رشوت کے خلاف جنگ: گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے

جموں کشمیرمیںرشوت ستانی کے خلاف ’اعلان جنگ‘کے غبارے سے ہوا خود سرکاری اہلکاروںکے ہاتھوں نکالی جارہی ہے کیونکہ تواتر کے ساتھ سرکاری مشینری کے اعلیٰ ترین عہدیدار اس گھناﺅنے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں جب کہ خود حکمران اتحاد کے سیاستدان رشوت مخالف مہم کی ناکامی کا کھلے عام اعتراف کرنے لگے ہیں۔برسراقتدار آتے ہی سابق وزیر اعلیٰ آزاد نے رشوت مخالف مہم بقول ان کے ” جہاد کے جذبے“ سے شروع کی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مہم کی دھار کند ہوتی گئی اور سرکاری مشینری کے چال وچلن اور مزاج میں کوئی قابل ذکر تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ویجی لینس تنظیم اب تک کئی سرکاری ملازمین کو رشوت مخالف مہم کے شکنجے میں کس چکی ہے، جن میں کئی اعلیٰ افسران اور انجینئر شامل ہیں ۔ماضی قریب میں چنانچہ آر اینڈ بی کے چیف انجینئر وں کویکے بعد دیگرے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیاجبکہ کئی ایک دفاتر پر رشوت ستانی کے حوالے سے چھاپے ڈالے گئے اورکئی ایک انجینئرصاحبان کو رشوت لیتے ہوئے ویجی لینس نے دھر لیا تاہم حکومت کے ناقدین کے ساتھ ساتھ عوامی حلقے بھی بار بار اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے رشوت مخالف مہم اس ”مافیا“ کے غیر اہم کل پرزوں کو ہی نشانہ بناتی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رشوت ستانی کے خلاف کسی بھی سرکار یاوزیر کا نعرہ سراسرسراب ثابت ہورہا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معاملہ گول لگتا ہے جب خود محتسب اپنا محاسبہ کرنے میں ناکام رہا ہوتو کیا امید لگائی جاسکتی ہے کہ معاشرے سے بالعموم اور سرکاری مشینری کے شعبوں سے بالخصوص رشوت ستانی کے ناسور سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سال 2007جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکریٹری اورممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جلسے سے تقریر کے دوران جموں کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی’رشوت خوری کے خلاف جنگ‘کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے بتایاتھا کہ’حد تو یہ ہے کہ ویجی لنس اہلکار رشوت ستانی اور اوپری آمدنی حاصل کرنے والے سرکاری عہدیداروں کو پہلے ہی آمدنی سے زائد املاک کو ویجی لنس کی نظروں سے بچانے کی تدابیر تجویز کرتے ہیں اور راہ داری فراہم کرتے ہیں‘۔واضح رہے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد خود اس جلسے میں موجود تھے۔ اس حوالے سے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے ایک ٹھیکیدار نے اس نمائندے کو بتایا ”چونکہ اب یہ بات زبان زد عام ہوئی ہے کہ جموں کشمیر بدعنوانی اور رشوت ستانی میں بہار کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔کورپشن کا عکس اب عام معمولات زندگی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ اگر گھر کے کسی فرد کو ملنے کوئی دوست دروازے پر دستک دیتا ہے تو اندر سے باپ اپنے بیٹے کو بتاتا ہے کہ جاکر بتادو کہ میں گھر میں نہیں ہوں۔ بعض اوقات بیٹا جاتا ہے اورسیدھے طوربتاتا ہے کہ پاپا بولتا ہے کہ میںیہاں نہیںہوں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کورپشن اور دیگر منسلک سماجی امراض میںکس قدر گہری جڑیں پکڑچکا ہے“۔ پاور ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کااس ضمن میں کہنا ہے کہ رشوت ستانی کے خلاف جنگ میں عوامی حلقوں میں سرکاری نعرے کی تائید اور حمایت حاصل ہے تاہم عمل درآمد میں اہم رول حکومت کا ہی ہے۔ انہیں چاہئے کہ قول و فعل پر سختی سے عمل کروائیں جن سے یہ بات طے ہے کہ سرکاری مشینری کے شعبہ ہائے کار سے شفافیت عیاں ہوسکتی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: