کشمیر میں قبرستانوں کی خاموشی ٹوٹنے لگی

بشری حقوق کےلئے کام کرنے والے مختلف اداروں پر مشتمل ’ انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس و جسٹس ‘نے شمالی کشمیر کی کئی بستیوں میں آباد متعددقبرستانوں میں 3 ہزارسے زائد مزید بے نام قبریں ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ قبریں ان افراد کی ہوسکتی ہیں جنہیںدوران حراست جاں بحق کیا گیا ہے۔جموں کشمیر میں ان بے نام قبروں کی دریافت کا سلسلہ28مارچ 2008کو شروع ہو ا تھا جب لاپتہ افراد کی تنظیم اے پی ڈی پی نے کشمیر کے شمالی علاقوں کی سروے کے دوران ضلع بارہ مولہ کے 18 دیہات سے940 بے نام قبریں دریافت کی تھیں جن میں اجتماعی قبریں بھی شامل تھیں۔ مذکورہ عوامی تفتیشی تنظیم’ انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس و جسٹس‘ کی طرف سے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں’Buried Evidence‘نامی رپورٹ جاری کی گئی ۔رپورٹ کے مطابق 2ہزار7سواجتماعی اوربے نام قبروں میں2ہزار 943سے زائد افراد مدفون ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان بے نام قبروں کو شمالی کشمیر کے55دیہات سے دریافت کیا گیا۔شمالی کشمیر کے یہ دیہات بانڈی پورہ ،بارہ مولہ اور کپوارہ اضلاع کے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ ادارے کی کنوینر انگنا پی چٹر جی نے کہا” سال 2006سے 2009تک شمالی کشمےر کے تےن اضلاع کپواڑہ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ مےں تحقےقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان بے نام قبروں میں گمنام افراد کو سال 1990سے2009تک دو بدو جھڑپوں اور فرضی جھڑپوں میںجاں بحق کیاگیا ہے“۔انگنا نے کہا ”ان قبروں میں ایسے افراد مدفون ہیں جن کو ماورائے عدالت اور حراست میں لینے کے بعد فرضی جھڑپوں کے دوران قتل کیا گیا ہے “۔ انگنا کا کہنا تھا” ان2373 قبروں میں87.9بے نام ہیں جبکہ 154قبروں میںدو دو شخص دفن ہیں“۔ اجتماعی قبروں کا انکشاف کرتے ہوئے انگنا نے مزید کہا ”23قبریں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک قبر میں 3 سے لیکر 17افراد دفن ہےں“۔انگنا نے کہا کہ اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد محسوس ہورہا ہے کہ بھارت جموں کشمیر میں جنگی جرائم ،نسل کشی اور غیر انسانی حرکات کا مرتکب ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ، بارہ مولہ اور کپواڑہ میں پائی جانے والی اجتماعی قبریں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں نوجوانوں کو ہلاک کیا ہے جنہیں بعد میں ریاستی پولیس نے خفیہ قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ ادارے نے وادی کے مختلف اضلاع میں 50مبینہ جھڑپوں کے دوران ہلاکتوںکی تحقیقات بھی عمل میں لائی ہے۔انہوں نے کہا” تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ ان پچاس مبینہ جھڑپوں میں فقط اےک کشمےری جنگجو شامل تھا جبکہ39مسلمان ،47عام شہری،4ہندو اور7افراد کے بارے میں کوئی جانکاری حاصل نہیں ہوئی“۔رپورٹ میں ان 50 ہلاکتوں کے بارے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان 50افراد میں سے 49کوسیکورٹی فورسزنے قتل کرکے مقامی یا غیر ملکی جنگجولیبل چسپاں کی تھی جبکہ ایک کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ڈوب گیا۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ان 50افراد میں سے 47کو فرجی جھڑپوں کے دوران ہلاک کیا گیا اور ایک کو مقامی جنگجو قرار دیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں معروف انسانی حقوق کارکن ایڈوکیٹ پرویز امروز،معروف صحافی ظہیر الدین،انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا ،ممبئی ہائی کورٹ اور بھارتیہ سپریم کورٹ سے منسلک ماہر قانون ایڈوکیٹ مہر ڈیسائی اور مذکورہ ادارے کے کوارڈنیٹر خرم پرویز نے بھی رپورٹ کے بارے میں روشنی دالی۔انہوں نے کہا کہ جاری کی گئی اس رپورٹ میں فقط شمالی کشمیر کے تین اضلاع پر مشتمل چند مخصوص علاقوں کی سروے عمل میں لائی گئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی سروے دس اضلاع میں ہوگی تو صورتحال کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ 1989سے جن8ہزار سے زائد افراد کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ،ان کی تعداد بے نام اور اجتماعی قبروں میں مدفون افراد سے مل سکتی ہے۔انہوں نے جموں کشمیر میں بے نام اور اجتماعی قبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے گذشتہ سال جموںوکشمیر میں 1989سے ہوئی ہلاکتوں، حراستی گمشدگیوں، جسمانی تشدد، عصمت ریزی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے دیگر واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند پر زوردیا تھا کہ وہ کشمیر میں دریافت شدہ بے نام قبروں کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اورثبوت و شواہد کو محفوظ رکھنے کیلئے ان مقامات کو محفوظ کیا جائے جہاں یہ بے نام قبریں موجود ہیں۔اس سلسلے میں 10جولائی کو یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں کہاگیا کہ سال2006سے جموں وکشمیر میں سینکڑوںبے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سے صرف اوڑی کے 18دیہات میںایسی 940قبروں کا پتہ لگایا گیاہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ بے نام قبریں ان لوگوں کی ہوسکتی ہیں جنہیں 1989سے غیر قانونی طریقوں سے قتل کیاگیا،جبری طورلاپتہ کردیاگیا یاپھر تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ قرارداد میں کہاگیا تھاکہ 1989سے ریاست میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر 4ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے جبکہ گمشدہ افراد کے لواحقین کے مطابق یہ تعداد8ہزار سے زیادہ ہے۔پریس کانفرنس میں موجود ایک لاپتہ شخص کی بہن نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اس نامہ نگارکو بتایا کہ قبرستان کی خا موشی مشہور ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کشمیر میں قبرستانوں کی خاموشی ٹوٹنے لگی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال 940اجتماعی بے نام قبروں کی دریافت کے بعد یہاں کے قبرستان بول پڑے ہیں اور ان کی چیخ و پکار کئی رازوں سے پردہ اٹھانے کا عندیہ دے چکی ہے ۔ جس سے اپنے لاڈلوں کی تلاش میں برسوں سے بھٹک رہی کئی ماﺅں کی امیدیں تمام ہو ں گی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: