فوجی طیاروں سے پولیس مستفید

سرینگر جموں شاہراہ برف باری کے نتیجے میں بند ہوجانے کے بعدریاستی انتظامیہ کی طرف سے سرینگر اور جموں میں رکے پڑے مسافروں کو خصوصی فوجی طیاروں کے ذریعے جموں پہنچانے کاعمل کل اس وقت متنازع بن گیا جب مسافروں نے الزام عاید کیا کہ مذکورہ طیاروں میں سفر کرنے کیلئے جانبداری سے کام لیا گیا۔ سرینگر میں رکے پڑے ہزاروں مسافر اور سیاح کل صبح سویرے اس وقت ہمہامہ پولیس چوکی کی طرف دوڑنے لگے جب ڈویژنل کمشنر کشمیر محبوب اقبال نے اعلان کیا کہ جموں اور سرینگر میں رکے پڑے مسافروں اور سیاحوں کو ائر فورس کی خصوصی پروازوں کے ذریعے 250 روپیہ فی کس ادا کرکے جموں اور سرینگر پہنچایا جائے گا۔
ممبئی کی ایک خاتون سیاح سونل کماری نے بتایا ”ہمارا شیڈول دس دن ٹھہرنے کا تھا لیکن اب پندرہ دن ہوگئے اور اب خرچہ بھی ختم ہونے کو ہے“۔سونل کا کہنا تھا ”یہاں سارا نظام پولیس کے ہاتھوں میں ہے اور کافی لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے پولیس کے شناختی کارڈ دکھاکر ٹکٹ حاصل کرگئے“۔سونل کا مزید کہنا تھا ” یہاں سیاحوں کیلئے کوئی ترجیح نہیں ہے “۔باغات سرینگرکے ایک شہری کے این سنگھ کے مطابق پولیس کی ترجیحات میں منظور نظر افراد اور اثر رسوخ رکھنے والے اشخاص شامل ہیں جبکہ عام لوگ صبح آٹھ بجے سے ہی لائن میں کھڑے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔انہوں نے بتایا”میں صبح آٹھ بجے سے لائن میں کھڑا ہوں لیکن محسوس ہورہا ہے کہ یہ سروس عام لوگوں کیلئے نہیں ہے “۔ پدگام پورہ پلوامہ کے ایک شہری منظور احمد نے بتایا”ہزاروں کی تعداد میں مسافر گذشتہ ہفتے سے درماندہ ہیںاور ان کو جموں پہنچانے کیلئے انتظامیہ نے ایک کونٹر رکھا ہے جو کسی بھی صورت میں عوام کی امیدوں پر کھرا نہیں اتر سکتا ہے اور وہ بھی جب کونٹر پولیس تھانہ ہوگا۔منظور کا کہنا تھا”پولیس احسن طریقے سے معاملات نہیں نپٹا پارہی ہے“ ۔منطور احمد کا مزید کہنا تھا کہ اسے ناگپورکیلئے 9فروری کی ریل ٹکٹ ہے اور مقررہ وقت ناگپور نہ پہنچنا اس کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے“۔ تبلیغ جماعت سے وابستہ 13افراد پر مشتمل گروپ کے امیر شوکت احمد نے بتایا ”یہاں بہت غلط ہورہا ہے۔ہمارا گروپ دس بجے سے لائن میں ہے لیکن ٹکٹ ملنے کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں“۔انہوں نے کہا ” ہمیں بھوپال جانا ہے اور اگر ہمارے پورے گروپ کو ٹکٹ نہیں ملی تو ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا“۔
پولیس چوکی ہمہامہ کے آفیسر امتیاز میر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا”ہمارا کام امن و قانون برقرار رکھنا ہے،ٹکٹ دینا ڈویژنل کمشنر آفس کے اہلکاروں کی ذمہ داری ہے“۔
ائر فورس ذرائع کے مطابق تقریباً 5ہزار رکے پڑے مسافروں کو جموں اور سرینگر پہنچایا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سنیچرکو تین IL-76اور تین AN-32طیاروں کوسول انتظامیہ کی مدد کیلئے دستیاب رکھا گیا ۔صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ائر فورس کے ایک عہدیدار رمیش گوئل نے بتایا”ائر فورس رکے پڑے مسافروں کو جموں اور سرینگر میں پہنچانے میں ہر ممکن کوشش کرے گا۔انہوں نے مزید کہا ” 3ہزار مسافروں کو جموں اور سرینگر پہنچایا گیا اور یہ سروس تب تک دستیاب رہے گی جب تک کوئی متبادل انتظام نہیں ہوگا“۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: