کشمیر ماتم کدے میں تبدیل

8سالہ بچہ اسپتال میں دم توڑ بیٹھا
صورہ اور سیلو میںفائرنگ،4خواتین سمیت23افراد زخمی

وادی میں جمعرات کو سرینگر کے ایک اسپتال میں 8سالہ زخمی بچہ دم توڑ بیٹھا۔اس طرح 11جون سے تین معصوم بچے جاں بحق ہوگئے ۔مذکورہ نونہال کی ہلاکت کے بعد وادی کے مختلف علاقوں میں 11جون کے بعد فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد60ہوگئی ہے جن میں میلاد سمیت بٹہ مالو اور دلنہ بارہمولہ کے 2 بچے اور 2خواتین بھی شامل ہیں ۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھڈونی علاقہ میں 14اگست پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں8سالہ میلاد احمد ڈار ساکن وانپورہ کھڈونی سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا تھا۔میلاد کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کیا گیا تھا۔اسپتال ذرائع نے بتایا کہ میلادکوما میں مبتلا تھا اور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا لیکن جمعرات صبح وہ زخموں کی تاب نہ لاکرزندگی کی جنگ ہار گیا۔میلاد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ مظاہروں میں شامل نہیں تھا اور وہ اُس وقت گولی کا نشانہ بنا جب وہ وانپورہ بنڈ پر کرکٹ کھیل رہا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ میلاد کا والد محمد امین امامت کرتا تھا اور ایک ماہ قبل اس نے گاندربل کے ہی لار علاقہ کی مقامی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے کا سلسلہ شروع کیا جبکہ میلاد احمد آلسٹینگ کے ہی ایک سکول میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔گذشتہ ماہ اسلام آباد میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد محمد امین اپنے افراد خانہ سمیت اپنے آبائی گھر گیا تھا جہاں اسکے نونہال کو گولی کا شکار بنایا گیا۔میلاد احمد کے جاں بحق ہونے سے علاقہ بھر کے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہاں دن بھر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
ادھر شہر کے مضافات میں واقع صورہ علاقہ میں گذشتہ شب فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوں کی بلاوجہ مارپیٹ کی جبکہ لوگوں کو مساجد میں جاکر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے خلاف لوگوں میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی۔چنانچہ جمعرات کی صبح آنچار، جناب صاحب صورہ اور ملحقہ بستیوں کے سینکڑوں مردوزن گھروں سے باہر آئے اور سڑک پر دھرنا دے کر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کی۔مظاہرین جناب صاحب کی زیارت کے باہر قائم سی آر پی ایف چوکی کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ دوپہر بارہ بجے مظاہروں کے دوران علاقہ کے ذی عزت شہری پولیس افسران کے ساتھ اس معاملے پر بات کررہے تھے کہ اسی دوران پولیس نے مظاہرین پر زور دار ٹیر گیس شیلنگ کی جبکہ سی آر پی ایف اہلکار وں نے بغیر کسی اشتعال کے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول کر لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلائیں اور آس پاس کے رہائشی مکانوں کی طرف بھی بے تحاشا طریقے سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہاں چیخ و پکار سے قیامت کا سماں بپا ہوا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے بوکھلاہٹ کے عالم میں حبیب اللہ ٹپلوساکن جناب صاحب صورہ کے رہائشی مکان کے انتہائی قریب جاکر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں حبیب اللہ کے علاوہ اسکی جواں سال بیٹی سمیرہ، بیٹا شوکت احمد ٹپلو اور بہو فاطمہ زوجہ فاروق احمد ٹپلو گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے اور انہیں خون میں لت پت صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیاجہاں سمیرہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔اس واقعہ میں مجموعی طور18افراد زخمی ہوگئے۔ سوپور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبہ کے حساس علاقوں میں سخت کرفیو کے باوجود مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔اس دوران قصبہ کے مضافات میں واقع سیلو علاقہ میں اُس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب مشتعل نوجوانوں نے سیلوچوک کے نزدیک ریپڈ ایکشن فورس کی گاڑیوں پر زبردست پتھرائو کیا ۔اسی اثناء میں فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں پر ربڑ کی گولیاں چلا ئیں۔اس واقعہ میں 5نوجوان زخمی ہو گئے ۔
اس دوران حریت کانفرنس(گ) کی یوم اسیران کی کال کے پیش نظر پائین شہر اور مختلف قصبہ جات میں بندشوں کے ساتھ پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکررہ گئی، درگاہ حضرت بل اور برین نشاط میں پر تشدد احتجاجی ہوا جبکہ اسیران کے ساتھ یکجہتی کے بطور احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور کئی جگہوں پر مظاہرین و پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ حریت (گ)کی طرف سے نظر بندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے احتجاجی مظاہروں کی کال کو ناکام بنانے کیلئے شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں علی الصبح کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک وسیع آبادی بدستور اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔

4 Responses to کشمیر ماتم کدے میں تبدیل

  1. Yasir Imran نے کہا:

    بہت ہی افسوسناک

  2. اللہ سُبہانُہُ و تعالٰی جموں کشمير پر اپنا خاص رحم فرمائے ۔ جموں کشمير کے لوگوں کی قربانياں قبول فرمائے اور جموں کشمير کو جلد آزادی عطا فرمائ ۔ آمن

  3. […] This post was mentioned on Twitter by insearch 2006, Urdu Blogz. Urdu Blogz said: UrduBlogz-: کشمیر ماتم کدے میں تبدیل http://bit.ly/bdn4yE […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: