کشمیر:8 جاں بحق ،چار دن میں 22ہلاکتیں

کشمیر گذشتہ53دنوں سے سلگ رہا ہے۔اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ سے روز مرہ زندگی جہنم بن گئی ۔ہلاکتوں میں ہر گذرتے دن کے ساتھ انتہائی اضافہ ہورہا ہے ۔سوموار کو تشدد کی تازہ لہر میں فورسز کے ہاتھوں 8نوجوان جاں بحق ہوگئے ۔ اس طرح سے گذشتہ 4روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 22تک پہنچ گئی۔ وادی کے طول و عرض میں کرفیو کی خلاف ورزی کے دوران سوموار کو لوگوں کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا اور ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔علی الصبح سم تھن بجبہاڑہ کے زخمی نوجوان کی ہلاکت کی اطلاع سے جنوبی کشمیر میں تشدد کی نئی طوفانی لہر شروع ہو گئی۔طارق احمد ڈار ساکن شمس آباد بجبہاڑہ جو گذشتہ شب ٹیر گیس شل لگنے سے زخمی ہوا تھا صورہ میڈیکل انسٹچوٹ میں دم توڑ بیٹھا اورجونہی اس کی لاش اس کے گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور پولیس اور فورسز کے درمیان  جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران ا وکے کولگام سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔ پولیس اورسی آر پی ایف نے جلوس میں شامل مظاہرین کو روکنے پہلے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کا استعمال کیااور بعد میں اندھا دھند گولیاں چلائیں۔فائرنگ کے اس وقعہ میں درجنوں شہری زخمی ہوئے جن میں عاشق حسین بٹ ساکن اوکے کولگام اسپتال پہنچنے کے ساتھ ہی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ اس ہلاکت کے بعد پورے قصبے میں صورتحال مزید خراب ہوئی اورتشدد کی لہر کاکہ پورہ پلوامہ تک پہنچ گئی جہاں  لوگوں کے جلوس پر فورسز نے زبردست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہاں درجنوں لوگ گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے جن میں سے 25سالہ محمد یعقوب بٹ جاں بحق ہوگیا۔

اس ہلاکت کی خبر کے ساتھ ہی مشتعل ہجوم بے قابو ہو گیا اورانہوں نے آناً فاناً کاکہ پورہ میں بی ڈی او آفس کی عمارت ،کمیونٹی انفارمیشن سنٹر ، نائب تحصیلدار آفس ، گرلز مڈل اسکول، پولیس لنگر اورپولیس سٹیشن کی عمارت کو آگ لگادی۔ اس دوران شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں بھی ترہگام اور کرالہ پورہ میں ایک جلوس برآمد ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کرالہ پورہ میں فورسز نے جلوس پر زبردست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت10افرادگولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے ۔ زخمیوں کو فوری طور پر کپوارہ اور سرینگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تاہم کپوارہ اسپتال پہنچاتے پہنچاتے 28سالہ خورشید احمد ساکن شمناگ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ۔ کپوارہ اسپتال میں داخل زخمیوں میں سے 5کی حالت نازک دیکھتے ہوئے انہیں سرینگر منتقل کرنے کی صلاح دی گئی جن میں سے سرینگر پہنچنے کے بعد ایک اور زخمی نوجوان فاروق احمد لون ساکن ریشی گنڈ کپوارہ بھی جاں بحق ہوا کیونکہ اس کے جسم سے کافی خون بہہ گیا تھا۔ ایس پی کپوارہ بردی کمار وردی نے بتایا کہ مذکورہ مظاہرین نے ایس او جی کیمپ پر حملہ کیا جس کے بعد یہ ہلاکتیں ہوئیں ۔ ادھر پلوامہ کے وچی علاقے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جلو س نکالا اور جونہی یہ جلوس سنگم کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔ وہاں پہلے سے ہی موجود سی آر پی ایف اور پولیس نے مظاہرین کا راستہ روکا ۔اس موقعہ پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فورسز نے مظاہرین پرراست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بشیر احمد ریشی ساکن وچی موقعے پر ہی جان بحق ہوا ۔پولیس کی مذکورہ کارروائی میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں اسپتال پہنچانے کے دوران ارشد احمد بٹ کے جان بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔

ادھر شہر سرینگر کے بٹہ مالومیں احتجاجی مظاہرے کے دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فورسزکی کارروائی میں ایس ڈی کالونی بٹہ مالو کاایک 8سالہ بچہ سمیر احمد راہ شدید زخمی ہوا اور شام دیر گئے وہ زخمی کی تاب نہ لا کر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: