وادی میں ہڑتال ،زندگی کا پہیہ جام

وادی میں محض ایک دن یعنی اتوارکو معمولات زندگی بحال ہونے کے بعدسوموار کو حریت کانفرنس (گ)کی کال ‘کشمیر بندھ’ پر وادی میں مکمل ہڑتال سے سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظارہ پیش کررہے تھے ۔اس دوران پانزلہ رفیع آباد بارہمولہ میں ایک نوجوان کی مبینہ طور پولیس حراست میں ہلاکت اور بٹہ مالو میں ایک نالے سے نوجوان کی لاش برآمد ہونے کے پیش نظرپائین شہر اور بٹہ مالومیں دوبارہ غیر اعلانیہ کرفیواور دیگر حساس قصبہ جات میں بندشیں عائد کی گئیں ۔ پانپور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جم کر ہوئی جھڑپوں میں ایس ایچ او ،خاتون اور اس کی7سالہ بچی سمیت درجن بھر افراد زخمی ہوئے جبکہ بارہمولہ ، سوپور ، اسلام آباد اور پلوامہ میں پتھرائو کے معمولی واقعات پیش آئے جبکہ رام باغ اور برزلہ میں خواتین نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
پانزلہ رفیع آباد بارہمولہ میں طارق احمد ڈار ولد غلام محی الدین ساکن فڈار پورہ کی پولیس تھانے میں موت واقع ہونے کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ بٹہ مالو میں گذشتہ شب ایک نالے سے فاروق احمد بٹ ولد علی محمد ساکن ایس ڈی کالونی کی لاش برآمد ہوئی۔فڈار پورہ کے نوجوان کو پولیس نے لشکر طیبہ کے ساتھ روابط رکھنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا اور پولیس کے مطابق اس نے پولیس اسٹیشن میں خود کو پھانسی پر لٹکاکر خود کشی کرلی۔اس سلسلے میں پولیس کے دو اہلکاروں کی معطلی عمل میں لاکراور ایس ایچ او پانزلہ کو ضلع ہیڈکوارٹر کے ساتھ منسلک کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ بٹہ مالو کے نوجوان کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھا اور اسکی موت خود کشی ہوسکتی ہے۔ان دونوں واقعات کی وجہ سے وادی میں ایک بار پھر کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں پولیس نے سوموار کو اخبارات کی ترسیل پر پابندی عائد کرکے سرینگر سے شائع ہونے والے اخبارات کو شمالی کشمیر پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔سرینگرمیں اگر چہ کسی جگہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ صبح کے وقت برزلہ اور رام باغ علاقوں میں خواتین نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے ۔اس موقعہ پر سی آر پی ایف نے خواتین کا تعاقب کرکے انہیں بھگا دیا۔ حیدر پورہ، پیر باغ، بڈگام، ناگام میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے اور جلوس نکال کر مین چوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز نے جلوس کو نا کام بنانے کی غرض سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے جوابی کارروائی کے بطور فورسز پر پتھرائو کیا ۔پانپور سے موصولہ تفصیلات کے مطابق سوموار کی صبح کھریو چوک نمبلہ بل کے نزدیک نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکال کر احتجاجی مظاہرے کئے اور پولیس کی طرف سے انہیں منتشر  کرنے کی کوشش میں پر تشدد جھڑپیں ہوئیں ۔جھڑپوں کے آغاز میں ہی ایس ایچ او پانپور مشتاق احمد سینے پر پتھر لگنے سے زخمی ہو گیا اور انہیں مقامی اسپتال کے بعدصورہ اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کارروائی کے دوران نصف درجن مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ادھر بارہمولہ میں قاضی حمام پل جبکہ سوپور میں اقبال مارکیٹ ،مین چوک اور آرمپورہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی جھڑپیں ہوئیں ۔اس کے علاوہ سرینگر مظفر آباد شاہراہ پردلنہ اور سنگرامہ کے نزدیک نوجوانوں نے گاڑیوں پر پتھرائو کے اکا دکا واقعات پیش آئے۔اسی طرح کی معمولی جھڑپیں جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور اسلام آباد میں پیش آئیں تاہم مجموعی طور پر صورتحال پر امن رہی ۔
وزیر اعلیٰ
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کنگن میں ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر منظر کشی کرتے ہوئے کہا کہ معصوموںکے خون سے دل دکھی ہوتا ہے اور انسانیت کا یہ تقاضا ہے کہ ضمیر کی آواز پر اس طرح کے واقعات دل کو چھلنی کردیتے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ”جو لوگ مریضوں کی دوا اورغریبوں سے نوالہ چھین کر جموں کشمیر کا نقشہ بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں اگر وہ یہ کرپاتے ہیں تو میں انہیں نہیں روک سکتا۔ ”انہوںنے مزیدکہا ”اگر نوجوانوں کا روزگار چھیننے سے کشمیر کا نقشہ بدلا جاسکتا ہے تو ایسا کرنے والے لوگوں کی مرضی میں جو آئے وہ کرسکتے ہیں میں انہیں روکنے والا کون ہوتا ہوں” ۔فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا ”میں وہ وزیراعلیٰ ہوں جس نے بھری اسمبلی میں ڈنکے کی چوٹ یہ بات کہی کہ افسپا کی واپسی کا وقت آگیا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی اعلاناً کہی کہ مخلوط حکومت کے دور میں ہی افسپا کی واپسی ممکن بنائی جائیگی لیکن تب تک ہماری حکومت چاہتی ہے کہ اس قانون میں ترمیم اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہونے کا کوئی امکان باقی نہ رہے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے ”۔
وکلاء بھوک ہڑتال پر
ہائی کورٹ بارایسو سی ایشن کے محبوس صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم اور جنرل سیکریٹری جی این شاہین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وکلا ء نے سوموار کو19روزہ ہڑتال کے دوسرے مرحلے میں احتجاج کے بطور صدر کوٹ سرینگر میں بھوک ہڑتال شروع کی جس دوران وکلاء نے فورسز کے ہاتھوں معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں اور بشری حقوق پامالیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ اس دوران بھوک ہڑتال پر بیٹھے وکلاء نے الزام لگایا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت دانشور اور بالخصوص وکلاء کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیلاگیاہے تاکہ بشری حقوق کی پامالیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائے اور نہ ہی تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے حق میں سڑکوں پر آکر کوئی احتجاج کریں ۔احتجاجی وکلاء کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ یہ ریاست کے ہر فرد کی ہے اور جدوجہد آزادی اُس وقت تک جاری و ساری رہے گی جب تک کشمیر ی عوام بھارت کے جبری قبضے سے آزاد نہیں ہوتے ۔ اس دوران وکلاء نے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر اور جنرل سکرٹری کی گرفتاری کو غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے حق میں پُر امن دھرنا دیا۔ دھرنے پر بیٹھے وکلاء نے کہا کہ میاں قیوم اور جی این شاہین کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی مقدمے کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے ۔لہذا ایسے اقدامات سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوگیا ہے اور معصوم اور بے گناہ عوام عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے سے رہ گئے ہیں جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: