آسمانِ معصومیت کے دو اور تارے ڈوب گئے

شمالی کشمیر میں موت کا سفاکانہ رقص جاری،2طالب علم فورسز کی بربریت کا شکار
جموں و کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں  فورسز کے ہاتھوں معصوم نوجوانوں کی پے در پے ہلاکتوں کے خلاف تشدد اور زور دار احتجاجی مظاہروں کی تازہ لہر کے بیچ سوموار سی آر پی ایف نے سوپور کی طرف مارچ کررہے دو جلوسوں پر اندھادھند فائرنگ کرکے9سالہ کمسن بچے اور ایک17سالہ نوجوان کو موت کی ابدی نیند سلا دیا۔ گزشتہ جمعہ کو مظاہرین پر فائرنگ کے ایک واقعہ میں سی آر پی کے ہاتھوں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھاجبکہ حریت کانفرنس نے عوام سے ‘سوپور چلو’ کی اپیل کی تھی۔اتوار کی شام قصبہ کے نوجوانوں نے کرفیو توڑ کر ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے فائرنگ کی جس میں 22سالہ بلال احمد جاں بحق ہوگیا ۔ ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں بھی غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی۔گذشتہ24گھنٹوں کے دوران شمالی کشمیر کے سوپور اور بارہمولہ قصبوں میں 3نوجوانوں کی موت واقع ہونے کے بعد ہمہ گیر ہڑتال کے دوران سوپور، بارہمولہ، سرینگر، زینہ کوٹ، نارہ بل، پٹن،کپوارہ،ہندوارہ ، اسلام آباد،گاندربل اور بجبہاڑہ میں متعدد مقامات پر پر تشددجھڑپوں میں 150سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیکریٹریٹ اورپولیس گاڑیوں سمیت درجنوں گاڑیوں کی زبردست توڑ پھوڑ کی گئی۔اس دوران حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کی کال پر سرینگر ،بارہمولہ ،ہندوارہ اور سوپور کے مضافات سے سوپور قصبے کی طرف مارچ کرنے والے ہزاروں لوگوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا گیاجبکہ ‘سوپور چلو’ کال کو ناکام بنانے کیلئے کم و بیش تمام حریت لیڈران کو یا تو گرفتار یا اپنے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ سوپور میں اتوار کو بلال احمد وانی نامی نوجوان کے جاں بحق ہونے کے بعدہزاروں مردوزن رات بھر گھروں سے باہر آکرسڑکوں پر احتجاج کرتے رہے اور مساجد کے لائوڈ اسپیکروں پر انقلابی ترانے بجائے گئے ۔سوموار کی صبح ہزاروں لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس کی صورت میں کئی علاقوں سے گذرتے رہے جس کے دوران بلال احمد کے جلو س جنازہ پر مین چوک کے نزدیک پولیس نے لاٹھی چارج، ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا  آزادانہ استعمال کیا۔پولیس کارروائی کے نتیجے میں15افراد زخمی ہوئے لیکن اس دوران بلال احمد کو لالہ باب صاحب  آستان کے متصل مزار شہداء میں پر نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔اس دوران حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کی کال کے پیش نظر سوپور میں داخل ہونے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود قصبہ کے مضافاتی علاقوں سے ہزاروں لوگوں پر مشتمل لوگوں نے جلوس کی صورت میں سوپور کی طرف پیش قدمی شروع کی تاہم ایک جلوس جب سیلو نامی علاقے کی طرف سے قصبہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھاتو ماڈل ٹائون کے نزدیک’کپراتھیٹر’ میں قائم سی آر پی ایف179بٹالین  کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے جلوس کوآگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔جلوس میں شامل لوگوں نے جب پیش قدمی جاری رکھی تو سی آر پی ایف نے لاٹھی چارج اورٹیر گیس شیلنگ کرنے کے بعد پہلے ہوامیں فائرنگ کی اور پھر جلوس پر راست فائرنگ کی۔اس موقعہ پر17سالہ تجمل احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکن واڈورہ سوپور نامی نوجوان کی چھاتی میں گولی پیوست ہوئی ۔زخمی تجمل کو فوری طور پر سوپور اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔چنانچہ اس واقعہ سے کشیدگی میں مزیداضافہ ہو گیا اور احتجاج میں شدت آنے لگی ۔ اسی اثناء میں بارہمولہ سے ہزاروں لوگوں نے جلوس کی صورت میں سوپور کی طرف پیدل مارچ شروع کیا لیکن بارہمولہ سرینگر شاہراہ پر دلنہ کے مقام پر پہلے سے ہی موجود پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے جلوس کو تتر بتر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جس کے دوران ٹیر گیس شیلنگ سے 10افراد زخمی ہوئے ۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ جلوس نے ایک مرتبہ پھر آگے بڑھنے کی کوشش کی تاہم اس بار ٹیر گیس شیلنگ کے بعد فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ایک9سالہ معصوم بچہ طارق احمد راتھر ولد غلام حسن ساکن دلنہ خون میں لت پت سڑک پر گر گیا اور اسے فوری طور پر ضلع اسپتال بارہمولہ پہنچایا گیا جہاں کچھ دیر بعد ہی وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔یہ خبر پورے قصبے میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور نوجوانوں نے معصوم بچے کی لاش کندھوں پر اٹھا کر بہت بڑا جلوس نکالا جس نے بارہمولہ کے اولڈ ٹائون اور سول لائنز کے کئی علاقوں کا مارچ کیا ۔ادھرحریت کی کال پر سوموار کی صبح پرانے سرینگر کے بیشتر علاقوں سے سینکڑوں افراد نے سوپور کی طرف پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے انہیں ناربل کے قریب روک دیا۔ پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش کی اور جلوس کے شرکاء نے مزاحمت کی تو فورسز نے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا اور ہوا میں گولیوں کے سینکڑوں رائونڈ چلا کر افرا تفری پھیلا دی ۔پولیس کی اس کارروائی میں 20سے زائد افراد ہوگئے ،نہیں صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔شہر میں جنوری سے اب تک 6 کم عمر لڑکے پولیس یا سی آر پی ایف کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Advertisements

2 Responses to آسمانِ معصومیت کے دو اور تارے ڈوب گئے

  1. […] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Urdu Blogz. Urdu Blogz said: Post: آسمانِ معصومیت کے Ø.. http://bit.ly/9vnMLT […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: