پاپا کشتواڑی پیش عدالت، گواہ غیر حاضر

مقتول کے بیٹے کی سیکورٹی واپس لینے پر پولیس سے جواب طلب

سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات میں ایک طویل عرصے سے گرفتارسرکاری بندوق برادر(اخوانی) پاپا کشتواڑی کے خلاف نشاط قتل کیس کے سلسلے میں سنیچروار کوئی گواہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مقتول کے بیٹے کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے جس کے بارے میں انہوں نے عدالت کے ذریعے پولیس سے وضاحت طلب کی ہے۔ سینٹرل جیل سرینگر میں قتل کے الزام میں قید سرکار نواز بندوق برادر غلام محمد لون عرف پاپا کشتواری ساکن متی پورہ اجس حال پانپور کی طرف سے نشاط کے ایک ٹھیکدار کی حراستی قتل کیس میں سنیچروار کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پاپاکشتواڑی کو پیش کیا گیا تاہم گواہوں کی عدم موجودگی کے پیش نظر جج غوث اُلنساء نے کیس کے سلسلے میں احکامات صادر کئے کہ اگلی شنوائی پر گواہوں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ۔جج نے اگلی شنوائی کیلئے  تاریخ29اپریل مقرر کی۔یاد رہے کہ علی محمد میر ولد محمد رجب میرساکن نشاط سرینگر ایک ٹھیکیدار تھا جس کو سرکاری بندوق بردار (اخوانی) پاپا کشتواڑی نے مبینہ طور اپنے دیگر پانچ بندوق برداروں کے ہمراہ دوران حراست قتل کیا۔علی محمد میر کے قتل کے بعد اس کے بیٹے ظہور احمد نے نشاط پولیس تھانے میں پاپا کشتواڑی کے خلاف ایک کیس درج کیا۔اس دوران مقتول کے بیٹے ظہور احمد میر کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے جس کے خلاف انہوں نے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو تحریری طور آگاہ کیا۔انہوں نے اپنی شکایت میں عدالت کو بتایا کہ پولیس نے 8اپریل کی شام کواچانک اور حیران کن طریقے پر ان کی سیکورٹی واپس لے لی اور سیکورٹی واپس لینے سے پہلے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔میر نے عدالت کو مزید بتایاکہ سیکورٹی واپس لینے کی وجہ سے اسے دو دن سے روپوش ہونا پڑا ہے کیونکہ اسے خوف ہے کہ کہیں پاپا کشتواڑی کے آدمی اسے جان سے نہ مار دیں۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غوث انساء نے موقعے پر ہی ایس ایس پی ضلع سرینگر کو ہدایات جاری کئے کہ وہ فوراً اس حوالے سے جواب دے۔ظہور میر نے اس نامہ نگار کو بتایا ”میرے باپ کے قتل کے بعد جب میں نے پاپا کشتواڑی کے خلاف کیس دائر کردیا تو مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہورنے لگیں جس کے بعد میں نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن(ایس ایچ آر سی) سے مدد طلب کی ”۔میر کے مطابق ریاستی کمیشن کی سفارش اور عدالت عالیہ کے احکامات پر سال 2007میں ریاستی پولیس نے اسے دو پولیس اہلکاروں پر مشتمل سیکورٹی فراہم کی تاہم8اپریل کی شام کو دونوں پولیس اہلکار واپس لے لئے گئے۔میر نے بتایاکہ اسکی حفاظت کیلئے دو پولیس اہلکاروں کے بدلے ایک ایس پی او تعینات کیا گیا جو اس کی جان و مال کی حفاظت کیلئے کسی بھی صورت میں سود مند نہیں ہے کیونکہ میر کے بقول ایس پی او کی تربیت اس درجے کی نہیں ہوتی ہے کہ وہ سیکورٹی دینے میں کھرا اتر سکے۔ظہور میر نے بتایا ” مجھے جس آدمی کی وجہ سے سیکورٹی لینے کی ضرورت محسوس ہوگئی وہ اگرچہ خود جیل میں ہے لیکن اس کے آدمی(اخوانی) آج بھی سرگرم ہیں اور وہ کہیں بھی مجھے اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں”۔ظہور میر نے مزید بتایا ”مذکورہ قتل کیس میں پہلے ہی ایک ملزم فرار ہے جسے عدالت نے اشتہاری ملزم قرار دیا ہے”۔یاد رہے کہ پاپا کشتواڑی کے خلاف پولیس تھانہ نشاط میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر 16/2007زیر فعات364/342/302/201,120Bآر پی سی درج ہے ۔ کشتواڑی کے خلاف مقتول علی محمد میر کے بیٹے ظہور احمد میر نے یہ کیس درجے کرتے پاپاکشتواڑی کو اپنے باپ کے قتل میں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاپا کشتواڑی نے اس کے باپ کو 29اکتوبر 1996اغوا کرنے کے بعد دوران شب فرستہ بل پانپور میں جاں بحق کیااور پھرکشتواڑی کے کہنے پر ہی اس کے اہلکاروں نے اس کے باپ کی نعش کو دریا برد کیا تھا۔واضح رہے کہ پاپا کشتواڑی کو پانپور پولیس نے اپریل 2007کو بھی گرفتار کرلیا تھا جب اس نے پانپور کے ایک مقامی قبرستان پرقبضہ جمانے کی کوشش کی تھی جس کے خلاف علاقے میں زبردست احتجاجی لہر چھڑ گئی تھی۔ اس سلسلے میں پولیس تھانہ پانپورمیں کشتواڑی کے خلاف ایک ایف آئی آر زیر نمبر 70/2007 زیر دفعات427RPC 147/295-A/درج ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: