جمعتہ المبارک: مرکزی مساجد میں نماز نہیں ہوسکی

کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا،متعدد مقامات پر پرُ تشدد جھڑپیں ،درجنوں زخمی
وادی میں جمعتہ المبارک کو حریت کانفرنس(گ) کی احتجاجی کال کے پیش نظراعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔خانقاہ معلی سرینگر کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھاجبکہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سمیت متعدد مساجد میں مسلسل چوتھے ہفتے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران شہر کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگراضلاع اور قصبہ جات میں احتجاجی مطاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور کئی جگہوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں میں ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے50سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں2خواتین اور ایک ڈی ایس پی سمیت پولیس اور سی آر پی ایف کے ایک درجن اہلکاربھی شامل ہیں ۔فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران فورسز نے دو مساجد سمیت درجنوں رہائشی مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور لوگوں کی اندھا دھند مارپیٹ کی۔واضح رہے کہ ‘جموں کشمیر چھوڑ دو ‘تحریک کیلئے حریت کانفرنس(گ)نے جمعتہ المبارک کو ضلع صدر مقامات پر سفید کپروں میں ملبوس نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی گئی تھی جس کے پیش نظر جمعہ کوپوری وادی میں غیر معمولی بندشوں کے ساتھ اعلانیہ اورغیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا ۔کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کیلئے پائین شہر میں جگہ جگہ پولیس اورسی آر پی ایف کے ہزاروں اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔  پائین شہر کے ساتھ ساتھ سول لائنز علاقوں میں بھی صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی بھاری تعداد سڑکوں اور چوراہوں پر نظر آئی۔ وادی کے دیگر قصبہ جات میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی گئی جہاں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری سڑکوں پر تعینات کی گئی۔ حریت(گ) نے سرینگر میں نماز جمعہ خانقاہ معلی میں ادا کرنے کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظر خانقاہ کو مکمل طور پر سیل کرکے وہاں کی طرف جانے والے تمام اندرون راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور اس مقصد کیلئے ان راستوں پر خار دار تار لگا کر رکائوٹیں کھڑی کی گئی تھیں ۔اس صورتحال کے نتیجے میں شہر کی تاریخی جامع مسجد سمیت بڑی سڑکوں کے نزدیک واقع بیشتر مساجد میں مسلسل چوتھے ہفتے نماز جمعہ ادا نہیں کی جا سکی اور لوگوں کو مساجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔نماز جمعہ تک اگرچہ وادی میں سخت ناکہ بندیوں کی وجہ سے سکوت چھایا رہا لیکن نماز جمعہ کے بعد کشمیر کے اطراف و اکناف میں پر امن اور پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوااور شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ دیگر کئی قصبہ جات میں مساجد کے لائوڈ اسپیکروں پر نعرے بلند کئے گئے ۔نماز جمعہ کے فوراً بعد شہر کی مجافاتی بستی گلوان پورہ حیدر پورہ میں سینکڑوں لوگ جلوس کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئے اوربائی پاس کی طرف پیش قدمی کرنے لگے۔پولیس نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو نوجوان مشتعل ہوئے اور پولیس و سی آر پی ایف پر سنگباری شروع کی جس کے جواب میں ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور ٹیر گیس کے گولے پھینکے گئے ۔جھڑپوں کا یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے ،جن میںپولیس کے3اہلکار بھی شامل تھے۔کپوارہ میںمقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکاروں نے محمد عبداللہ میر ،غلام محی الدین میر،محمد سعید مسعودی،عبدالاحد پیر اور ریاض احمد پیر سمیت کئی رہائشی مکانوں کی زبردست توڑ پھوڑ اور مکینوں کی شدید مار پیٹ کی جبکہ ایک ٹپر زیر نمبرJK01C/2229 اور 3آٹو رکھشائوں کے شیشے چکنا چور کر دئے گئے ۔ہندوارہ سے اطلاع ہے کہ لنگیٹ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس کی صورت میں ہندوارہ کی طرف مارچ کیا تاہم چھوٹی پورہ کے مقام پر پولیس کی بھاری جمعیت نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد کو چوٹیں آئیں ۔سوپور کے تارزو علاقہ میں بھی مظاہرین پر ٹیر گیس کے گولے پھینکے گئے جبکہ جانوارہ ور ملحقہ علاقہ جات میں پر امن مظاہرے ہوئے ۔بارہمولہ میں صورتحال قدرے پر سکون رہی البتہ خانپورہ میں لوگوں نے احتجاج کرنے کیلئے ایک خیمہ نصب کیا تھا جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور اس موقعہ پر طرفین کے مابین پتھرائو ہوا ۔قصبہ میں نماز جمعہ عید گاہ قدیم میں ادا کی گئی جہاں سے ہزاروں لوگوں نے آزاد گنج چوک تک پر امن جلوس نکالا ۔پٹن سے اطلاع ہے کہ پلہالن سے نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے بڑی تعداد نے سرینگر مظفر آباد شاہراہ کی طرف مارچ کیا تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ادھر بانڈی پورہ میں پاپہ چھن کے مقام پر نماز جمعہ کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے دوران مظاہرین کے پتھرائو کی زد میں آکر حوالدار محمد خلیل اور سی آر پی ایف کے4اہلکار اور نصف درجن مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں سے جاوید اقبال نامی ایک نوجوان کو شدید چوٹیں آئیں ۔جنوبی کشمیر سے موصولہ تفصیلات کے مطابق پلوامہ قصبہ میں سخت ترین ناکہ بندیوں کی وجہ سے کرفیو جیسا سماں رہا لیکن نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد مین چوک میں جمع ہوئی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں میں ڈی ایس پی پلوامہ فیاض احمد سمیت 5اہلکار اور درجن بھر مظاہرین زخمی ہو گئے جن میں منیرہ زوجہ محمد امین گنائی نامی خاتون کو شدید زخمی حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔اسی دوران پولیس گاڑیوں کے ذریعے قصبہ میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تاہم جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں ۔

One Response to جمعتہ المبارک: مرکزی مساجد میں نماز نہیں ہوسکی

  1. Mera Pakistan نے کہا:

    سیارہ کی وساطت سے آپ کے بلاگ کا پتہ چلا۔ کشمیر پر بلاگ بنا کر آپ نے اچھا کیا ہے۔ اس طرح کم از کم عینی شاہد کی زبانی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم ہوتی رہے گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: