کشمیری لڑکی غیر روایتی میدانوں کی تلاش میں

فردوسہ(نام تبدیل کیا گیا ) سرینگر میں ایک دکان پہ بطور سیلز گرل کام کرتی ہے۔اس نے اپنے لیے یہ کام کیوں چن لیا‘اس سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں”میں یہ کام شوق سے نہیں کرتی ہوں۔میں بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی لیکن حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے کہ مجھے پڑھائی کو خیرباد کہنا پڑا۔باپ کی معمولی پنشن سے گھر کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی ہیں اور میرا کوئی بھائی نہیں ہے ،چار چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں جن کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے میں پچھلے دس سال سے یہ کام کررہی ہوں“۔اسی طرح18 سالہ شنو بھی ایک دکان پر سیلز گرل کے طور پر تعینات ہے ۔شنو نے اپنے ایک الگ انداز میں کہا”بھائی یہ کوئی سیر سپاٹا نہیں ہے۔اگر عزت محفوظ ہے تب کام کرنے میں حرج ہی کیاہے“۔
وادی میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے نتیجے میں نوجوان لڑکیوں نے روزگار کمانے کیلئے مختلف نوعیت کے ایسے غیرروایتی کام کرنا شروع کئے ہیں جو ابھی تک مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وادی میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور اس وقت اندازے کے مطابق پوسٹ گریجویٹ،گریجویٹ،میٹرک پاس،تربیت یافتہ انجینئر اور دیگر شعبہ جات میںتربیت حاصل کرنے کے بعد تین لاکھ کے قریب بے روزگار افراد روزگار کے متلاشی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عمر کی حدیں پار بھی کرگئے ہیں ۔اِن تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ بے روزگاروں میں ہزاروں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
وادی میں ایسی سینکڑوں بے روزگار پڑھی لکھی لڑکیاں ہیں جو اپنے گھروں میں والدین کا واحد سہارا ہیں ۔معاشی اور معاشرتی مجبوریوں کے سبب یہ لڑ کیاں روز گار کے حصول کے لیے نئی راہوں کی تلاش میں چل پڑی ہیں۔سرینگر کے ایک پٹرول پمپ پہ ایسی ہی کچھ لڑکیاں اب گاڑیوں میں پٹرول اور ڈیزل ڈالنے سے لیکر روپے وصول کرنے اور حساب وکتاب رکھنے کے جیسے کام پر مامور ہیں، حالانکہ اس سے قبل وادی میں کبھی بھی خواتین پٹرول پمپوں پہ کام نہیں کرتی تھیں۔
کشمیر یونیورسٹی سے فارغ اردو کی ایک طالبہ عاصمہ اس ضمن میں کہتی ہیں” حکومت کے پاس نوجوانوں کی معاشی بحالی کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے۔اگر ملازمتیں نہیں ہیں تو صنعت اور تجارت بھی کہاں ہے؟یہی حالات لڑکیوں کو غیر روایتی میدونوں کی طرف دھکیل رہے ہیں“۔
یہ حالات کیوں کر پیدا ہوئے ‘یہی سوال ہم نے ماہرِ سماجیات ڈاکٹر خورشیدالاسلام سے پوچھا تو انہوں نے کہا ”مغربی افکار اورمیڈیا کے زیرِ اثر ہماری نئی پوداور خصوصاًخواتین کی سوچ ناقابلِ یقین حد تک متاثر ہورہی ہے،سماجی اور تہذیبی اقدارتبدیل ہورہی ہیں،مادیت رگ رگ میں سرایت کررہی ہے،اور مادی دوڑ نوجوانوں کو کچھ بھی کرنے پر اُکسارہی ہے“۔ایک مقامی صحافی اور تجزیہ نگار اشفاق ملک اسی تناظر میں کہتے ہیں ”جدید طرز معاشرت،اور معاشی مجبوریاں آگے چل کر بنت حوا کو کہاں کہاں لے چلیں گی،شاید آج کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا،لیکن عورتوں کی نسوانیت اور نسوانی تقاضوں کو ملحوظ اور محفوظ رکھنے کے لیے معاشرے پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،جن کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے ۔ لڑکیاں معاشی اور سماجی مجبوریوں کے باعث ان غیر روایتی میدانوں میں قدم رکھنے پر مجبور ہیں۔سماج اپنے کمزور طبقوں کی حالت زار سے لاتعلق ہے،لیکن جب کوئی مجبور لڑکی اس طرح کا کام کرکے اپنی اور اپنے لواحقین کی روزی روٹی کا انتظام کرتی ہے تو سماج تلملا اٹھتا ہے‘جسکا کوئی جواز نہیں ہے“۔
لیکن کیا غیر روایتی میدانوں میں لڑکیوں کی موجودگی کو یہ معاشرہ برداشت کرے گا‘ اس بارے میں ایک مقامی کالج کی خاتون پروفیسر نے کہا”برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ابتدا میں تحفظات ہوتے ہیں،لیکن آہستہ آہستہ یہ تحفظات دور ہو جاتے ہیں۔شروع شروع میں تو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی کچھ لوگ اعتراض کرتے تھے۔آج ایسی کوئی بات نہیں ہے“۔

Advertisements

5 Responses to کشمیری لڑکی غیر روایتی میدانوں کی تلاش میں

  1. عنیقہ ناز نے کہا:

    امتیاز صاحب، اس سے پہلے بھی آپکی بھیجی ہوئی تحاریر کو میں نے پڑھا ہے۔ اگرچہ میرے ذاتی خیالات اس تحریر سے کچھ مختلف ہیں لیکن کیا آپکی یہ تحریر میں اپنے بلاگ پہ ڈال سکتی ہوں۔ میں اسکے ساتھ آپکا نام اور لنک بھی دینا چاہوں گی۔
    شکریہ

  2. imtiyazkhan نے کہا:

    تبصرہ کرنے کیلئے شکریہ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ رپورٹر جس رویے اور رجحان کی رپورٹنگ کررہا ہو اور جو چیز فروغ پا رہی ہو وہ اس سے اتفاق بھی کرے۔یہ محض حقائق کے متعلق اطلاع ہوتی ہے۔آپ اپنے بلاگ پر اس رپورٹ کو ڈال دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ذرہ نوازی کیلئے شکریہ۔

  3. Naeem نے کہا:

    مادیت پرستی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ لیکن اگر بنیادی ضرورتیں نہ پوری ہوں تو پھر لوگوں کو کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔

  4. آپ کا ای میل مجھے ملا تھا مگر کسی وجہ سے آپ کا بلاگ کھل نہ سکا۔ آپ کی تحریر اور تبصرہ کے جواب سے میں متفق ہوں۔ عصرِ حاضر کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص نہ صرف خود کو راہِ راست پر سمجھتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کے پیچھے چلیں۔ خاتون پروفیسر صاحبہ کی اس بات سے میں متفق نہیں ہوں کہ پہلے لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ میں 1937ءمیں جموں شہر میں پیدا ہوا۔ میری بڑی بہن نے 1947ء میں جموں ہی سے میٹرک پاس کیا اور میرے چچا کی بیٹی جو میری بہن سے عمرمیں بڑی ہے نے وہیں ایف اے پاس کیا۔ ہمارے اردگرد رہنے والے سب خاندانوں کی لڑکیاں اسکولوں اور کالج میں پڑھتی تھیں۔ ان دنوں بھی جموں کشمیر میں خواندگی 80 فیصد سے زیادہ تھی جو ابھی تک نہ بھارت میں ہے نہ ہی پاکستان میں۔
    اگر وقت ملے تو میرا بلاگ پڑھیئے بالخصوص تحریک آزادی جموں کشمیرسے متعلق۔۔۔

  5. imtiyazkhan نے کہا:

    افتخار بھائی آپ کا خواندگی کے باب میں دعویٰ ’دعویٰ بلا دلیل‘ ہے۔ کیونکہ آپکے اعدادوشمار سرکاری اعداد و شمار سے نہ صرف مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ برائے مہربانی آپ اپنے اعدادوشمار کو درست فرمائیں۔ اس وقت بھی ریاست کی خواندگی کی شرح 80فیصد نہیں اور آپ جس دور کی بات کر رہے ہیں اسوقت شرح خواندگی 10فیصد بھی نہ تھی جو کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اظہر من الشمس ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: