یکم اگست 1991: جب بی ایس ایف نے خون کی ہولی کھیلی

ٹھیک 17سال بیت گئے لیکن خانیار اور مضافاتی علاقے اگست 1993کی وہ پہلی تاریخ نہیں بھولے جب بھارت کے سرحدی حفاظتی فورسز(BSF)نے ایک 8سالہ ننھی جان کووالدین کے سامنے ابدی نیند سلادیا گیا۔سرحدی حفاظتی فورس نے بچے کو جاں بحق کرنے پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے والدین کو بھی موت کی آغوش میں بھیج دیا۔معصوم بچے اور اس کے والدین کی ہلاکت کے بعدخانیار اورمضافاتی بستیوں سے مظاہروں کی لہر چھڑ گئی اور فقط دو روز بعد ایک احتجاجی جلوس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی جس میں ایک اورشخص جاں بحق ہوگیا ۔یاد رہے کہ خانیارمیں ہی 8مئی 1991کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے اہلکاروں نے جلوس جنازہ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 29افراد کو بھون ڈالاتھا۔یکم اگست1993 اتوار جب اکثر بچے کھیل کود میں مصروف تھے تو دری بل خانیار کا 8سالہ ہلال احمد ڈار درسگاہ سے واپس آکر دودھ لانے کیلئے اپنے گھر کے گیٹ سے باہر نکلا ہی تھا تووہاں سے گذرنے والی بی ایس ایف کی گشتی پارٹی نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول کرنہ صرف ہلال احمدبلکہ اس کی ماں اوروالدعبد الرشید ڈار کو بھی جاں بحق کیا۔ہلال احمدکی بہن عابدہ اس واقعہ کی چشم دید گواہ ہیں ۔ عابدہ کہتی ہیں’ مجھے اب بھی یاد ہے جب میرا چھوٹا بھائی جو دوسری جماعت میں زیر تعلیم تھا،درسگاہ سے واپس آیا اور ہم نے اسے بازار سے دودھ لانے کیلئے کہا،جونہی ہلال گیٹ پر پہنچا تو وہ خوف کے عالم میں دوڑتا ہوا واپس آیا اور کہنے لگا کہ آرمی ہے، میں ڈر گیا’۔ عابدہ کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکارگشت پر تھے ،جو چند ہی لمحوں میں گیٹ کے اندر داخل ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کرناشروع کر دی۔ عابدہ مزید کہتی ہیں’ ہم مکان کی دوسری منزل پرتھے، جونہی ہم جان بچانے کی کوشش میں پہلی منزل میں آگئے تو ہلال کے جسم میں دو گولیاں پیوست ہو گئی تھیں ‘۔عابدہ نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا’ میرے ماں باپ ہلال کی طرف جونہی بڑھنے لگے تو بی ایس ایف اہلکاروںنے ان پربھی گولیوں کی بوچھاڑ کی’ ۔عابدہ کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف اہلکاروںکے نکلتے ہی علاقے کے لوگوں نے ہلال احمدکو اسپتال پہنچا یا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ ہلال کے بھائی شوکت احمد ،جواپنے بھائی کی ہلاکت کے وقت 13 سال کا تھا، نے بتایا’ میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھا جب یہ واقعہ پیش آیا،میں دوڑتا ہوا اپنے گھرتک آیااورمیرے گھر میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی’۔ شوکت کا کہنا ہے ‘ یہ سن کرکہ بھائی اسپتال میں ہے اور اس کو خون کی ضرورت ہے، میں اپنے دوستوں کے ہمراہ صدر اسپتال دوڑ پرا تاہم ہلال دم توڑ چکا تھا’۔ شوکت نے مزید کہا ” اس واقعہ کے بعد ہمیںبی ایس ایف کے خلاف کیس کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑی کیونکہ جب بھی وہ محلے میں تلاشی کے بہانے یا معمول کی گشت پر آتے تھے ہمیں ہراساں کئے بغیر نہیں رہتے تھے”۔ شوکت نے مذکورہ بی ایس کمپنی کے کمانڈر کا نام ‘شرما ‘ ظاہر کرتے ہوئے کہا ‘شرما نے ہمیں کافی ستایا بلکہ کئی بار مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی مارا پیٹا۔ انہوں نے کئی بار مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی جبکہ پانچ چھ بار زد و کوب بھی کیا’۔ اپنی کسمپرسی کی داستان بتاتے ہوئے شوکت نے بتایا ایک بار یہ لوگ ہمارے گھر میں گھس گئے اور نکلتے وقت کہنے لگے کہ آپ کے مکان سے سامان برآمد ہوا ہے ۔ شوکت نے مزید کہا’اس جھوٹ کی بنیاد پر میرے پھوپھا زاد بھائی کو داڑھی رکھنے کی سزا مل گئی، اسے گرفتار کیا گیااور دوسرے دن ادھ مرا چھوڑ دیاگیا۔ شوکت کے مطابق پولیس کہتی تھی کہ اس واقعے میں قرار پائے گئے آفیسر کو سزا مل گئی تاہم اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس واقعے کے بعد پورا علاقہ سراپا احتجاج بنااور ہلال احمدکے علاوہ اسکے والدین کو مزارشہدامیں دفن کرنے کے بعد مظاہرے ہونے لگے۔ مظاہرے کے دوسرے روز ایک بڑا جلوس شیخ عبدالقادر جیلانی کی زیارت گاہ کے پاس پہنچا تو ایک دفعہ پھر1991کی طرح جلوس پر فائرنگ کرنے کا واقعہ دہرایا گیا۔ ایک مقامی شہری علی محمد صوفی نے بتایا ایک بہت بڑا جلوس دری بل سانحے میں تین افراد کے جاں بحق کئے جانے پر آزادی اور اسلام کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کررہا تھا اور لوگوں کے جذبات آسمان کو چھو رہے تھے ۔ صوفی کے مطابق جب جلوس آستان عالیہ کے قریب پہنچا تو بی ایس ایف نے کسی اشتعال کے بغیر اندھا دھند فائرنگ کر کے مزید ایک اور شخص کوجاں بحق کر دیا جبکہ دو درجن کے قریب افراد بھی اس واقعے میںزخمی ہوگئے ۔ فائرنگ کے نتیجے میں کائو محلہ خانیار کا35سالہ نور محمد صوفی جاں بحق ہوگیاجو 2لڑکیوں کا باپ تھا۔ نور محمد کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہناہے کہ وہ فائرنگ کے وقت دستگیر صاحب کے آستان عالیہ میں تھا اور اسی اثنامیں فائرنگ ہوگئی اور نور محمد آستان عالیہ میں ہی جاں بحق ہوگیا۔ نور محمد کی بیٹی مسرت نے کہا ‘میری بہن صائمہ کو ابھی بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارا باپ شہید ہوگیا ہے’۔ مسرت نے مزید کہا’ میں آزادی سے بے انتہا محبت کرتی ہوں کیونکہ میرا باپ بھی آزادی کی راہ میں ہی قربان ہوگیا’۔ مسرت کے مطابق”  اپنے باپ کو نہ دیکھنے کا دکھ ہر وقت رلاتا ہے اورکبھی دل کرتا ہے کہ باپ پر کوئی مرثیہ لکھوںلیکن رواں جدوجہد آزادی میں میری طرح یتیم ہوئے بچوں کو دیکھ کر پھرچپی سادھ لیتی ہوں’۔

Advertisements

2 Responses to یکم اگست 1991: جب بی ایس ایف نے خون کی ہولی کھیلی

  1. شازل نے کہا:

    کشمیر پر حکمرانوں نے ہمیشہ سیاست کی ہے لیکن پاکستانی عوام کے دل ابھی تک کشمیریوں کے لیے تڑپ اٹھتے ہیں۔

  2. فرحان دانش نے کہا:

    کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کیلئے حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کا موقع دیا جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: