وادی میں فورسز بے لگام، قتل عام جاری:آئی پی ٹی کے

وادی کشمیر میں معصوم نوجوانوں کی مسلسل ہلاکتوں کو انسانی حقوق کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کے ادارے ‘انٹرنیشنل پیپلز ٹریبیونل آف ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس اِن کشمیر’ نے کہا ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارتی فورسز نے وادی کو اپنے لئے تجربہ گاہ بنالیا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر بین الاقوامی حقوق البشر کے اداروں کوکشمیر کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لینے اور ریاست کا دورہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ‘ آئی پی ٹی کے’ نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ واضح رہے کہ ‘آئی پی ٹی کے ‘ نامی مذکورہ ادارے نے ہی جموں و کشمیر میں گمنام قبروں کو دریافت کیا تھا۔
‘آئی پی ٹی کے’ کی کنونیئر ڈاکٹر انگنا چٹرجی نے منگل کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت دلی کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اوران کے ہی آشیرواد سے ریاستی عوام خاص کر نوجوانوں کو تختہ مشق بنایا جارہا ہے ۔ڈاکٹر انگنا نے کہا کہ ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کی آڑ میں فورسز اہلکار بے پناہ طاقت کے مالک بن چکے ہیں اور اس کالے قانون کی آڑ میں ہی یہاں کے لوگ  بالخصوص نوخیز طالب علم خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ظلم کی انتہا ہوچکی ہے ، ہرآنے والے دن کے ساتھ یہاںکسی نہ کسی نوعمر کو ابدی نیند سلا دیاجاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاستی حکومت ان واقعات کے بعد اپنے بیانات سے لوگوں کی نمک پاشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی ہے۔ڈاکٹر انگنانے کہا” ایک طرف حکومت زیرو ٹالرنس کاڈھنڈورہ پیٹ رہی ہے جبکہ دوسری طرف معصوم نوجوانوں کا قتل عام برابر جاری ہے اور انسانی حقوق کو پائوں تلے روندا جا رہا ہے”۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت بار بار یہ بات دہراتی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن جس طرح کشمیر میں جس طرح ظلم وستم جاری ہے اس کی  کہیں نظیر نہیں ملتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کو کشمیر کے موجودہ حالات سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ڈاکٹر انگنا چٹر جی نے  کہا ”میں نے برطانیہ کی پارلیمنٹ کو کشمیر کے حالات سے حال ہی آگاہ کیا لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ کشمیر کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہاں دراندازی ہوتی ہے اور فورسز عسکریت پسندوں سے لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر انگنا نے مزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت پر دباو ڈالا جائے اور یہ ا سی صورت میں ممکن ہے جب کشمیرکی اصل صورتحال سے اقوام عالم کو باخبر کیا جائے۔’آئی پی ٹی کے’ کنوینر نے  فورسز کے ہاتھوں معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کوریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا۔
اس موقع پر معروف انسانی حقوق کارکن ایڈوکیٹ پرویز امروز نے کہا کہ 24جون2010 کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست میں تشدد آمیز واقعات کیلئے آزادی پسند لیڈران کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جبکہ اب یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ فورسز اہلکارہی حالات کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کی سنجیدگی مد نظررکھتے ہوئے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم ریاست کیلئے روانہ کرے تاکہ وہ ازخود صورتحال کاجائزہ لیکر بھارت کو اس بات کیلئے مجبورکریں کہ وہ یہاں قتل و غارتگری کابازار بندکرے اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔بھارت کے ہوم سیکریٹری جی کے پلے کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز امروز نے کہا کہ اس بیان سے اب یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ معصوم نوجوانوں کا قتل عام کرنے کیلئے سی آر پی ایف کو مرکزکی طرف سے بھر پور حمایت حاصل ہے۔پرویز امروز نے اعدا وشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری 2010سے لیکر اب تک 40 بے گناہ نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا ہے جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے میں 107جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیاہے۔پرویز امروز نے بتایاگذشتہ6ماہ کے عرصے میں57فوجی اہلکار مارے گئے ہیں جس میں جنگجوئوں کی فائرنگ میں 28اہلکار جبکہ 14اہلکاروں نے خود سوزی اور7اہلکارگرینیڈ اور بارودی سرنگ دھماکوں میں ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان ہلاکتوں کی اصل صورتحال منظر عام پر نہیں لا ئی گئی۔مژھل خط انتظام پر فوج کی جانب سے فرضی جھڑپ میں نادی ہل سمبل کے3نوجوانوںکی ہلاکت پر سخت رد عمل ظاہرکرتے ہوئے ایڈوکیٹ امروز نے کہاکہ اس طرح کی کارروائیوں سے دیگرمعرکہ آرائیوں پرسوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔پریس کانفرنس سیجموں و کشمیر کے معروف صحافی اور انسانی حقوق کارکن ظہیرالدین نے بھی خطاب کیا۔ظہیر الدین نے ذرائع ابلاغ کو ریاست کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: