وادی کے معروف زنانہ اسپتال سے عوام نالاں

وادی کے معروف اور اکلوتے لل دید زنانہ اسپتال سرینگر میں انتظامیہ کی جانب سے بار بار کئے جانے والے اعلانات کے باوجود اسپتال میںبدانتظامی کی بدعت طول پکڑتی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہ اسپتال اپنی افادیت کھورہا ہے۔ اسپتال کی بدانتظامی کے باعث حاملہ خواتین غیر سرکاری اسپتالوں یا نرسنگ ہوموں ہی کا رُخ کرنے میں عافیت سمجھتی ہیں ۔اسپتال کے لیبر روم سے لیکر وارڑ تک تعینات ملازمین زچگی کے بعد تیمارداروںسے بخشش یامبارک جیسے ناموں پربھاری نذرانے وصول کرتے ہیں جو غریب لوگوں کیلئے بہت بڑا بوجھ ثابت ہوتاہے۔اسپتال کانظام بہتر بنانے کیلئے وقتاً فوقتاً کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا جو صرف کاغذی گھوڑے ثابت ہوئے۔بیماروں اور تیمارداروںنے اس نمایندے کو بتایا کہ دورانِ شب یہ اسپتا ل ایک مصروف ریلوے پلیٹ فارم کا منظر پیش کرتا ہے ۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے تیمارداروں کی سہولیات کیلئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے انہیں راحت محسوس ہو۔باوجود اسکے رشوت خوری یہاں ایک عام چلن بن چکی ہے اسپتال میں کئی جگہوں پر نصیحت آمیز بورڑ آویزاں کئے گئے ہیںجن میں رشوت طلب کئے جانے پر قانون کا سہارا لینے کی بات کہی گئی ہے حالانکہ تاکیدی بورڈوں کے علاوہ دن میں کئی بار رشوت نہ دینے کے اعلانات بھی کئے جاتے ہیں۔
وزیر باغ کے محمد حفیظ نے بتایا ”میری بیوی شیرین اختر سوپور کے اپنے آبائی گھر میں پاﺅں پھسل کر گر گئی جس کے بعد ہم نے اس کو سوپور کے مقامی ہسپتال میں داخل کیا جہاں ڈاکٹروں نے لل دید ہسپتال منتقل ہونے کا مشورہ دیا“۔محمد حفیظ نے مزید کہا ” لل دید میں بیمار کوڈاکٹروںنے زیر 29380 MRD NOداخل تو کیا لیکن کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی بلکہ خون کی اشد ضرورت پڑنے پر انہوں خون بھی فراہم نہیں کیاجسکے بعد علی اصغر بلڈ بینک نے خون کا عطیہ دے کر شیرین اختر کی جان بچائی۔ محمد حفیظ کے مطابق داخل رہنے کے تین دن بعد تک ڈاکٹروں نے کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جس کے بعد ڈاکٹر آمنہ کے مشورہ پر انہوں نے خانمز نرسنگ ہوم کا رخ کیا۔
500 بیڈوالے وادی کے ا س اکلوتے زنانہ اسپتال کے میڈکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر بشیر احمد نے اس ضمن میں تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا”شکایت کنندہ میرے دفتر میں اس ضمن میں تحریری طور اپنی شکایت درج کرائیں تاکہ اس سلسلے میں باضابطہ طور تحقیقات کی جائے“۔انہوں نے مزید کہا”اس کے علاوہ میں از خود کیس کی تحقیقات کیلئے ہسپتال کے ہی تین ڈاکٹروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دوں گاجوکہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس ضمن میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے“۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: