مہاجر پرندوں کا غیر قانونی شکار جاری

سیاست دان اور بااثر لوگ پیش پیش
ہرسال دنیا بھر سے لاکھوں موسمی پرندے یخ بستہ ہواﺅں اور برفباری سے پناہ لینے کے لیے کشمیر کی مختلف آبگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ جن میں ولر،مانسبل،ہائیگام،میرگنڈ، شالہ بگ اورہوکرسرآبگاہیں سرفہرست ہیں۔ یہ آبگاہیں ان پرندوں کو اپنے دل میں جگہ دیتی ہیں تاکہ یہ اپنی افزائش نسل کرسکیں۔ مہمان پرندوں میں سارس، کرین، ہنس، فلیمینگوز، عقاب ،بگلھ ،چکور اور کوکی وغیرہ شامل ہیں جو ٹولیوں کی شکل میں ان آبگاہوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں لیکن ان مہمان پرندوں کی حفاظت کے بجائے یہاں ان پر بندوقیں تان لی جاتی ہیں۔ جس کے باعث ہر سال ان مہاجرپرندوں کی تعداد میں واضح کمی آ رہی ہے۔
سائبیریا اوردنیا کے دیگر سرد علاقوں سے یہ موسمی پرندے لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ستمبر میں کشمیرآنا شروع کرتے ہیں اورفروری کے آخری ہفتے میں ان کی واپسی شروع ہو جاتی ہے۔یہ پرندے وسطی ایشیا سے ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کرکے ان علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں ۔ہزاروں میل کی مسافت طے کرکے یہ پرندے موسم سرما کے دوران کشمیر کی آبگاہوں کا رخ کرتے ہیں تاہم جانکار حلقوں کے مطابق کئی سال سے اب یہ مہاجر پرندے کشمیر کی آبگاہوں کی طرف کم ہی رخ کرتے ہیں جس کی وجہ ان جانوروں کا بڑی تعداد میں شکار کرنا بتایا جاتا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شکار شدہ پرندوں میں متعدد نایاب نسل کے پرندے بھی شامل ہیں ۔باوثوق ذرائع کے مطابق مہاجرپرندوں کا شکار کرنے کیلئے سیاسی شخصیات بھی مقامی جھیلوں پرآ تی ہیں۔ کشمیرکی جھیلوں میں سرد ممالک سے آنے والے ان نایاب پرندوں کا غیر قانونی شکار اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے آبی پرندوں کی خرید و فروخت بھی کھلے عام جاری ہے۔ہوکر سر آبگاہ کے نزدیکی علاقوںسوئیبگ، دہرمنہ،حاجی باغ،سوزیٹھ،زینہ کوٹ،لاوے پورہ اور دیگرعلاقوں میں محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے نایاب پرندوں کا شکار کے بعدخرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے ان نایاب پرندوں کی نسل کشی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔
آبگاہوں کے نزدیک رہائش پزیر لوگوں کا کہنا ہے کہ” پابندی کے باوجود سارا سیزن یہاں پرندوں کا شکار کرنے کیلئے سیاستدانوں اور ان کے دوستوں، امراءاور بیورکریٹس کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہ بااثر لوگ قانون کی قطعاً پروا نہیں کرتے اور نہ ہی جنگلی حیات کے افسروں اور کارکنوں کے بس کی بات ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی پر مزاحمت کرسکیں“۔
تصویرکا ایک قابِل فکر پہلو یہ ہے کہ مہاجر پرندوں کا شکار کرنے کے بعد تحفہ کے بطور سیاست دانوں، انتظامیہ اورپولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ایک اور خبر یہ ہے کہ حکومت ،انتظامیہ اور پولیس میں شامل بعض با اختیار شخصیات، بیوروکریٹس، سیاستدانوں کے دوستوں اور اعلیٰ شخصیت سمیت وی وی آئی پیز کو کھلے عام ان مہاجر پرندوںکا شکار کرنے کی اجازت حاصل ہے۔انتظامیہ ان خلاف ورزیوں کے دفاع میں کچھ بھی کہے” طاقتور انسانوں“ کے شوق کی بھینٹ چڑھائی جانے والی آبی حیات معدومیت کے خطرناک رستے پر چلتی دکھائی دے رہی ہے۔ آبگاہوں میں” قانونی شکار“ کا حق رکھنے والے حضرات کے بڑھتے ہوئے اختیار کا منطقی انجام ہے کہ تبصرہ نگار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ انسانوں کے بعد جنگلی جانور اور پرندے بھی انتقال مکان(Displacement) کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔
ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ’ دیگر سرگرمیوں کیلئے زمینوں کے استعمال میں اضافہ اورجنگلات میں کمی کے باعث پرندوں کے قیام کے قدرتی مسکن بہت کم رہ گئے ہیں۔ جھیلیں اورآبگاہیں اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان پرندوں کے قیام کیلئے سازگار حالات موجود نہیں رہے‘۔ماہرین کا ماننا ہے کہ’ بے تحاشا شکار بھی ان پرندوں کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ ہے جس سے ان کی تعداد میں کمی واقع ہونے لگی ہے ‘۔ماہرین کے مطابق اگر ان جانوروں کا شکار موجودہ شرح سے جاری رہا توآئندہ چند سال میں یہ انواع ناپید ہوجائیں گی ۔ماہرین کے مطابق ان موسمی پرندوںشکار کی روک تھام کیلئے معاشرے میں شعور کی بیداری اور جنگلی حیات سے متعلق رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
کشمیر کی آبگاہوں میں کئی سال سے مہاجر پرندوں کا شکار کرنے والے ایک شکاری نے بتایا”شکار کرنے سے ان جانوروں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی ہے بلکہ 15سال پہلے یہ موسمی پرندے جس تعداد میں یہاں آتے تھے، اس میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اوراس بنیاد پرشکار کرنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے تھی“۔انہوں نے مزید کہا”موسمی پرندوں کا شکار دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہے“۔مذکورہ شہری نے شکار کرنے کی اجازت پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا”جس طرح مچھلیوں کا شکارکرنے کیلئے حکومت نے ایک لائسنس اور فیس مقرر کی ہے ،اسی طرح مہاجر پرندوں کا شکار کرنے کیلئے بھی لائسنس یافتہ شکاریوں کیلئے فیس مقرر کی جانی چاہئے تھی تاکہ یہی رقم پھر آبگاہوں کی حفاظت اور ان جانوروں کے کھانے پینے کیلئے کام آتا اور غیر قانونی طور شکار کرنے پر بھی روک لگ جاتی“۔
وائلڈ لائف محکمہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا کہ”اسے آپ ہماری بے بسی کہئے یا انتظامیہ میں بیٹھے عہدیداروں کاغلبہ ۔مہاجر پرندوں کا شکار جاری ہے جبکہ جموں کشمیر وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1978کے ترمیم شدہ ایکٹ2002کے مطابق آبگاہوں میں مہاجر پرندوں کے کسی بھی قسم کا شکار کرنے پر پابندی عائد ہے“۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: