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دیگر ایجنسیاں جن میں محکمہ آبپاشی،پبلک ہیلتھ انجینرنگ اور خصوصاً لاوڈا بے ہسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا ”ماضی قریب متعلقہ محکموں کے تعاون کی وجہ سے ولر اور ڈل جھیل بہت صاف و شفاف ہوا کرتے تھے لیکن اب ان محکموں کے درمیان یہ تعاون نہ رہنے کی وجہ سے اور عام انسان کی غفلت شعاری کی وجہ سے یہ دونوں جھیل اب تباہ ہوگئی ہیں“۔
‘آ ب گاہ’ کی تعریف نہایت وسیع معنوں کی حامل ہے۔یہ وہ مقامات ہیں جہاں پانی، ماحول میں توازن اور اطراف میں موجود نباتات، پرندوں اور دوسری جنگلی حیات سے پیوست حیاتیاتی نظام کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ان مقامات کی خصوصیت یہاں سرد ممالک سے موسمِ سرما میں پرندوں کی آمد اور مقامی پرندوںکی افزائش ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زرعی اراضی کی رہائشی اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال تیزی سے جاری ہے جس سے پانی کی نکاسی اور خوراک کے تحفظ کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ماہرین کے مطابق نکاسی آب کی گزر گاہوں کو بند کرنے سے ماحولیاتی نظام کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے بلکہ مچھلیوں اور پرندوں کی پناہ گاہ بھی ختم ہو گئی ہےں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: