کشمیر: شمال سے جنوب تک لہو لہان

اسلام آباد میں 3 مزید نوجوان جاں بحق ،سوپور میں پانچویں روز بھی کرفیو
جموں و کشمیر کے شمالی قصبہ سوپورمیں9سالہ بچے سمیت5معصوم نوجوانوںکی ہلاکتوں کے بعد بھارت کے بے لگام فورسز نے منگل کو جنوبی کشمیر کے اسلام آباد قصبے میں2 طالب علموں سمیت 3نوجوانوں کو جاں بحق اور3کو شدید طور پر زخمی کر دیا.ان تازہ واقعات کے بعد تشدد کی خوفناک لہر نے شمالی کشمیر کے بعد اب جنوبی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔مشتعل مظاہرین نے سی آر پی ایف کی3گاڑیوں اور2ایمبولینس گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ ایک پولیس چوکی کو تہس نہس کر دیا۔حجنوبی کشمیرمیں حالات اس وقت بے قابو ہوگئے جب مٹن چوک اسلام آباد میں صبح ساڑھے8بجے ایس ٹی ایف اہلکاروں نے بلا اشتعال گولی چلا کر ایک ڈھابے میں بحیثیت ملازم کام کر رہے 14سالہ محمد ارشد ولد محمد رفیق ساکن چھترگل اسلام آباد کو زخمی کر دیا ۔گولی اُس کی ٹانگ میں جا لگی اور اسے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ میں داخل کر دیا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ میں مظاہرین کی طرف سے پتھرائو کے جواب میں ربڑ کی گولی چلائی گئی ۔اس واقعہ کے بعد اسلام آباد قصبہ میں تشدد کی لہر بھڑک اٹھی اور لوگوں کی بڑی تعداد جلوس کی صورت میں مٹن بس اسٹینڈ تک پہنچ گئی جہاں پولیس اور نیم فوجی دستو ں کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس کے درجنوں گولے داغے ۔فورسز کی کارروائی کے بعدمظاہرین قصبے کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور پولیس پر پتھرائو کیا جبکہ قصبہ کے اندرونی علاقوں لالچوک ،چینی چوک ،ملکھ ناگ ،جنگلات منڈی ،لازہ بل ،مٹن اڈہ وغیرہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ مظاہروں پر پولیس کے بے تحاشہ استعمال سے15سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے محمد شفیع شیخ ولد عبدالغنی ساکن لازہ بل اور عارف احمد ساکن کاڈی پورہ کو شدید چوٹیں آئیں ۔قصبے میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد شام 5بجے کے قریب لازبل کے مقام پر جھڑپوں میں شدت پیدا ہوئی اور اس موقعہ پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان زبردست جھڑپوں کے دوران ایک بکتر بند گاڑی میں سوار فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کا تعاقب کیا اور نزدیک ہی قائم’ ایس کے’ کالونی میں داخل ہوئے ۔عینی شاہدین کے مطابق فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکانوں کی طرف بندوقوں کے دہانے کھول کر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہاں کہرام مچ گیا۔عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ فورسز نے شدید فائرنگ کا سلسلہ قریب10منٹ تک جاری رکھا جس کے باعث پورے قصبہ میں خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے ۔فائرنگ کے اس واقعہ میں 18سالہ نانوائی امتیاز احمد ایتو ولد عبدالاحد ساکن وتلی ہامہ دیالگام ،دسویں جماعت کا طالب علم اشتیاق احمد کھانڈے ولد احمد اللہ ساکن آنچی ڈورہ ،18سالہ شجاعت الاسلام بابا ولد مرحوم محمد اشرف آنچی ڈورہ ،فیاض احمد راتھر ولد علی محمد آنچی ڈورہ ،سہیل احمد بٹ ولد جاوید احمدقاضی باغ آنچی ڈورہ اور نذیر احمد ڈار ولد غلام نبی ساکن آنچی ڈورہ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے ۔انہیں فوری طور پر ضلع اسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اشتیاق احمدکھانڈے اور امتیاز احمد ایتو کو مردہ قرار دیا جبکہ فیاض احمد اور شجاعت الاسلام کو سرینگر منتقل کیا گیا تاہم شجاعت نامی نوجوان راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ۔شجاعت کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ گیارہویں جماعت طالب علم تھا۔اس صورتحال کے نتیجے میں پورے قصبہ میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی اور ہزاروں مرد و زن احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے باہر آئے ۔اسی دوران جب زخمیوں کو لے جانے کیلئے ضلع اسپتال اور پرائمری ہیلتھ سینٹر مٹن کی دو ایمبولینس گاڑیاں لازبل کے نزدیک پہنچ گئیں تو فورسز نے ان کو روک کر اپنے اہلکاروں کو اسپتال لے جانے کی کوشش کی جس پر مشتعل ہجوم نے دونوں گاڑیوں پر دھاوا بول دیا اور شدید توڑ پھوڑ کے بعد ان کو آگ لگا دی ۔مظاہروں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں نوجوانوں نے علاقہ میں قائم شوالک مندر کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی کو منہدم کر کے اہلکاروں کو وہاں سے بھگا دیا اور کے پی روڑ پر سی آر پی ایف کی ایک جپسی اور 2ون ٹن گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔بعد میں مظاہرین نے تینوں جاں بحق نوجوانوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھا کر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور جلوس کی صورت میں قصبہ کا مارچ کیا ۔علیحدگی پسندوں کی کال پر پوری وادی میں منگل اور بدھ کو مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے اور تمام طے شدہ امتحانات کو ملتوی کردیا ہے۔دریں اثنا سوپور اور بارہمولہ میں سی آر پی ایف اور پولیس کی پسپائی کے بعد فوج تعینات کی گئی اور ان قصبوں میں مزید مظاہرے کئے گئے۔ دونوں قصبوں میں پچھلے چار روز سے کرفیو کے دوران پتھرا اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ بارہمولہ کے ضلع کمشنر بشیر احمد نے سوپور اور بارہمولہ قصبوں میں فوج کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔

Advertisements

One Response to کشمیر: شمال سے جنوب تک لہو لہان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: