پائین شہر اور بارہمولہ مسلسل محصور

جولائی 21, 2010

شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں 13سالہ طالب علم اور25سالہ نو بیاہا دولہے کی ہلاکت کے بعد بارہمولہ،سوپور اور پائین شہر کے حساس علاقوں  میں بدھ کو بھی کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور انتہائی سخت ناکہ بندی رہی۔اس دوران وادی کے دیگر اضلاع اور قسبی جات میں حریت کانفرنس(گ) کی کال پر ہمہ گیر ہڑتال کا مطاہرہ کیا گیا جبکہ جنوبی ضلع شوپیان میں مسلسل تیسرے روز بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اورپانپور میں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ Read the rest of this entry »


کشمیر:فیضان اور فیاض کی ہلاکت کے بعد کرفیو

جولائی 20, 2010

شمالی کشمیرکے ضلع بارہمولہ میں سوموار کو فورسز کے ہاتھوں تازہ ہلاکتوں کے بعد بارہمولہ ، سوپور اور سرینگر کے متعدد علاقوں میں منگل کو دوبارہ کرفےو نافذ کر دیا گےا ۔اس دوران حرےت کانفرنس (گ) کے ’جموں کشمیر چھوڑ دو ‘ پروگرام کے تحت شہر ودیہات میں ناکہ بندیوں کے باوجود اسےران کے ساتھ اظہار ےکجہتی کے بطور جلوس اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا۔ پوری وادی میں زندگی کا پہیہ مکمل طور جام رہا اور22ویں روز بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے وادی بحران کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ Read the rest of this entry »


حریت گ کا نیا احتجاجی کلینڈر

جولائی 16, 2010

وادی میں جاری ‘جموں کشمیر چھوڑ دو’ تحریک کے سلسلے میں جمعتہ المبارک کو حریت کانفرنس(گ) نے 17سے25جولائی تک نیا احتجاجی  کلینڈرجاری کر دیا ہے۔حریت ترجمان پیر سیف اللہ کی طرف سے جاری نئے کلینڈر کے مطابق 17 جولائی کودوپہر 2بجے تک کوئی ہڑتال نہیں ہوگی تاکہ اس عرصے کے دوران مستحقین تک ضروری اشیاء اور دیگر امداد پہنچائی جائے۔اس دوران تمام دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے رہیں گے تاہم دو بجے کے بعد طلباء و طالبات سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کریں گے اور اس دوران صرف’گو انڈیا گو بیک’کے نعرے بلند کئے جائیں گے۔ Read the rest of this entry »


لوگوں کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا

جولائی 15, 2010

جا نمازاور دسترخوان سڑکوں پر بچھے
پائین شہر میںتقریباً18 روز تک اعلانیہ اور بغیراعلان کرفیو نافذ رہنے کے بعدجمعرات کو سڑکوں پر لوگوں کا سیلاب اُمڈآیا جبکہ مکمل ہڑتال کے باعث وادی کے شمال و جنوب میں بھی زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام رہا اور مساجد میں آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے گونجتے رہے۔ Read the rest of this entry »


یوم شہدا ء پرشہر میں بغیر اعلان کرفیو

جولائی 13, 2010

قصبہ جات کی ناکہ بندی،مزار شہدائ،عیدگاہ اور سونہ وار مکمل طور سیل
وادی میں 13جولائی 1931کے شہداء کی برسی پرحریت کانفرنس کے ‘سونہ وار چلو ‘ اور ‘عید گاہ چلو’ پروگراموں کو ناکام بنانے کیلئے حکام نے سرینگر شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو جبکہ وادی کے دیگراضلاع میں سخت ترین ناکہ بندی کے دوران مزار شہداء نقشبند صاحب  ، مزار شہداء عید گاہ اور یو این او آفس سونہ وار کو مکمل طور پر سیل کردیاتھا ۔انتظامیہ کی طرف سے سخت ترین ناکہ بندیوں اور ہمہ گیر ہڑتال سے وادی بھر میں ہو کا عالم تھا  اور معمول کی زندگی بدستور مفلوج ہو کر رہ گئی۔پہلے سے ہی مشتہر حریت کانفرنس کے پروگراموں کے پیش نظر انتظامیہ نے حریت(ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق سمیت کئی لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا تھا۔یاد رہے کہ حریت کانفرنس (گ) کے چئیرمین اور بزرگ آزادی پسند لیڈر سید علی گیلانی سب جیل چشمہ شاہی سرینگر میں مقید ہیں۔ Read the rest of this entry »


کشمیر:اخبارات کی اشاعت بحال

جولائی 11, 2010

وادی کشمیر میں 4روز کے وقفے کے بعد سوموار کو مقامی اخبارات کی اشاعت بحال ہورہی ہے۔وادی میں میڈیا پر حکومت کی قدغن اورسخت ترین پابندیوں کی وجہ سے قارئین چارروز تک اخبار سے محروم رہے۔ریاست کی موجودہ صورتحال میں میڈیا نے غیر جانبدارانہ رول ادا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے تاہم حکمرانوں نے صحیح صورتحال کا ادراک کرنے کی بجائے سخت رویہ اختیار کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں حالات نے نازک رخ اختیار کر لیا۔ Read the rest of this entry »


فورسز کے ہاتھوں قتل و غارت جاری

جولائی 6, 2010

دوشیزہ سمیت مزید 4کشمیری جاں بحق
وادی میں فورسزکے ہاتھوں ایک خاتون اورطالب علم سمیت چار نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں منگل کو اس وقت پھر تشدد کی لہر بھڑک اٹھی جب سرینگر کی نواحی بستی ٹینگہ پورہ میں فورسز کے ہاتھوں مبینہ طورگیارہویں جماعت کے ایک طالب علم کو فورسز نے زیر حراست جاں بحق کردیا۔زبردست احتجاج کے دوران اندھا دھند فائرنگ سے ایک جواں سال دوشیزہ سمیت4نوجوان جاں بحق ہو گئے ۔انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کیلئے ایک بار پھر کرفیو نافذ کر دیا ہے اور دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ محض 18گھنٹوں کے وقفے میں 4افراد کی ہلاکت کے خلاف وادی کے طول و ارض میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور وادی کے تقریباً سبھی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے جبکہ سرینگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کو لیکر جلوس نکالے گئے جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نے ایک مرتبہ پھر طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے زور دار ٹیر گیس شیلنگ کے ساتھ ساتھ مظاہرین پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں سو سے زائدافراد زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد افراد کو گولیا ں لگی ہیں جبکہ کئی ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: