محکمہ گلبانی کے ملازم نو سال سے انصاف کے منتظر

عدالت عالیہ کے احکامات کو ٹھکراتے ہوئے ریاستی حکومت گذشتہ چار سال سے محکمہ گلبانی میں تعینات 31ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہی ہے ۔سرکار کی اس بے رخی سے پر تناﺅ حالات میں ایک ملازم چند روز قبل دل کا دورہ پڑنے کے نتیجے میںجاں بحق ہوگیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سال1999میں گلبانی کے محکمہ میں 31افراد کو تعینات کیا گیا تاہم دو سال کے عرصے کے بعد ہی ان ملازمین کی تعیناتی کو سرکار نے غیر قانونی قرار دیکر مذکورہ ملازمین کو برطرف کردیا۔نوکری سے برطرف کیے جانے پر مذکورہ ملازمین نے عدالت عالیہ میں ایک کیس دائر کردیا اور عدالت عالیہ نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا جس کو ریاستی سرکار ابھی تک عملانے سے قاصر ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازمین فروری1999میں محکمہ گلبانی میں تعینات ہوئے اوران کی تنخواہیں زیر آرڈر نمبرTSM/FLORT/31/2000-IIبتاریخ 20دسبر 2000بھی واگذار کی گئیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق 13جنوری 2001کوآرڈر نمبرDF/CJ/708-18/F-547کے تحت مذکورہ ملازمین کو مستقل کیا گیا اور مختلف مقامات پر فرائض انجام دینے کیلئے مامور کیا گیا۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران یہ ملازمین انکریمنٹ بھی حاصل کرتے رہے جو ذرائع کے مطابق ان کے سروس بک سے بھی عیاں ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے 12جون 2001کو آرڈر نمبر 626/GAD/2001کے تحت ایک حیران کن فیصلہ یہ سنایاکہ ان 31ملازمین کو نوکری سے برطرف کیا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق GADنے مذکورہ ملازمین کی برطرفی کیلئے یہ وجہ بتایا ہے کہ ان31ملازمین کی تقرری کو محکمہ گلبانی کے ڈائریکٹرنے قانونی حدود پھلانگ کر عمل میں لایا ہے۔ ذرائع کے مطابق GADکا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر ملازم تعینات کرنے کا مجاز نہیں ہے۔مذکورہ ملازمین نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا ” افسوس اس بات کا ہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کوڈائریکٹر گلبانی کا یہ تقرری عمل اس وقت غیرقانونی نظر آیا جب ان کی سروس دو سال سے زائد عرصہ کی ہوچکی تھی“۔ذرائع کے مطابق برطرفی کا آرڈر اجراءکرتے وقت جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ محکمہ گلبانی کے انڈر سیکریٹری کے اس آرڈر کو صرف نظر کرگیا جو اپریل 2000 میںڈائریکٹر کے نام اجراءہوا تھا ۔ذرائع کے مطابق اس آرڈر میں متعلقہ محکمہ کے انڈر سیکریٹری نے ڈائریکٹر کو ہدایات دی ہیں کہ مذکورہ ملازمین کو اپریل 2000سے تنخواہیں واگذار کی جائیںاور ان کی تبدیلی عمل میں لائی جائے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ آرڈر میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی تبدیلی عمل میں لاتے وقت ان کے ضروری کاغذات بھی ساتھ دئے جائےں تاکہ یہ اپنے اپنے دفاتر سے ہی تنخواہیں حاصل کریں۔مذکورہ ملازمین کے بقول جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے آرڈر کو چلینج کرنے کیلئے انہوں نے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جسٹس حکیم امتیاز حسین کی عدالت میں کیس دائر کیا۔ریاستی حکومت نے اپنی عرضداشت میں عدالت سے کہا کہ متعلقہ محکمے کے ڈائریکٹر نے غیر قانونی طور یہ تقرریاں عمل میں لائی ہیںتاہم جج نے مذکورہ ملازمین کے کیس کو صحیح ٹھہراتے ہوئے16دسمبر 2005کو فیصلہ سناتے ہوئے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے آرڈر کو رد کردیا۔جج نے حکومت سے کہا کہ اگر ان ملازمین کی تقرری غیر قانونی ہے تو حکومت دو سال قبل کہاں تھی جب ان کے حق میں تنخواہیں واگذار کی گئیں اورسروس بک بن گئے۔مذکورہ ملازمین کے مطابق حکومت نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو ٹھکراتے ہوئے عدالت عالیہ کے ڈبل بینچ میں اپیل دائر کی ۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس نثاراحمد ککرو نے سنگل بینچ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 10فروری 2009کویہ احکامات صادر کئے کہ مذکورہ ملازمین کو فوری طور بحال کیا جائے اور عدالت کو ان ملازمین کی بحالی سے باخبر کیا جائے۔مذکورہ ملازمین یونین کے صدرمحمد رفیق بٹ نےبتایا”عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ سنایا لیکن حکومت تاحال اس فیصلے سے منکر ہے“۔انہوں نے کہاکہ عدالتی احکامات کو ٹھکرانے کے بعد انہوں نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کیس دائر کردیا جو ابھی چل رہا ہے۔بٹ کا کہنا ہے ”ہم وزیر اعلیٰ سے بھی ملاقی ہوئے لیکن انہوں نے بھی وعدوں کے بغیر کوئی مرہم کرنے کی کوشش نہیں کی“۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کے اس طریقہ کار سے ان کا ایک ساتھی ملازم پیر غلام نبی ساکن اشاجی پورہ اس وقت دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیاجب اسے معلوم ہوا کہ دفاتر جموں منتقل ہوگئے لیکن ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

click

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: