ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے جاری

صلاح الدین کے بیان پر شدید ردعمل ،حریت گ کا نیا احتجاجی کلینڈر
وادی کشمیر میں حریت کانفرنس (گ) کے ‘جموں کشمیر چھوڑ دو’مہم کے پیش نظر سنیچر کو مکمل ہڑتال کے بیچ وکلاء اور ڈاکٹروں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔سرحدی ضلع کپوارہ میں امکانی مظاہروں کو روکنے کیلئے دن بھر کرفیو کانفاذ عمل میں لایا گیا۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور سرینگر میں پولیس ،نیم فوجی دستوں اور مطاہرین کے دوران جھڑپوں میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے اورنصف درجن گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کر دئے گئے۔ہڑتال کے اثر میں تاہم سنیچر کوقدرے نرمی دیکھی گئی اور شہر کے اندرونی علاقوں میں کہیں کہیں دکان کھلے رہے جبکہ سڑکوں پر بھی نجی گاڑیوں کی نقل و حمل گذشتہ ایام کی بہ نسبت جاری رہی۔اس دوران پولیس نے علاحدگی پسندلیڈران کے خلا ف کریک ڈائون جاری رکھتے ہوئے مسلم لیگ کے 3لیڈران کو گرفتار کر لیا۔واضح رہے کہ ‘جموں کشمیر چھوڑدو’ مہم کے تحت وکلاء اور ڈاکٹروں کیلئے پروگرام ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ سنیچر کو احتجاجی دھرنا دیکر بھارت پر یہ واضح کریں کہ کشمیر ی عوام اپنے جائز حق کیلئے سراپا احتجاج ہے۔دریں اثناء اپنے احتجاج کے دوران وکلاء نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم اور جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ جی این شاہین کو رہا نہیں کیا گیا تو وکلاء کی جانب سے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا جائیگا۔چنانچہ احتجاجی پروگرام پر مکمل عمل کرتے ہوئے سنیچر کو گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ڈاکٹروں نے جلوس نکال کر حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور فورسز کے ہاتھوں حالیہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف بھی زبردست نعرے بازی کی۔ سرینگر کے دیگر میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ نیم طبی عملے نے بھی حالیہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ مظاہرین سید علی شاہ گیلانی، میاں عبدالقیوم سمیت دیگر علیحدگی پسند لیڈران ، کارکنان اور نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران وکلاء نے بھی احتجاجی جلوس نکالا۔وکلاء نے صدر کورٹ سرینگر سے جلوس نکال کر لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے کورٹ کمپلیکس کا صدر دروازہ مقفل کیا اور وکلاء کی طرف سے جلوس نکلانے کی کوشش کو نا کام بنانے کی کوشش کی۔ تاہم اس موقعے پر وکلاء نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور بار صدرمیاں قیوم،جنرل سیکریٹری جی این شاہین ،بزرگ آزادی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور محمد اشرف صحرائی سمیت دیگر اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر وکلاء نے کہا کہ اقوام عالم پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ بشری حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا نے محبوس بار صدر میاں قیوم اور جی این شاہین کو 24 گھنٹوں کے اندر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں وکلاء کو رہا نہ کیا گیا تو وکلاء تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ادھر علاحدگی پسند لیڈران کے خلاف کریک ڈائون جاری رکھتے ہوئے پولیس نے مسلم لیگ کے ترجمان محمد صادق اصلاحی، محمد مقبول چھانہ پوری اور مصعب احمد کی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے انہیں تھانے میں بند کر دیا۔ مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری عبدالاحد پرہ نے پولیس کاروائی کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس دوران متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین کے اُس بیان کے خلاف احتجاجی مظا ہرے ہوئے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ مسلسل ہڑتالیں ممکن العمل نہیں ہیں۔ مظاہرین نے متعدد مقامات پر اُن اخبارات کو نذر آتش کیا جن پر سید صلاح الدین کا بیان شائع ہوا تھا۔ ادھر نصف درجن نقاب پوش سنگبازوں نے پرانے شہر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے ہر صورت میں جاری رکھے جائیں گے۔ جنوبی کشمیر کے کاکہ پورہ پلوامہ قصبے میں نماز ظہر کے بعد مساجد سے نکل کر لوگوں نے متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین کے خلاف نعرے بلند کئے۔ مظاہرین ”صلاح ا لدین کا بیان منظور نہیں ، منظور نہیں” کے نعرے بلند کررہے تاہم وہ بعد میں پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس دوران شہر کے بابہ ڈیمب علاقے میں نصف درجن نقاب پوش نوجوان نمودار ہوگئے اور اُنہوں نے موجود نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ نقاب پوش سنگبازوں نے کہا” سید صلاح الدین بے شک ایک بہت بڑے لیڈر ہیں تاہم اُنہیں زمینی صورتحال کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اس لئے اُنہیں چاہئے کہ وہ سوچ سمجھ کر بیانات جاری کریں”۔
احتجاجی کلینڈر
حریت کانفرنس(گ) نے نیا احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہوئے نہ صرف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کو جاری رکھنے کی اپیل کی ہے بلکہ سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ28جولائی سے حکومت کو کسی بھی طرح کا ٹیکس ادا نہ کر یں۔ بیان میں نیا احتجاجی پروگرام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ26جولائی سوموار کو مکمل ہڑتال اور احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا،27جولائی منگلوار کو شب برات کے مقدس موقعہ پرکوئی ہڑتال نہیں ہوگی البتہ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ دوران شب اللہ کے حضور ریاست کی آزادی، شہداء کے بلند درجات کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں اور اسی روز دیہات کے لوگوں سے سرینگر والوں کیلئے ریلیف روانہ کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔28جولائی بدھوار کو مکمل دھرنا اور احتجاج جبکہ 29جولائی جمعرات کو بھی مکمل دھرنا اور احتجاج کیا جائیگا۔پروگرام کے مطابق 30جولائی جمعتہ المبارک کو مرکزی مقامات پر نماز جمعہ ادا کی جائے گی اور ان مقامات کا چند روز میں اعلان کیا جائے گاالبتہ سرینگر کے عوام کیلئے مائسمہ میں نماز جمعہ ادا کرنے یا نماز کے بعد جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے اوراسی روز 6بجے شام سے خرید و فروخت کیلئے ڈھیل ہو گی۔31جولائی سنیچرکو مکمل ڈھیل ہوگی تاکہ لوگ خرید و فروخت کر سکیں اور اسی روز شام6بجے سے شبانہ احتجاجی جلوس نکالے جائیں گے ۔حریت(گ) کی طرف سے جاری اس پروگرام کے مطابق یکم اگست اتوار مکمل کوبند ہوگا اور اسی روز عوام جگہ جگہ پر ”گو انڈیا گو بیک”تحریر کریں گے ۔بیان میںحریت نے سید علی گیلانی کو مرد قلندر قرار دیتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اُنہیں کسی طرح کی گزند پہنچی تو اُس کے بھیانک نتائج بر آمد ہونگے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ”جموں کشمیر چھوڑ دو”تحریک عوام کے جذبات و احساسات ،اس راہ میں پیش کردہ بے مثال قربانیوں اورعوام کو پیش آئے مشکلات کا ادراک رکھتے ہوئے دانشورانہ سوچ اور باہمی مشاورت سے شروع کی گئی ہے ۔ بیان کے مطابق حریت کانفرنس عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ میںہے اور حریت لیڈران اپنی خواب گاہوں میں بیٹھ کر عالم تخیل میں بے نقش راہوں کے ساتھ سیر نہیں کرتے ہیں بلکہ عملی دنیا کی ضروریات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اپنی مزاحمت کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔بیان میں کہا گیا ہے ” جہاں سمینار وںکے انعقاداورقلم کے استعمال پر قدغن ہو، جہاں زبان پر کالے قوانین کی مہر ہو،وہاں مزاحمت کا مؤثر ذریعہ ہڑتال اوراحتجاج ہی ہوا کرتا ہے” ۔

Advertisements

2 Responses to ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے جاری

  1. محمداسد نے کہا:

    حیرت انگیز امر متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین صاحب کا بیان ہے کہ جس میں وہ کئی ہفتوں سے جاری ان ہڑتالوں میں شریک لوگوں کی حوصلہ شکنی کی کوشش کررہے ہیں۔
    کیا متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین کے پاس کوئی دوسرا مناسب راستہ موجود ہے جو بھارتی فوجیوں کے خلاف اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کا ذریعے ہو؟

  2. imtiyazkhan نے کہا:

    محترم اسد صاحب
    اسلام علیکم؛شاید بیان پڑھنے اور سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ صلاح الدین کے بیان میں حوصلہ شکنی کا کوئی پہلو نہیں ہے تاہم انہوں نے عوام کو درپیش روزمرہ کی ضروریات اور مجبوریوں کا لحاظ رکھنے کی بات کی ہے ۔انہوں نے مسلسل ہڑتالوں کی بجائے مرحلہ وار ہڑتالوں کا مشورہ دیا ہے۔صلاح الدین نے از خود کوئی پروگرام نہیں دیا ہے بلکہ علاحدگی پسندوں کو ایک تجویز دی ہے اور ہر کسی کو تجویز پیش کرنے کا حق ہے۔ صلاح الدین کے بیان کی حیثیت بھی ایک تجویز کی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: