پانپور میں فائرنگ،نوجوان جاں بحق

زخمی شہری اسپتال میں دم توڑ بیٹھا،30 جولائی سے 30جاں بحق
وادی کے شمالی کشمیر میں جمعرات کو مظاہرین اور رضا کاروں پر فورسز کی اندھادھند فائرنگ سے 20سالہ نوجوان جاں بحق ہوا اور28دیگر زخمی ہوگئے ۔ادھر بدھوارکی شب پائین شہر کے گنپت یار حبہ کدل علاقہ میں سی آر پی ایف کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا47سالہ شہری اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا ۔ اس طرح 30جولائی سے وادی میں تشدد کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد30 تک پہنچ گئی۔اس دوران جمعرات کو پہلی بار بڈگام اور سلام آباد کے کئی علاقوں میں ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے بیچ پوری وادی میں سخت ترین کرفیو بدستور جاری رہا اور سرینگر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ متعدد جگہوں پر پر امن احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔اتوار کو کاکہ پورہ میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے محمد یعقوب بٹ نامی شہری کے چہارم کے سلسلے میں شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں سے ہزاروں لوگ جلوسوں کی صورت میں محمد یعقوب کے آبائی گائوں زڈورہ پہنچ گئے ۔تعزیتی جلسے میں کم از کم 40ہزار افراد نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر مرحوم کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور یہ تقریب پر امن طور پر اختتام پذیر ہوئی ۔ نماز ظہر کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالا اور قصبہ پانپور کی طرف مارچ شروع کیا ۔جونہی جلوس ڈگری کالج پلوامہ کے متصل واگام علاقہ میں پہنچ گیا تو پولیس اور فورسز کی بھاری جمعیت نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی ۔اس موقعہ پر طرفین کے مابین نوک جھونک ہوئی اورفورسز نے مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے ۔فورسز کارروائی کے نتیجے میںوہاں اتھل پتھل مچ گئی تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد سید علی شاہ گیلانی کی ہدایات کے مطابق نیچے بیٹھ گئی ۔یاد رہے کہ سید علی گیلانی نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں لوگوں سے کہا تھا کہ احتجاج کے موقعہ پر جب انہیں فورسز اہلکار روکنے کی کوشش کریں گے تو بھاگنا نہیں چاہئے بلکہ وہیں سڑک پر بیٹھ جائیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس موقعہ پرپولیس ٹاسک فورس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے مظاہرین پراپنی بندوقوں کے دہانے کھول دئے ۔فائرنگ کے اس واقعہ میں20افرادزخمی ہوگئے اور ان میں سے20سالہ شبیر احمد ملک ساکن لون پورہ نیوہ پلوامہ اور عامر یوسف ساکن گوسو کو صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔شبیر احمد ملک کے گلے میں گولی پیوست ہوگئی تھی اور اسکے جسم سے کافی مقدار میں خون بہہ گیا تھا جس کے نتیجے میں صدر اسپتال پہنچاتے ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔15زخمیوں کو پرائمری ہیلتھ سینٹر نیوہ پلوامہ منتقل کیا گیاجبکہ سرینگر لائے گئے ایک نوجوان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

اس دوران پائین شہر کے گنپت یارحبہ کدل علاقہ میں بدھوار کی شب احتجاجی مظاہروں کے دوران سی آر پی ایف کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 47سالہ غلام نبی بڈیاری زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ شہری بدھ کو کرفیو پر مامور فورسز کے ہٹتے ہی سبزی خریدنے کی غرض سے گھر سے باہر آیا تھا اور سبزی لیکر جونہی واپس گھر کی طرف جارہا تھاتو سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس کو اپنی گولی کا نشانہ بنایا تھا۔مذکورہ شہری کو شدید زخمی حالت میں صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا تاہم اسکی پیٹھ میں گولی لگ کر جسم کو چیرتی ہوئی آر پار نکل گئی تھی جس کے نتیجے میں اسکے جسم سے کافی مقدار میں خون بہہ گیا۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے مذکورہ شہری کو بچانے کی از حد کوشش کی لیکن گولی لگنے سے اسکے جسم کے اندرونی اعضاء بری طرح سے متاثر ہوئے تھے۔غلام نبی پیشے سے مزدوری تھااور اس طرح اپنی معمر والدہ کاپیٹ پالتا تھا۔

غلام نبی کی نمازجنازہ اسی علاقے میں ادا کی گئی جس کے بعد مردوز ن کی ایک بڑی تعداد نے الگ الگ جلوسوں کی صورت میں میت کولیکر مزار شہداء عیدگاہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔جونہی یہ جلوس پولیس تھانہ کرالہ کھڈ کے نزدیک پہنچا تو پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے انہیں روکا۔ جس پر کئی نوجوانوں نے اپنی قمیض اتار دی اور فورسز اہلکاروں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔طرفین کے مابین تیز کلامی کے بعدپولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کے بعد ٹیر گیس کے گولے داغے اور ہوا میں گولیاں چلائیں۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے خواتین کے جلوس پر بھی اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔اس صورتحال کے دوران مظاہرین اُس گاڑی کو چھوڑ کر تتر بتر ہوگئے جس میں غلام نبی کی میت رکھی گئی تھی ۔اسی اثناء میں پولیس نے اُس گاڑی کو اپنی تحویل میں لیکر عید گاہ کے مزار شہداء تک پہنچایا اور اسے سپرد خاک کرنے کیلئے صرف دو درجن کے قریب مقامی شہریوں کو پولیس گاڑی کے ذریعے ہی عید گاہ پہنچایا گیا ۔
ادھر پانپور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پونے پانچ بجے کے قریب سامبورہ کے مقامی لوگ پلوامہ کے تعزیتی جلوس میں شامل افراد میں   مشروبات اور کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کررہے تھے اور اس سلسلے میں مزار شہداء کے متصل سپورٹس سٹیڈیم میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اسی اثناء میں دو سول بسوں، دو ٹرکوں اور ایک ٹاٹا سومو گاڑی پر مشتمل قافلہ وہاںسے گذرا اور ان گاڑیوں میں سوارایس او جی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مذکورہ رضاکاروں پر بلا اشتعال گولیاں برسائیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے کاکہ پورہ تک گولیاں چلانے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس واقعہ میں8افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں شامل عبدالرشید ریشی ساکن سامبورہ پانپورکے سر میں گولی لگی ہے۔اسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: