تہاڑ جیل میں مقید کشمیری نوجوانوں کی حالت زار

بھارت کے تہاڑجیل میں جیل حکام نے کشمیری نظر بندوں کو خوف و ہراس کا شکار بنانے کیلئے پیشہ ور مجرموں کی خدمات حاصل کی ہیں۔مذکورہ پیشہ ور مجرموں نے یہاں ایسے گروہ منظم کئے ہیں جنہیں ’بلیڈ باز‘ کہا جاتا ہے اور جنہوں نے اب تک تقریباً ایک درجن کشمیریوں کو اپنے حملوں کا شکار بنایا ہے۔ان باتوں کا انکشاف تہاڑ جیل سے بھیجے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے جس خط میں 20قیدیوں کے دستخط ثبت ہیں۔مذکورہ خط کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر کے نام لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے ’ہم نے آپ کو اپنی حالت زار سے آگاہ کیا ہے کہ کیسے کشمیری نظر بندوں کو جیل حکام کی طرف سے اذیتیں پہنچائی جارہی ہیں اور عدالتی تاریخوں کے مواقع پر جیل کے اندر اور باہر کیسے ظلم روا رکھے جارہے ہیں‘۔حالات زنداں سے آگاہ کرتے ہوئے مذکورہ قیدیوں نے لکھا ہے’یہاں بدنام زمانہ مجرم، دھوکے باز ،چوراور ڈھکیت ستیندر پال سنگھ عرف ٹوینکل سنگھ نے اپنے کئی دوسرے ہمنواﺅں اور جیل کے اہلکاروں کے ساتھ ملکر ایک ’بلیڈ باز‘ گروہ ترتیب دیا ہے جو عزت دار اور عام لوگوں کے پتے جمع کرکے خوف و دہشت کی وجہ سے انہیں اپنے عزیز واقارب سے ملنے میںدشواریاں پیش کرتا ہے اور ملنے کے مواقع تب ہی نصیب ہوتے ہیں جب اس کی قیمت پیسوںکی صورت میںادا کی جاتی ہے۔
مذکورہ خط میںان قیدیوں نے تحریر کیا ہے کہ کشمیری نظربندوںکو یقین ہے کہ ان کے ہمدرد و رفقاءکشمیر کاز کیلئے لڑرہے ہیں تاکہ بھارت کی غلامی سے نجات حاصل کریں۔مذکورہ خط کے الفاظ ہیں کہ فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل چند جیل اہلکاروں کی زد میں بھی کشمیری ہی آتے ہیں۔خط کے مطابق ’جیل کے اندر ایک مجرم ستیندرپال سنگھ عرف ٹوینکل سنگھ اپنے دوسرے ساتھی شیرو کے ساتھ ایک بلیڈ باز گینگ بنائی ہے جو جیل حکام کے آشیرواد سے باقی قیدیوں خاصکر کشمیری نظربندوں کو ہراساں کررہی ہے۔ مجرم شیرو اور ستیندرپال سنگھ نامی مجرموں کی سرپرستی اور جیل حکام کی آشیرواد سے سرگرم بلیڈ بازوں نے خط کے مطابق حال ہی میں ایک کشمیری نظربند آزاد قریشی کا گلہ کاٹنے کے علاوہ فاروق فاصد،محمد اسحاق ایتو،محمد اکرم کاکی، عبد الرحیم اور دوسرے کشمیری نظر بندوں کو اپنے حملوں کا شکار بنایا“۔ خط کے مطابق ”بلیڈ باز گروہ نے مرزا افتخار نامی کشمیری نظر بند پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ان کھانے کی چیزوں کو سنبھال رہا تھا جو اسے اسی دن اپنے گھر سے آئی تھیں“۔خط کے مطابق مرزا افتخار پر حملے کے بارے میں جیل حکام کو مطلع کرنے کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ان قیدیوںنے اس حوالے سے جیل کے تمام اعلیٰ عہدیداروں کو مطلع کیا ہے کہ کس طرح ایک منظم طریقے سے کشمیریوں کے خلاف یہاں ستیندرپال سنگھ عرف ٹوینکل سنگھ،بلیڈ باز شیرو (محمد شیرو ولد محمد ادریس) اور بعض جیل حکام کشمیری نظربندوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ان قیدیوں کے مطابق جن حکام کو ان کی طرف سے دستخط شدہ شکایات پیش کی گئیں ان میں ڈائریکٹر جنرل جیل ،سپرانٹنڈنٹ سینٹرل جیل نمبر 1،ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پرکاش اور دوسرے کئی اعلیٰ جیل حکام شامل ہیں۔ہیومن رائٹس فورم کے چئیرمین محمد احسن اونتو کا کہنا ہے کہ بھارت کی سبھی جیلوں میں خصوصاً تہاڑ جیل میں ان حملہ آوروں کو جیل حکام کا آشیرواد حاصل ہے۔ واضح رہے کہ احسن اونتو خود ساڑھے پانچ سال
تک تہاڑ جیل میں مقید تھے اور اونتو کے بقول ’وجے چیمپئن‘ نامی دلی کے ایک قیدی نے ان پر کئی بار حملہ کیا اور ایک حملے کے دوران اس کے چار دانت بھی توڑدئے گئے۔
تہاڑ جیل میں مقید قیدیوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہندوستان خود کو ایک جمہوری ملک مانتا ہے اور اس ملک کا آئین سیکولرزم کا آئینہ دار ہے جبکہ اس ملک کی عدلیہ کو غیر جانبداری کا زعم بھی ہے تاہم ریاست میں عموماً اور وادی کشمیر میں خصوصاً ہندوستان کی جمہوریت شجر ممنوعہ بن جاتی ہے اور یہاں قانون کے معنی ہی بدل جاتے ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی میں قانون کے ایک طالب علم کے مطابق تہاڑجیل میں کشمیری قیدیوں کی حالت زار ہندوستان کی عدلیہ پر ایک ایسا سوالیہ ہے جس کی پوری دنیا میں کہیں مثال نہیں مل سکتی ہے۔ مذکورہ طالب علم کا کہنا ہے کہ کشمیری قیدیوںکو عمر قید سے بھی زیادہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کیساتھ جانبدارانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں کشمیری قیدی گزشتہ کئی سال سے عقوبت خانوں میں سڑرہے ہیں ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: