سی بی آئی رپورٹ ایک ڈرامہ :بارایسوسی ایشن

کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے سانحہ شوپیان کے بارے بھارت کے خفیہ ادارے سی بی آئی کی متنازعہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی مہم چھیڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بار نے اس حوالے 23دسمبر بروز بدھ ریاست بھر کی تمام عدالتوں میں ایک دن کی ہڑتال کال دی ہے۔جمعہ کو صدر کورٹ سرینگر میں ایک پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایس سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبد القیوم نے سی بی آئی رپورٹ کوایک ڈرامہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری کہانی دلّی میں تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ” وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ،کابینہ وزیر علی محمد ساگر،سابق ڈویژنل کمشنر کشمیر مسعود احمد سامون اور سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس ایم سہائے اس سانحہ کے اصل مجرم ہیںلیکن سی بی آئی نے دلی اور ریاستی انتظامیہ کی بنیاد پراصلی مجرموں کی پردہ پوشی کی ہے“۔میاں قیوم نے کہا کہ شوپیان سانحہ کے معاملے میں وکلائ،ڈاکٹر اور عام لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنا ایک سازش کا حصہ ہے تاکہ مستقبل میں وکلاءکو ہراساں کرکے ان پر دباﺅ بنایا جائے۔بار صدر نے کہا کہ اس سانحہ کے سلسلے میں وادی بھر میں انصاف کی خاطر تحریک چلانے کے بعدبین الاقوامی عدالت سے انصاف کا مطالبہ کیا جائے گا ۔میاں قیوم کے مطابق بدھ کی ہڑتال آسیہ اور نیلوفر کے قتل سے متعلق تحریک انصا ف کی شروعات ہوگی۔ ایڈوکیٹ میاں قیوم کا کہنا تھا کہ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آسیہ اور نیلوفر کو عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا ہے اور اس میں وردی پوش افراد ملوث ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’بار ایسو سی ایشن نے سانحہ سے متعلق اپنی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ دونوں خواتین کو عصمت دری کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تاکہ اس جرم کو چھپایا جاسکے‘۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ کشمیر بار ایسو سی ایشن سی بی آئی کی طرف سے ہائی کورٹ میں پیش کی گئی فرضی رپورٹ کے خلاف پوری قوت سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔میاں قیوم نے اس کیس سے متعلق متعدد عدالتی سماعتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سی بی آئی کی تفتیش کے دوران انصاف فراہم کرنے کے اصول پامال کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے بھی واضح ثبوت ہونے کے باوجود اس سلسلے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ شوپیان سانحہ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس جان کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں دونوں خواتین کے نالہ میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کو خارج از امکان قراردیا ہے،لہٰذا سی بی آئی کی اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔میاں عبدالقیوم کے مطابق سی بی آئی نے اپنی من گھڑت رپورٹ دلی اور ریاستی انتظامیہ کی طرف سے عدالت عالیہ میں پیش کی ہے۔بارصدر کا کہناتھا کہ ”یہ ڈرامہ دلی میں رچایا گیا اور ریاستی حکومت نے اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا“۔انہوں نے مزید کہا کہ سی بی آئی رپورٹ میں نہ صرف مجرموں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ مجرموں کی نشاندہی کرنے کے بجائے اس میں وکلائ،ڈاکٹروں اور عام شہریوں کو ملزم بنایا گیا اور یہ سب ایک منظم سازش کے تحت کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جاتی جنہوں نے اس سانحہ کے بارے میں غلط اور گمراہ کن بیانات دئے لیکن اس کے برعکس مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی اوران لوگوں کو ملزم ٹھہرایا گیا جو انصاف کے لئے جدوجہد کررہے تھے۔میاں قیوم کا کہنا تھا کہ ریاستی وزیر علی محمد ساگر نے اس سانحہ کی تحقیقات 48گھنٹوں میں کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن مذکورہ وزیر کے وہ اٹھتالیس گھنٹے مکمل ہونا ابھی باقی ہےں۔میاں قیوم کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سابق جسٹس جان کمیشن کے ذریعے اس سانحہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کرنے کے بعد کہا تھا کہ جو بھی اس سانحہ میں ملوث قرار پایا جائے گا اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی تاہم حیرانگی کی بات ہے کہ سابق ڈویژنل کمشنر کشمیر مسعود احمد سامون اور سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس ایم سہائے نے تحقیقاتی عمل کی شروعات سے قبل ہی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ عصمت دری اور قتل کا معاملہ نہیں بلکہ ان کی موت غرق آب ہونے سے ہوئی ہے۔میاں قیوم کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جان کمیشن کی تحقیقات کیلئے 30دن کی مہلت اسلئے مانگی تھی تاکہ اس عرصے کے دوران لوگ ٹھنڈے پڑجائیں اور وہ اس سانحہ کو بھول جائیں گے ۔بار صدر نے کہا کہ بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم سی بی آئی کی اس رپورٹ کو درست قرار دے رہے ہیں اور ڈائریکٹر جنرل سی بی آئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے شوپیان سانحہ کی تحقیقات سائنٹفک طریقے سے عمل میںلائی ہے۔میاں قیوم کے مطابق وزیر داخلہ اور ڈی جی سی بی آئی ریاستی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔میاں قیوم کا کہنا تھا کہ ”اس بنیاد پر بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ڈرامہ پہلے ہی دلی میں رچایاگیا تھا کیونکہ داکٹروں کی جو ٹیم دلی سے آئی تھی وہ نہ صرف ناتجربہ کار تھی بلکہ جو ڈاکٹر یہاں اس ٹیم کی سربراہی کررہے تھے وہ کئی گھوٹالوں میں ملوث ہے ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے اس سانحہ کی تحقیقات بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی کے سپرد کی اورسی بی آئی نے 14دسمبر کو عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں خواتین کی موت پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے ہوئی ہے اور عصمت دری اور قتل کو فرضی قرار دیکر 5 وکلا،6 ڈاکٹروں ، آسیہ کے بھائی اور ایک عمر رسیدہ شہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جن پولیس اہلکار کوکیس سے متعلق شواہد ضائع کرنے یا کیس دبانے کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے وہ بالکل بے قصور ہیں۔بار صدر نے بتایا ”وکلاءکے خلاف چارج شیٹ اس لیے داخل کی گئی کیونکہ وہ اس کیس سے متعلق اہم گواہوں کے بیانات عدالت میں قلمبند کروانے میں پیش پیش تھے“۔ انہوں نے کہا ”ہم ان وکلاءکے ساتھ ہیں اور اب یہ طویل قانونی لڑائی ہے لیکن اس دوران ہم عالمی سطح پر بھی بین الاقوامی اداروں کاتعاون طلب کر کے سی بی آئی کوبے نقاب کریں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے بار کے تمام ضلع صدورپریس کانفرنس میں موجودتھے۔یاد رہے کہ سی بی آئی کی اس رپورٹ کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے مختلف طبقہ ہائے فکر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

Advertisements

One Response to سی بی آئی رپورٹ ایک ڈرامہ :بارایسوسی ایشن

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: