ٹنل کے آرپار بھاری برف بھاری

7بچوں سمیت 12افراد جاں بحق
کپرن وےری ناگ اور بانہال میں دو رہائشی مکانات پر برفانی تودے گر آنے کے نتےجے مےں 7بچوں سمیت 12افراد جاں بحق ہوگئے ۔ ان دونوں حادثوں کے نتیجے میں دو گھرانوں کا صفایا ہوگیا ہے۔ادھر گرےز میں پسی گر آنے کے نتےجے مےں اےک خاتون سمےت 3 افراد لقمہ اجل بن گئے اور بڈشا ندل گلاب باغ لور منڈا مےں برفانی تودوں سے اےک شہری کی ہلاکت واقع ہوئی ہے تاہم ےہاں برف کے بےچ پھنسے تمام 37 افراد کو محفوظ مقام پر پہنچاےا گےا ہے جبکہ وادی کے مختلف علاقوں میں 3خواتین بروقت طبی امداد نہ ملنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئیں۔اس طرح حالےہ بھاری برفباری سے وادی کشمےر مےں مارے گئے عام شہرےوں کی تعداد 31تک پہنچ گئی ہے۔
کل صبح وےری ناگ اسلام آباد سے تقرےباً 20 کلو مےٹر دور پےٹھ ہالن کپرن مےںاےک برفانی تودا غلام حسن تانترے ولد مرحوم محمد رمضان تانترے کے مکان پر گر گےا اور اس نے پورے مکان کو زمےن بوس کر دےا ۔مالک مکان غلام حسن تانترے اگرچہ خود مزدوری کے سلسلے مےں جموں مےں ہے تاہم مکان کے اندر اسکی اہلےہ اور 5 بچے دفن ہو گئے ۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اےس اےچ او قاضی گنڈ رےاض احمد چند پولےس اہلکاروں اور عام شہرےوں کو لےکر جائے واردات پر پہنچ گئے اور بچاﺅ کارروائےاں شروع کےں۔مذکورہ ٹےم کوانتہائی دشوار گذار راستوں سے 6 فٹ برف کاٹ کر وہاں پہنچنا پڑا تاہم وہ غلام حسن تانترے کی بےوی 40سالہ نسےمہ، 18سالہ بےٹی شاہےنہ ،10سالہ بےٹی سےرت ،7سالہ بےٹی روبی، 9سالہ بےٹے جاوےد احمد اور اےک اور بےٹے اعجاز احمد کو نہ بچا سکے کےونکہ مذکورہ سبھی افراد موقعہ پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ملبے سے تاہم غلام حسن تانترے کے تےسرے بےٹے رےاض احمد کو زخمی حالت مےں برآمد کےا گےا جس کو علاج معالجہ کے لئے ہسپتال پہنچاےا گےا ہے۔
بانہال سے25کلومیٹر دور پہاڑی پر واقع باسدن مستا نامی گاﺅں میں اس وقت ایک ہی گھر کے 6افراد جاں بحق ہوگئے جب ان کے مکان پر ایک برفانی تودہ گرآیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں رانی دیوی بیوہ بھگت رام عمر ستر سال، سنجیت سنگھ ولد لوچن سنگھ عمر25سال، سنیلہ دیوی زوجہ سنجیت سنگھ 22سال، لیلا دیوی زوجہ چین سنگھ 25سال، نیتو ولد چین سنگھ6سال، پوجا دیوی دختر چین سنگھ ڈیڑھ سال موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور ان کی لاشوں کو پولیس اور عام لوگوں کی مدد سے نکالا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ خاندان یہاں رہائش پذیر اقلیتی فرقے کا واحد گھرانہ تھا۔اس حادثے میں مذکورہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی ببلی دیوی دختر چین سنگھ زخمی حالت میں برآمد کرلی گئی ہے جس کا علاج جاری ہے۔اس حادثے میں 5گائیں ،2بھینسیں اور3بھیڑ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر ناےل گرےز مےں بھی اےک برفانی تودے نے عبدالاحد بابا ولد غلام احمد بابا کے مکان کو اپنی ز د مےں لاےا جسکے نتےجے مےں عبدالاحد بابا کی اہلےہ ستارہ بےگم موقعہ پرہی جاں بحق ہو گئی۔مذکورہ مکان کے ملبے سے مزےد 2 لاشےں بھی برآمد ہوئی ہےںجن کی شناخت کاکام جاری ہے۔درےں اثنا بڈ شاندل گلاب باغ لور منڈا قاضی گنڈ مےں جو38 شہری اپنے مکانوں مےں پھنس گئے تھے ان مےں سے 37 کو بحفاظت نکال کر پرانی گام نامی گاﺅں کے سکول مےں رکھا گےا ہے۔کل مذکورہ شہرےوں کو بحفاظت نکالنے کے اس آپرےشن مےں قاضی گنڈ پولےس کے علاوہ فوج سی آر پی اور لورمنڈا کے رہنے والے اےک سماجی کارکن محمد اشرف نے بڑھ چڑھ کر حصہ لےا ۔اس آپرےشن کے دوارن تاہم اےک شہری محمد شفےع چچی کی جان کو نہےں بچاےا جا سکا ۔محمد شفےع چےچی محمد ےعقوب چےچی کا بےٹا تھا جس کے مکان پر تےز برفانی ہوائےں چلنے کے نتےجے مےں اےک تودا گر آےا۔ مذکورہ مکان سے محمد ےعقوب چےچی ولد مکھنا ،بےٹی رضےہ اور بےٹی زبےدہ کو زخمی حالت مےں نکالا گےا ہے۔ بڈشا ندل گلاب باغ علاقے مےں کل صبح ہی چےف مےڈےکل آفےسر اسلام آباد ڈاکٹر اعجاز احمد خان کی سربراہی مےں اےک طبی ٹےم پہنچ گئی تھی جوپرانی گام نامی گاﺅں کے سکول مےں زخمےوں کا علاج کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ علاقے مےں ےہ 38 افراد گذشتہ روز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ان کو کامےابی نہےں مل رہی تھی اور ان کے ساتھ کسی قسم کا رابط بھی قائم نہےں ہو رہا تھا جس کے پےش نظر پھنسے افراد کے بارے مےں مختلف خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے۔
اس دوران ضلع کولگام کے نندی مرگ دمحال ہانجی پورہ اور بنگہ وار بالا نامی گاﺅں مےں بھی پسےاں گرآنے کے نتےجے مےں دو رہائشی مکانات تباہ ہو گئے ۔مذکورہ دونوں مقامات پر تاہم کوئی جانی نقصان نہےں ہوا ۔اس دوران اسلام آباد ،شوپیان اور کولگام کے دور دراز علاقوں میں 3 خواتین بروقت طبی امداد نہ ملنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئیں کیونکہ مذکورہ علاقوں میں ابھی تک رابطہ سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی گئی ہے۔
اس طرح 5 فروری سے ہوئی برفباری کے نتےجے مےں اب تک 31 افراد جاں بحق ہوئے ہےں اورسینکڑوں مکانات کو شدےد نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ موےشوں کی ہلاکت کے بارے مےں ابھی حتمی صورتحال واضح نہےں ہو رہی ہے تاہم بتاےا جاتا ہے کہ سےنکڑوں موےشی حالےہ برفباری کے نتےجے مےں لقمہ اجل بن گئے ہےں ۔برفانی تودوں کے نتےجے مےں سب سے زےادہ نقصان جنوبی کشمےر کے قاضی گنڈ اور وےری ناگ کے علاقوں مےں ہوا ہے ۔ےہ وہی علاقہ ہے جہاں 3 سال قبل ےعنی 18 فروری 2005 کو والٹےنگو کے مقام پر سفےد سونامی کے نتےجے مےں کم و بےش 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
حالےہ برفباری کے دوران اس علاقے کے بارے مےں پہلے ہی خدشات پےدا ہوئے تھے تاہم حکومت نے دعویٰ کےا تھا کہ اس علاقے مےں تمام مخدوش گاﺅں مےں ہائی الرٹ کا اعلان کےا گےا ہے اور سبھی شہرےوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاےا گےا ہے ۔عوامی حلقوں مےں اس بات کو لےکر چہ مےگو ئےاں ہو رہی ہےں کہ اگر حکومت نے تمام علاقوں سے لوگوں کو پہلے ہی نکالا تھا تو پھر اب برفانی تودوں کے نتےمے مےں مرنے والے کون لوگ ہےں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: