بٹ کی موت ’مرگ مفاجات ‘ :لواحقین

بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد پولیس محکمہ میں ملازمت ملنے کے وقت مرحوم محمد یوسف بٹ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہ تقرری اسکے موت کا باعث بن سکتی ہے۔محمد یوسف سال2004میں فالوور(follower) کی حیثیت سے محکمے میں تعینات ہوا تھا اور چار سال کی سرکاری نوکری اور اپنی 28سالہ زندگی کو 2010 کی ابتداءمیں اس وقت خیر باد کہہ دیا جب بدھوار بعد دوپہر سرینگر کے لالچوک علاقے میں مبینہ طور جنگجوﺅںنے گرنیڈ پھینکنے کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے ایک ہوٹل میں پناہ لی۔محمد یوسف لالچوک میں ہوئے اس فدائین حملے میں ہلاک ہونے والا پہلا اہلکار تھا جبکہ اس حملے میں مرحوم بٹ کے علاوہ مزید تین افراد کی موت بھی واقع ہوگئی جن میں ٹنگمرگ کا ایک عام شہری محمد اکبر لون اور دو فدائین جنگجوبھی شامل ہیں۔
پولیس محکمے میں فالوورکی ملازمت اختیار کرنے کے بعد مرحوم محمد یوسف اسٹیشن ہاﺅس آفیسر(ایس ایچ او)تھانہ مائسمہ کے ڈرائیور کے فرائض انجام دے رہا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ڈرائیور کا تربیت یافتہ ہونا لازمی ہے تاکہ وہ حسب موقع اپنا اوراپنی گاڑی میں سوار افراد کا دفاع کرسکے۔تاہم ذرائع کے مطابق فالوور جیسے عہدوں کیلئے پولیس میںکوئی تربیت نہیں ہوتی ہے۔بٹ کی شریک حیات 27سالہ طاہرہ نے اطلاعات کوپرنم آنکھوںسے کہا” میراشوہر کوئی تربیت یافتہ پولیس اہلکار نہیں تھا اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس کو گاڑی چلانے کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی“۔طاہرہ کا کہنا تھا ”میرے شوہر کو ایسی کوئی تربیت نہیں تھی جس سے وہ اپنے آپ کو کسی ایسے حملے سے بچاسکتا تھالیکن پھر بھی اسے ایک انتہائی حساس علاقے میں ڈرائیور کا کام سونپا گیا تھا“۔طاہرہ نے روتے بلکے کہا ”میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے کیوں میرے شوہرکو موت کے منہ میں ڈھکیلا “۔اپنے بے قابو آنسوﺅںکو پونچھتے ہوئے طاہرہ نے کہا ”اگر مجھے سچ جاننے کیلئے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑے گا تو میں ہچکچاﺅں گی نہیں“۔طاہرہ نے مزید کہا ”پولیس نے میرے شوہر کو بلی کا بکرا بنایا اورمجھے زندگی بھر کیلئے تباہ کردیا بلکہ 27سال کی عمر میں بیوہ بنادیا“۔ طاہرہ نے انتہائی سخت لہجے میں کہا ”جو پولیس ایسے غیر تربیت یافتہ ملازمین کی جان کی پرواہ نہیں کریں گے وہ کس طرح عوام کی حفاظت کا دعویٰ کرسکتے ہیں“۔مرحوم کے لواحقین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال پولیس کی خدمت کرنے کے بعد انہیں اس کا یہ صلہ ملا کہ جب مرحوم محمد یوسف کی تجہیز وتکفین ہورہی تھی تو پولیس اسکی وردی تلاش رہی تھی ۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پولیس سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپ وردی کو واپس کیوں لے رہے ہیں تو پولیس کا کہنا تھا کہ یہ قانونی مسئلہ ہے۔ ” کیا قانون اتنا سخت ہے کہ جو وردی چار یا پانچ سال تک پہنی جائے ،موت واقع ہونے کے بعد اسے فوت شدہ شخص کے گھر میں ایک دن بھی نہیں رکھا جاسکتا ہے؟“بٹ کے لواحقین نے سوال کیا۔ بٹ کے رشتہ داروں کے مطابق انہیں وہ تصاویر دیکھ کر انتہائی کوفت ہوئی کہ کس طرح بٹ کی نعش کو جائے واردات سے ایک ہک کے ذریعہ سے گھسیٹا گیا۔ مرحوم بٹ نے اپنے پیچھے والدین اورایک بہن کے علاوہ بیوی طاہرہ،5سالہ بیٹی عایشہ اوراڈھائی سالہ بیٹے اسرار کو چھوڑا ہے۔

Advertisements

One Response to بٹ کی موت ’مرگ مفاجات ‘ :لواحقین

  1. FAYAZ WANI نے کہا:

    This is our efficient police who cannot protect their own men.

    The journalists who highlight their plight and in turn they shoot them in full media glare.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: