پیلٹ گن کا پہلا شکار

گیارہ سالہ طالب علم جاں بحق
وادی میں ‘جموں و کشمیر چھوڑ دو’ تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں پیر کو اس وقت ایک اور کا اضافہ ہوگیا جب فورسز نے جنوبی کشمیر کے اسلام آباد قصبہ میں افطار سے قبل مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کریا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افرادشدید زخمی ہوگئے جن میں سے ایک11سالہ معصوم بچہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔اس طرح 11جون سے اب تک ہوئی ہلاکتوں کی تعداد65پہنچ گئی۔
اسلام آباد قصبہ کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں اور پولیس و سی آر پی ایف  کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔فورسز نے لاٹھی چارج، ٹیر گیس شیلنگ اور زبردست ہوائی فائرنگ کا آزادانہ استعمال کیا جس کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ رہے تاہم حریت کانفرنس (گ) کی کال پر پانچ بجے کے بعد کچھ دکانیں کھل گئیں۔ افطار سے قبل ریشی بازار کے نزدیک مظاہرین اور پولیس و فورسز کے درمیان ایک بار پھر شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا جس کے دوران زبردست پتھرائو سے پولیس چوکی شیر باغ سے وابستہ کانسٹیبل نذیر احمد بیلٹ نمبر1045شدید طور زخمی ہوااور اسے سرینگر منتقل کیا گیا۔مظاہرین پر ٹیر گس شیلنگ کے بعدپتھرائو اور جوابی پتھرائو کا سلسلہ جاری تھا کہ اسی اثناء میں فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے دہانے کھول دئے ۔ اس موقعہ پر قصبہ میں کہرام بپا ہوا اور کچھ دیر تک گولوں کی گن گرج جاری رہی۔پولیس  کارروائی میں ایک درجن سے زائد مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کو پیلٹ گن کے زخم لگے ہیں۔ زخمیوں میں شامل 11سالہ طالب علم ارشاد احمد پرے ساکن اولڈ عید گاہ روڑ اسلام آبادکو صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق ارشاد کا پوراجسم زخموں سے چھلنی تھا اور اسکے پیر سے سر تک 45سے زائد زخم واضح تھے۔
ادھرسرینگر میں حالات اُس وقت کشیدہ ہوگئے جب شہر کے مائسمہ علاقہ میں پولیس کارروائی کے دوران  پیلٹ گن کے گولوںکی زد میں آکرکیرم کھیل رہے 5نوجوانوں شدید زخمی ہوگئے جن میں لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک کا بھانجا اور ممیرا بھائی بھی شامل ہیں اور انکے ممیرے بھائی سمیت دو نوجوانوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ زخمیوں میں 13سالہ اشفاق مجید ملک ولد عبدالمجید ملک، 33سالہ دکاندار یاسراحمد شیخ عرف راجوولد محمد رفیق ، دسویں جماعت کا طالب علم 16سالہ ساجد مشتاق ولد مشتاق احمد ڈار، 13سالہ عاقب احمد ڈار ولد غلام محمد اور38سالہ فیروز احمد چنگا ولد غلام رسول شامل ہیں۔یاسر رفیق شیخ کے پیٹ میں شدید زخم لگے ہیں اور اسے دیگر زخمیوں کے ہمراہ صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاںاسپتال ذرائع کے مطابق اس کے یکے بعد دیگرے چار آپریشن عمل میں لائے جانے کے باوجود اسکی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ساجد مشتاق کے کندھے او ر سینے میں گہرے زخم لگے ہیں جس کے پیش نظر اس کا آپریشن بھی عمل میں لایا گیا۔ اسکے علاوہ فیروز کی ٹانگوں، اشفاق کی بازو اور کمر جبکہ عاقب کی بازو اور پیٹھ میں چوٹیں آئی ہیں۔ زخمیوں میں سے تین کو ابتدائی علاج ومعالجہ کے بعد بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ منتقل کیا گیا۔
پولیس نے اس سلسلے میں ایک اہلکار کو معطل کرکے باضابطہ طور کیس رجسٹر کرلیا ہے۔اس دوران پائین شہر اور کپوارہ میں کرفیو جبکہ دیگر حساس مقامات پر بندشوں کے بیچ کئی علاقوں حیدر پورہ، راولپورہ ، سوپور،کپوارہ ،بانڈی پورہ، پلوامہ، اسلام آباد، کولگام ، پانپور اور بجبہاڑہ میں مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے زور دار ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے اور پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال سے سڑکوں اور بازاروں میں ہو کا عالم رہا، البتہ پانچ بجے کے بعد بیشتر قصبوں میںکاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔
حریت کانفرنس(گ) کے احتجاجی کلینڈر کے مطابق سوموار کو مکمل ہڑتال، دھرنا اور سڑکوں پر نمازیں ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس پر وادی کے طول وعرض میں دکانیں، کاروباری ادارے، اسکول و کالج، بنک اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر مکمل طور بند رہے اور گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ ہو کر رہ گئی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: