وادی محصور،موت کا خونین رقص جاری

مزید 3جاں بحق،24گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد6
وادی میںجمعہ کوہوئی ہلاکتوں میں سنیچر کو اس وقت اور 3افراد کا اضافہ ہوگیا جب بارہمولہ میںایک جواں سال میوہ فروش اورنائد کھئے سمبل میں ایک مزدور جاں بحق ہوگیا۔اس دورانجمعہ کو پٹن میں زخمی ہوئے نانوائی نے صورہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔اس طرح وادی میں 24گھنٹوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد6ہوگئی ہے۔ سخت ترین پابندیوں اور کرفیو کے باوجود وادی کے طول وعرض میںسنیچر کو  احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران ٹیرگیس کے گولوں اور گولیوں کی بارش سے150سے زائدافراد زخمی ہوگئے جن میں سے قریب35افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ دو خواتین سمیت ایک درجن افراد موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
جمعہ کوچھانہ پورہ ، امر گڈھ سوپور اور پٹن میں فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظر سرینگر اور وادی کے کم و بیش تمام قصبہ جات میں کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا گیا اور اس مقصد کیلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی چپے چپے پر تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ سرینگر میں انتہائی سخت کرفیو نافذ رہا اور لوگوں کو مکمل طور پر اپنے گھروں میں محصور رکھاگیا۔ تازہ ہلاکتوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے وادی کے شمال و جنوب میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔اس سلسلے میں بانڈی پورہ سمبل میں ایک  جلوس نکالا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق یہ جلوس جب علاقہ میں قائم (انڈین ریزرو پولیس)آئی آر پی14بٹالین کیمپ کے نزدیک پہنچ گیا تو اس میں شامل کچھ نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے کیمپ پر زبردست سنگباری کی جس کے جواب میں وہاں موجود اہلکاروں نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جلوس میں کھلبلی مچ گئی۔اس واقعہ میں 21سالہ نوجوان مدثر احمد لون ساکن ہر پورہ نائد کھئے گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اوراگر چہ اسے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سمبل پہنچایا گیا لیکن اس نے خون میں لت پت سڑک پر گر کر تڑپ تڑپ کر جان دی ۔فائرنگ سے بلال احمد ڈار ساکن ٹینگہ پورہ نامی نوجوان کی کمر میں گولی لگی اور وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ اس موقعہ پر افرا تفری کے عالم میں مزید درجن بھر افراد کو چوٹیں آئیں۔بعد میں مساجد کے لائوڈ اسپیکروں سے اعلان کے بعد لوگوں کی بھاری تعداد نے مدثر احمد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اسے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔21سالہ مدثر احمد پیشہ سے ایک مزدور تھا ۔مدثر احمد کی موت کی خبر علاقہ میں پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پرنکل آئے اور نائد کھئے کے علاوہ حاجن، سمبل، سوناواری اور ملحقہ علاقہ جات میں شدید مظاہرے شروع ہوئے۔اس موقع پر پولیس اور فورسزکے درمیان جھڑپوں میںایس پی بانڈی پورہ جنید احمد سمیت نصف درجن اہلکارزخمی ہوگئے جبکہ پولیس کارروائی میں 15مظاہرین کو چوٹیں آئیں اور جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ادھر بارہمولہ سے اطلاع ہے کہ قصبہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گن گرج سے پورا قصبہ لرزتا رہا۔دوپہر کے بعد جھڑپوں میں شدت پیدا ہوئی اور سیمنٹ پل سے مظاہرین نے پولیس پر زبردست سنگباری کی اور پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکنے کے بعد راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 32سالہ جاوید احمد تیلی ساکن بنگلہ باغ بارہمولہ سر میں گولی لگنے سے بری طرح سے زخمی ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کے ایک افسر نے جاوید کو نزدیک سے پستول کی گولی کانشانہ بنایا اور گولی اسکے ماتھے پر لگ کر سر میں پیوست ہوگئی۔اسے تشویشناک حالت میں پہلے ضلع اسپتال بارہمولہ اور بعد میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر پہنچایا گیا جہاں قریب آدھے گھنٹے تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے بعد اُس نے دم توڑ دیا۔جاوید احمد بس اسٹینڈ بارہمولہ میں میوہ فروخت کرتا تھا۔ اسکی میت جلوس کی صورت میں عید گاہ قدیم پہنچائی گئی جہاں اسکے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور بعد میں اسے اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ مزار شہداء میں سپرد خاک کیا گیا۔اس دوران پٹن میں گذشتہ روز فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا جواں سال نانوائی نذیر احمد میر ساکن شیری بارہمولہ رات دیر گئے صورہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا اور اس طرح گذشتہ24گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد6ہوگئی۔ اس دوران سوپور کے امر گڈھ علاقہ میں سی آر پی ایف کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔سنیچر کی صبح نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکال کرریلوے اسٹیشن سوپور کی طرف پیش قدمی کی اور وہاں پہنچتے ہی اسٹیشن کی عمارت پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود سیکورٹی اہلکار عمارت چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس موقعہ پر مشتعل مظاہرین نے ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو آگ لگادی اور ریلوے سے وابستہ ٹاٹا سومو زیر نمبرJK03A/3073سمیت دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا جبکہ ریلوے ٹریک کے ایک بڑے حصے کو اکھاڑ پھینکا گیا۔
حریت احتجاجی کلینڈر
حریت کانفرنس (گ) نے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی طرف سے بات چیت کی تازہ دعوت کو مسترد کرتے ہوئے منگلوار3اگست تک کے لئے کشمیر بندھ کے دوران مظاہروں پر مشتمل اپنا احتجاجی کلینڈر جاری کیا ہے ۔حریت کانفرنس (گ)کے ترجمان کے مطابق حریت کانفرنس نے منگل یعنی3اگست تک اپنا احتجاجی کلینڈر جاری کیا ۔کلینڈر میں اتوار یعنی یکم اگست کے لئے ہڑتال کی اپیل کو دہرایا گیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوموار2 اگست کو اُن افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منائیں جو حال ہی میں پولیس و فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے ہیں۔ بیان میں سوموار کو ضلع سرینگر اور بڈگام کے لوگوں کے لئے”چھانہ پورہ چلو”،ضلع کپوارہ اور بارہمولہ کے لوگوں کے لئے” سوپور چلو”،جنوبی کشمیر کے لوگوں کے لئے ”ترال چلو” جبکہ ضلع گاندربل کے لوگوں کے لئے”پٹن چلو” کی کال دی گئی ہے۔ حریت کلینڈر میں بتایا گیا ہے کہ منگلوار3اگست کو بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اس روز بھی مکمل ہڑتال ہوگی۔ ترجمان نے بتایا کہ حریت نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کی طرف سے بات چیت کی دعوت کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اعلاناً قبول نہیں کرتا ہے تب تک کسی بھی قسم کی بات چیت ایک لاحاصل کوشش ہوگی اور اُس میں حریت کانفرنس شامل نہیں ہوگی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: