اور اب نانوائیوں کی طرف سے ہڑتال

روٹی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ،نانوائیوں کا مطالبہ بلاجواز :سرکار
شہر سرینگر اور وادی کے تمام نانوائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنے کے مطالبے کے حق میں ایک دن کی ہڑتال کی۔ نانوائیوں کا کہنا ہے کہ آٹے اور میدے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے روٹی کی قیمتوں اضافہ ناگزیر بن گیا ہے۔ ادھر عوامی حلقے نانوائیوں کے اس مطالبے کو لیکر خاصے ناراض ہیں . اُن کا کہنا ہے کہ اس سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لئے معمولی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں زبردست مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پہلے ہی گوشت کی خریداری کرنا اُن کے لئے تقریباً ناممکن بن گیا ہے اور اب معمولی روٹی خریدنا بھی اُن کے لئے دشوار ہوگیا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر اور وادی کے متعدد علاقوں میں نانوائیوں نے پہلے ہی روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ کل شہر کے بیشتر علاقوں میں بیشترنانوائیوں نے روٹی کی قیمتوں کے حق میںاپنی دکانیں بند رکھیں۔ دریں اثناءانتظامیہ نے نانوائیوں کی ہڑتال کو بلا جواز قرار دیا ہے۔ کل کی نانوائیوں کی ہڑتال کی وجہ سے لوگوں نے بغیر روٹی ہی صبح کی چائے نوش کی۔ عوامی حلقے نانوائیوں کے خلاف غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کو روٹیوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے غریب لوگوں پر ایک اور ناقابل برداشت بوجھ آن پڑے گا۔فاروق احمد نامی ایک شہری نے بتایا”حکومت نے عام لوگو ں کو تاجروں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے، جنہیں جو مرضی آتی ہے وہی کرتے ہیں“۔ مذکورہ شہری نے مزید بتایا”حکومت کے احکامات کوپہلے ہی قصابوں نے پاﺅں تلے روند ڈالا اور اُنہوں نے گوشت کی قیمت از خود دو سو روپے فی کلو کردیا حالانکہ حکومت نے اس کے لئے 180روپے کی ریٹ مقرر کر رکھی ہے“۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تاجروں نے ملازمین کے حق میں چھٹے تنخواہ کمیشن کی منظوری کے بعد سے ہی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا اور حکومت نے بھی معنی خیز خاموشی اختیار کی۔ نذیر احمد نامی ایک ریڈہ بان نے بتایا” نئے تنخواہ کمیشن کی منظوری کے بعد جس طرح روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے اس سے عام انسان پریشان ہے ۔ دریں اثناءمحکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ترجمان ناصر احمد نے بتایا” نانوائیوں کا مطالبہ کوئی اخلاقی جوازیت نہیں رکھتا ہے بلکہ وہ پہلے ہی کم وزن کی روٹیاں تیار کر کے غیر انونی حرکت کا ارتکاب کررہے ہیں“۔ ناصر احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا” نانوائیوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق دو روپے قیمت کی روٹی کا وزن60گرام رکھنا ہے جو وہ نہیں کررہے ہیں“۔ ان کا کہنا تھا کہ نانوائیوں کو فی کلو روٹی34روپے کے عوض بیچنی ہے اور وہ ایسا بھی نہیں کررہے ہیں اس لئے نانوائیوں کا نیا مطالبہ کوئی قانونی اور اخلاقی جوازیت نہیں رکھتا ہے۔ شہر سرینگر کے ڈاون ٹاون علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے بتایا کہ روٹی نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے گھرانوں میں روٹی کے بغیر چائے نوش کی گئی جبکہ اس صورتحال سے اسکول جانے والے بچوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مختاراحمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ نانوائیوں کی طرف سے اچانک ہڑتال کرنے سے شہر کے لوگوں کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی اُنہیں توقع نہیں تھی ۔ معلوم ہوا ہے کہ وادی کے دوسرے علاقوں میں بھی لوگوں کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے حق میں نانوائیوں نے اپنی دکانیں بند رکھی تھیں۔ ادھروادی کے کئی قصبوں میں کئی نانوائیوں نے روٹی کی قیمتوں میں از خود اضافہ کردیا ہے اور دور روپے کی روٹی جمعرات کو 4روپے میں فروخت کی گئی۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کو کسی بھی صورت میں روٹی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایک طرف روٹی کا وزن نانوائیوں نے پہلے ہی خود گھٹادیا ہے اور دوسری طرف وہ ان کی قیمتوں میں بھی اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں جو کسی بھی صورت میں عوام کے حق نہیں ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ عوام کے اکثریتی حلقوں نے گھروں میں ہی روٹیاں تیار کرنے کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ انتظامیہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ سرکاری ڈیپو ﺅں میں آٹے کا مناسب کوٹہ میسر رکھا جائے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: