ٹریفک کو نز کی پراسرار چوری ، ذمہ دار کو ن ؟

شہر سرینگر میں ٹریفک جام مسئلہ سے نمٹنے کیلئے محکمہ ٹریفک کی طرف سے نصب کئے گئے ہزاروں پلاسٹک کُون(CONE) پراسرار طور پر اڑانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ لوگ اس ساری صورتحال کیلئے متعلقہ محکمہ کومورد الزام ٹھہراتے ہوئے ٹریفک کونز کی چوری کو محکمہ کی غفلت شعاری سے تعبیر کرتے ہیںتاہم پولیس بالخصوص محکمہ ٹریفک اس سلسلے میں ابھی خواب غفلت میں سویا ہواہے ۔
سال2007میں محکمہ ٹریفک نے شہر سرینگر اور جموں میں بیک وقت ایک خصوصی مہم متعارف کرنے کا فیصلہ لیا تھا جس کے تحت ٹریفک میں سدھار لانے کے لئے کئی اقدامات اٹھائے گئے۔ جن میں یکطرفہ ٹریفک اورروٹوں کی نئی تشکیل کے علاوہ شہر کی بڑی سڑکوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے علاوہ اہم چوراہوں اور ٹریفک چوکیوں کے نزدیک گاڑیوں کی آمد ورفت محدود کرنے کیلئے’ٹریفک کونز‘ کو استعمال میں لایاگیا تھا جنہیں بیرون ریاست سے درآمد کرکے مختلف بازاروں اور سڑکوں پر نصب کرنے کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کیاگیاتھا مگر اس سب کے باوجود مسافروں کو گھنٹوں تک ٹریفک جام کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں ٹریفک پولیس کی غفلت شعاری کو کسی بھی صورت میں خارج از امکان قرار نہیں دیا جارہا ہے جو اپنی پسند سے جگہ جگہ اور تنگ چوراہوں پرمسافر بردار چھوٹی بڑی گاڑیوں جن میں آٹو رکھشا بھی شامل ہیں کو مخصوص اسٹاپ کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو بلا جواز پریشان کیا جا رہا ہے اور اس محکمے کی شبیہ بھی عوام کے سامنے مشکوک ہو جاتی ہے کیونکہ یہ سب کچھ دن کے اجالے میں ٹریفک پویس کی موجودگی میں انجام پاتا ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر کسی قانونی شکنجے میں نہیں لایا جا تا ہے۔ اگر چہ اس نئی طرز کی مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے تھے اور ٹریفک نظام میںبہتری محسوس کی جارہی تھی تاہم فقط چند ماہ گزرنے کے ساتھ ہی اکثر پلاسٹک کون سڑکوں سے غائب ہوگئے ہیں۔
شہر سرینگر خاص کر لالچوک جو کہ شہر سرینگر کا دل قرار دیا جاتا ہے میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباﺅاور سڑکوں کی نامناسب کشادگی ، ٹریفک جام میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ 60سال سے شہر کی سڑکوںکی کشادگی کے لئے کوئی اقدام نہیں کئے گئے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیوں میں متواتر طور اضافہ ہوا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان پلاسٹک کونز پرزر کثیر خرچ کیا گیا لیکن چند ماہ بعد ہی یا تو یہ کون چرائے گئے یا پلاسٹک والوں کو بیچ دئے گئے۔عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ کئی دفعہ یہ پلاسٹک کے کون سڑک پرگرے ہوئے نظر آتے ہیں مگر عوام میں اس درجہ بہبود عامہ کے تعلق سے غفلت پائی جاتی ہے کہ کوئی بھی وہاں سے گزرنے والا اس کو درست صورت میں رکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا ۔یہی حال ذمہ داروں کا بھی ہے وہ بھی ان الٹے گرے پلاسٹک کونوں کو درست پوزیشن میں رکھنے کی تکلیف نہیں کرتے۔ذرائع کے مطابق 2007 میں ٹریفک محکمہ نے جموں اور کشمیر صوبے کیلئے بالترتیب چار چار ہزار پلاسٹک کون نصب کئے جو بیرون ریاست کی ایک پرائیویٹ کمپنی سے خریدے گئے۔
ٹریفک پولیس کے انسپکٹر جنرل محمد امین شاہ نے اس ضمن میں بتایا کہ گذشتہ سال کے دوران تقریباً2ہزار کے قریب پلاسٹک کونز ٹریفک کی بہتر نقل وحرکت کیلئے شہر کی مختلف شاہراہوں پر نصب کئے گئے تاہم انہو ں نے اعتراف کیا کہ کہیں کہیں ان کی چوری بھی واقع ہوئی ہے۔آئی جی پی ٹریفک نے مزید کہا ”ایسی غلط حرکات سے ٹریفک نظام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور مستقبل قریب میں ٹریفک نظام کو بہتراور مو ثر بنانے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے“۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: