تیل خاکی چور بازاری کاا سکینڈل طشت از بام

کروڑوں روپئے مالیت کے خرد برد میںبا اثر لوگ ملوث
وادی میں کروڑوں روپئے کے تیل خاکی کی بلیک مارکیٹنگ کا ایک سکینڈل طشت ازبام ہوگیا ہے۔اسکینڈل میں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری ،کیروسین اوئل ڈیلرس ایسو سی ایشن سمیت ہول سیل اوررٹیل ڈیلرملوث بتائے جاتے ہیں۔اس اسکینڈل میں ملوث کئی بااثر لوگوں کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے اور عنقریب مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔گرفتار شدگان میں 8افراد شامل ہیں اور اگلے دو ایک روز میں ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا جارہا ہے۔پولیس کی خصوی تحقیقاتی ٹیم(SIT)نے اس سکینڈل کے سلسلے میںحکومت کو اپنی ابتدائی رپورٹ بھی بھیج دی ہے تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس کے خصوصی تحقیقاتی ادارے پر دباﺅ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں کہ وہ کیس کی تشہیر اور تحقیقات کرنے سے گریز کریں ۔
پولیس کے خصوصی تحقیقاتی ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ’ یہ کروڑوں روپئے کا سکینڈل ہے ۔ہر ماہ 50لاکھ روپئے مالیت کا رعایتی تیل خاکی وادی کے صارفین میںتقسیم کرنے کی غرض سے پہنچایا جاتاہے جس کو تحقیقاتی دائرے میں لانے کی ضرورت ہے‘۔SITذرائع کا مزید کہنا ہے کہ’ دیہی آبادی کیلئے مختص رعایتی تیل خاکی کا 80فیصد بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ 20فیصد ہی مستحقین تک پہنچتا ہے‘۔SITکے مطابق ’تیل خاکی کی چور بازاری کشمیر میں گزشتہ کئی برس سے جاری ہے اور تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا ہے کہ اس چور بازاری کیلئے ایک منظم مافیا سرگرم ہے جو مٹی کے تیل کی مصنوعی قلت پیدا کرکے صارفین کو پریشان کرتے ہیں‘۔پولیس کے خصوصی تحقیقاتی ادرے (SIT)کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ اسکینڈل اس وقت طشت از بام ہوگیا جب سرےنگر پولےس نے اےک مصدقہ اطلا ع ملنے پر5فروری کو شہر کے آلوچہ باغ علاقہ میں مٹی کے تےل سے بھرا ہوا اےک ٹےنکر زےرنمبرJK02W-3935 کو ضبط کرکے اس کے ڈرائےور مشتاق احمد وانی ولد آشور وانی ساکنہ منور آباد سرےنگر کو گرفتار کرلیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹےنکر کو غےر قانونی طور محمد شفےع درزی اور غلام نبی درزی پسران عبدلاحد درزی ساکنہ آلوچہ باغ کی دکانوں مےں ان لوڈ کےا جارہاتھا۔رپورٹ کے مطابق پولیس تھانہ شیر گڈھی میںاس سلسلے میں ایک کیس زیر نمبر 7/2010زیر دفعات120-B,407,409,420 RPCاور3/7Eدرج کرلیا گیا اورتحقیقات کیلئے پولیس کے خصوصی تحقیقاتی ادارے(SIT)کا قیام عمل میں لایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ SITکو تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ضبط کیا گیا تیل ٹینکر ایک رفیقی اینڈ کمپنی نامی ہول سیل کیروسین ڈیلر کی طرف سے منتقل کیا گیا تھا جو وادی میںتقسیم کئے جانے والے کل تیل خاکی کا 50 فی صدی حصہ ان ہی کے ہاتھوں تقسیم کیا جاتا ہے۔یاد رہے وادی میں 22ہول سیل ڈیلر تیل خاکی تقسیم کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹینکر سے ضبط کئے گئے کاغذات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ضبط کیا گیا ٹینکر ان دس ٹینکرس میں سے ایک تھا جو بارہ مولہ کیلئے مختص کئے گئے تھے۔یاد رہے کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری تیل خاکی تقسیم کرنے کیلئے ہول سیل ڈیلرس کو الاٹمنٹ واگذار کرتا ہے جبکہ تمام اضلاع کی تقسیم کاری کیلئے بھی مذکورہ محکمہ ہی اجازت دیتا ہے۔محکمہ امور صارفین سے وابستہ ہر ایک ضلع کا اسٹنٹ ڈائریکٹررٹیل ڈیلرس کی تقسیم کاری کیلئے اپنے ماتحت ہول سیل ڈیلرس کیلئے پروگرام ترتیب دیتا ہے اور رٹیل ڈیلرس تک تیل پہنچانے کیلئے امور صارفین ذمہ داران اور تحصیلدار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے نمائندہ کو ٹینکر کے ساتھ بھیجیں۔تاہم رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران SITذمہ داران کو امور صارفین کے ضلعی عہدیداران سے یہ معلوم ہوا کہ ضلع میں تیل کاکی کی تقسیم کیلئے کوئی روسٹر ترتیب نہیں دیا گیا تھاجس کے بعد تحقیقاتی ادارے نے مزید 9ٹینکروں کی تلاش شروع کردی۔رپورٹ کے مطابق SITکو 7ٹینکروں کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہیں بارہمولہ کی بجائے دیگر علاقوں میںخالی کردیا گیا تھاجبکہ دو ٹینکر زیر نمبرJK02W-3295اور JK01F-4273کو ٹینگہ پورہ بائی پاس کے نزدیک پایا گیا جن کو سوپور پہنچایا جارہا تھا تاہم روسٹر نہ ہونے کی وجہ سے سوپور کیروسین ڈیلرس نے مذکورہ دو ٹینکر’ ان لوڈ‘ کرنے سے منع کیا۔رپورٹ کے مطابق امور صارفین محکمہ سے یہ جانکاری حاصل کرنے کے بعد کہ تیل خاکی کی تقسیم کاری غیر قانونی طور ہورہی ہے SIT نے ساتوں ڈرائیوروں سے پوچھ تاچھ کی اور یہ معلوم ہوا کہ سبھی7ڈرائیوروں نے رفیقی اینڈ کمپنی نامی ہول سیل ڈیلر سے تیل حاصل کیا تھا جسے بارہمولہ اور سوپور کی بجائے سمبل کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ ڈرائیوروں سے جو’ ووچر‘ ضبط کئے گئے وہ تحصیلدار سمبل سے تصدیق شدہ تھے۔رپورٹ کے مطابقSITکو تحصیلدار اور گرفتار ڈرائیوروںکے بیانات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تحصیلدار کی سرٹفکیٹس بھی رفیقی اینڈ کپنی نامی ہول سیل کمپنی نے معاملہ دبانے کیلئے از خود تیار کی تھیں۔پولیس ذرائع کے مطابق رفےقی اےنڈ کمپنی سرےنگر، مشتاق احمد رفےقی اور منظور احمد رفےقی پسران غلام محمد رفےقی کے نام پر درج ہے اورپولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے مذکورہ افراد کے نام پر’سٹار سروس اسٹیشن‘ کے نام سے اےک پےٹرول پمپ بھی درج ہے جوکہ غےر قانونی طور پر چل رہا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے مےںانڈےن آئیل کارپورےشن سے رابطہ کےا گےا جنہوں نے جوابا لکھا کہ مذکورہ پےٹرول پمپ کوان کی طرف سے کوئی تےل سپلائی نہےں ہوتا ہے۔ پےٹرو ل پمپ کے بارے مےں ضلع ترقیاتی کمشنر سرےنگر کو بھی اطلاع دی گئی۔ پولےس کو تفتےش کے دوران پندرہ افراد کے خلاف شہادت ملی ہے جن مےں سے اب تک آٹھ افر کی گرفتا ر عمل مےں لائی گئی ہے ۔انکے نام طاہر احمد شورا منےجر رفےقی اےنڈ کمپنی ولد علی محمد شورا ساکنہ بمنہ سرےنگر ، محمد شفےع بٹ چپراسی رفےقی اےنڈ کمپنی ولد عبدالعزےز بٹ ساکنہ پانپور، محمد شفےع درزی ولد غلام نبی درزی ساکنہ آلوچی باغ سرےنگر ڈےلر،مشتاق احمد وانی ولد محمد عاشق وانی ساکنہ منورآباد سرےنگر ڈرائےور ٹےنکر نمبرJK02W-3935 شبےر احمد بٹ ولد غلام محمد ساکنہ سرنڈ کولگام ،ڈرائےور ٹےنکر زےرنمبرJK01F-4273 ، ہلال احمد شےخ ساکنہ رعناواری سرےنگر ڈرائےور ٹےنکرزےرنمبرJK02W-3925 ، مبارک احمد بٹ ولد گل بٹ ساکنہ سرنڈ کولگام ڈرائےور زےر نمبرJK01F-4138 اور عبدالرحمان خان ولد غلام محی الدےن خان ساکنہ کرالہ پورہ بڈگام ڈرائےور زےرنمبرJK02-3974 کے بطور ظاہر کئے گئے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس معاملے کی بڑے پیمانے پرتفتیش جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید انکشافات کے ساتھ ساتھ گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اگلے دو ایک روز میں ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا جارہا ہے۔زرائع کے مطابق 15افراد کے خلاف چالان پیش کیا جارہا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: