مرحوم جلیل اندرابی کی 14ویں برسی

دانشور طبقے کو بار کی طرف سے مرحوم کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین

مرحوم ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کی 14ویں برسی کے موقعے پر صدر کورٹ سرینگر میں منعقدہ ایک سمینار سے مرحوم ایڈوکیٹ کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے مقررین نے کشمیر کے دانشور طبقے پر زور دیا کہ وہ جموں کشمیر کی رواں جدو جہد آزادی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔مقررین نے کہا کہ دانشور طبقے پر اس نازک موڈ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی مظلوم قوم کو حصول مقصد تک تحریک کے تئیں باخبر کرتے رہیں۔ ‘مسئلہ کشمیر میں دانشوروں کا رول’ کے موضوع پرمنعقدکئے گئے اس سمینار کا اہتمام کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے کیا تھا۔یاد رہے کہ مرحوم ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کی نعش 27مارچ 1996کو دریائے جہلم سے برآمد کیا گیا تھا ۔اس سے قبل مرحوم کو 19روز قبل یعنی 8مارچ کو اپنی ذاتی گاڑی میں گھر کی طرف سفر کے دوران رام باغ کے مقام پر میجر اوتار سنگھ نامی فوجی آفیسر نے اپنے ماتحت اہلکاروں کے ہمراہ اغوا کیا  تھا۔اس وقت جلیل اندرابی کی اہلیہ بھی اس کے ہمراہ تھیںجس نے دوڑتے ہوئے فوجی گاڑی کا تعاقب کرنے کی کوشش کی تھی  مگر اسے کوئی سراغ نہیں ملا۔بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ جی این شاہین نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مرحوم جلیل اندرابی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے مرحوم کو ایک مخلص ، دانشمند اور ایک مفکر قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ مرحوم ایڈوکیٹ نے مظلوم کشمیری عوام کی نجات کیلئے اپنی جان نچھاور کردی۔شاہین نے کہا”جلیل نے آزادی کا شمع روشن کرنے کیلئے اپنا مقدس لہو بہادیا اور اب ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم آزادی کی اس شمع کو تحریک کے منطقی انجام تک روشن رکھیں۔علیحدگی پسند لیڈراور اسلامک اسٹوڈنٹس لیگ کے سربراہ شکیل احمد بخشی نے انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی سازشیں رچانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی ایک مثال انہوں نے مردم شماری کو ظاہر کیا۔شکیل بخشی نے کہا ”ریاست کی نئی مردم شماری میںریاست کے مسلمانوں کی مجموعی آبادی 65فیصددکھائی گئی ہے جبکہ 1947میں ریاست میں مسلمانوں کی کل آبادی 85فیصد تھی”۔انہوں نے مزید کہا کہ’ 2011میں پھر مردم شماری ہورہی ہے اسلئے ہمیں خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے جموں کشمیر کی حق خود ارادیت پر براہ راست اثر پڑسکتا ہے’۔انہوں نے جلیل اندرابی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خلاف 302کے تحت کیس درج کیا جانا چاہئے کیونکہ مرحوم جلیل اندرابی نے انہیں اپنے حالات سے باخبر کیا تھا کہ ان کی جان کو بھارت اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں خطرہ لاحق ہے ۔شکیل بخشی کے مطابق یہ جاننے کے باوجود کہ جلیل کی جان کو خطرہ ہے انہوں نے اس کو جلیل کوواپس جموں و کشمیر لوٹنے کی تلقین کی۔سینئیر ایڈوکیٹ محمد امین بٹ نے کشمیر کی رواں جدو جہد آزادی کوinstitutionlize   کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ادارتی سطح پر ہر ایک فرد اپنا رول بخوبی نبھاسکتا ہے۔انہوں نے بیرون ریاست بیٹھے کشمیری لیڈران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ‘سفارتی سطح پر ہم کشمیر میں ہورہے مظالم اور جائز جدوجہد کی تشہیر کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں’۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کی پروفیسر اور سینئیر حریت لیڈرنعیم احمد خان کی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ نعیم نے کہا کہ بھارت سرکار کشمیر کی جدو جہد آزادی کو ختم کرنے کیلئے نظریاتی سطح پر زائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری سوچ اور فکر کو تبدیل کیا جارہا ہے جس کیلئے دانشور طبقے پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے آکر اس کا توڑ کریں’۔سابق بار صدر ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا نے کہا کہ’ بھارت ایک سازش کے تحت کشمیری عوام کو اقتصادی طور بدحال کرنا چاہتا ہے جس کا توڑ کرنے کیلئے ہمیں راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے’۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(آر) کے جاوید احمد میر نے کہا کہ ‘ جموں کشمیر کی تحریک آزادی میں نوجوانوں نے اپنا لہو بہادیا ہے اور دانشور طبقہ کو اس خون سے انصاف کرنا چاہئے’۔مرحوم ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کے برادر اکبر ایڈوکیٹ سید ارشد اندرابی نے کہا”جلیل آزادی پسند تھا اور اس نے کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی زندگی وقف رکھی تھی جو بالآخران کی جان جانے کا ذریعہ بھی بن گیا”گ حریت کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے کہا ”مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں مضمر ہے اسلئے دوسرے راستے تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”۔ایڈوکیٹ زاہد نے مزید کہا کہ اصل دانشور تو وہی لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبد القیوم نے اپنے صدارتی خطبے میںجلیل اندرابی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان ایّام میں کشمیر بار ایسو سی ایشن میں تحریکی کردار ادا کیا جب سیاسی ماحول مکمل ناسازگار تھا ۔ایڈوکیٹ قیوم نے مزید کہا ” مرحوم جلیل اندرابی نے ایک قانون دان، انسانی حقوق کے علمبردار اور بحیثیت ایک آزادی پسند جو کردار ادا کیا ، وہ ایک تاریخ ہے اور ہمارے لئے مشعل راہ”۔ سمینار سے ع حریت کے حکیم رشید، ایڈوکیٹ مفتی معراج، پیپلز پولیٹکل پارٹی کے انجینئیر ہلال وار، مسلم لیگ کے فیروز احمد، اور دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: