کیونکر منائوں عید کہ سوگوار ہوں میں

55سالہ زخمی اسپتال میں دم توڑ بیٹھا،مزدور فوج کی گولی کا شکار
وادی میں’جموں و کشمیر چھوڑ دو’ تحریک کے دوران جاں بحق ہوئے افراد میں جمعرات کو اس وقت ایک اور کا اضافہ ہوگیا جب سرینگر کے صورہ اسپتال میں 55سالہ شہری کی اسپتال میں موت واقعہ ہوئی ۔اسپتال ذرائع کے مطابق 55سالہ غلام محمد گورو ساکن خواجہ باغ سمبل  زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ غلام محمد بدھ کو ٹینگہ پورہ بائی پاس پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں شدید زخمی ہوا تھا۔ اس طرح ‘جموں و کشمیر چھوڑ دو’ تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد70پہنچ گئی۔اس دوران بانڈی پورہ کے مضافاتی جنگل میں فوج نے ایک غریب جواں سال مزدور کو جنگجوہونے کے شبہ میں گولیاں مارکرمار ڈالا جس کے خلاف علاقہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔فوج نے اس واقعہ کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ پولیس نے فوج کے خلاف کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔
صورہ اسپتال میں غلام محمدگورو کی موت کی خبر علاقے میں پھیلتے ہی سینکڑوں مردوزن گھروں سے باہر آئے اور فورسز و انتظامیہ کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرنے لگے۔ چنانچہ مذکورہ شہری کی لاش صورہ اسپتال سے جلوس کی صورت میں اپنے آبائی علاقے میں پہنچائی گئی جہاں ایک مرتبہ پھر لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے فورسز کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ مظاہرین الزام لگا رہے تھے کہ فورسز اہلکاروں نے بدھ کو اس وقت غلام محمد گورو کو شیل پھینک کر شدید زخمی کر دیا جب وہ اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ ماروتی گاڑی میں لیتہ پورہ سے ملورہ سمبل کی طرف آرہے تھے۔گورو کے لواحقین نے بتایا کہ پولیس اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے فرضی کہانیاں تیار کر رہی ہے اور اس ہلاکت کے لئے نوجوانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ پولیس میڈیا سینٹر کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھوار ٹینگہ پورہ بائی پاس پر مشتعل نوجوانوں نے ماروتی گاڑی پر زبردست سنگباری کی جس کے نتیجے میں غلام محمدگورو نامی شہری کے سر میں زبردست چوٹ آئی ۔اس دوران غلام محمد گورو کو جلوس کی صورت میں ملورہ پہنچایا گیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ اس موقعہ پر مظاہرین نے سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پر دھرنا دیکر قریب آدھے گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حرکت کو مسدود کر دیا تاہم پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ واقعے کی تحقیقات عمل میں لائی جائیگی اور اصل صورتحال منظر عام پر لائی جائیگی۔
بانڈی پورہ میں 8اور9ستمبر کی درمیانی شب کے اڑھائی بجے قصبہ کے نواحی علاقہ تریکنہ کڈارہ کے جنگلی علاقہ میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس کے نتیجے میں آس پاس کی بستیوں سے لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کے درمیانی شب 14آر آر سے وابستہ فوجی اہلکارجنگجوئوں کی تاک میں گھات لگاکر بیٹھے تھے کہ اس دوران 32سالہ منظور احمد پسوال ساکن کڈارہ نامی مزدور گھر سے نچلے علاقہ کی طرف جارہا تھا۔اس موقعہ پر فوج نے اس پر زبردست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوکر خون میں لت پت ہوگیا اور بعد میں فوجی اہلکاروں نے اسے اپنے ہی اسپتال میں منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن منظور کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھااور اسپتال کے اندر لے جانے سے قبل ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ منظور اپنی بیوی اور بچے کا واحد سہارا تھا اور مزدوری کرکے ان کا پیٹ پالتا تھا۔گائوں کے نمبردار معراج الدین کا کہنا ہے کہ فوج نے منظور احمد کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اسکی جان چلی گئی۔ ایس ایچ او بانڈی پورہ، نائب تحصیلدار اور فوجی افسران نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس سلسلے میں سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان کرنل جے ایس برار نے کہا کہ فوج نے گھنے جنگل میں تلاشی کارروائی شروع کی تھی جس کے دوران رات کے قریب دو بجے مشکوک نقل وحرکت نظر آنے پر ایک شخص کو للکارا گیا جس پر اس نے بھاگنے کی کوشش کی۔ترجمان نے بتایا کہ اس موقعہ پر فوج نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں مذکورہ شخص زخمی ہوا اور اسکی موت واقع ہوئی۔ البتہ بانڈی پورہ میں تعینات متعلقہ فوجی افسران نے اس ضمن میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ شہری کو جنگجو سمجھ کر گولیاں ماردی گئیں۔

Advertisements

2 Responses to کیونکر منائوں عید کہ سوگوار ہوں میں

  1. کاشف نصیر نے کہا:

    ان سب کے باوجود عید تو منانی پڑے گی۔ چنانچہ میری طرف سے بھی عید مبارک قبول کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: