قانون سازیہ اور بیورو کریسی بد عنوانیوں کے بھنور میں

جموں و کشمیر میںبدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزام میںسرکاری مشینری کے کم وبیش تین سو عہدیدار مبینہ طور گھنائونے جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں ۔جن کے خلاف مختلف تحقیقاتی اداروں میں فی الوقت بد عنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات جاری ہے۔ان اعلیٰ عہدیداروں میں72ارکان قانون سازیہ کے علاوہ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) ، انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس)،کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروس (کے اے ایس) اور دیگر گزیٹیڈ افسران شامل ہیں۔ اگرچہ داغدار سرکاری افسران کی فہرست ایوان کے سامنے رکھی گئی تاہم اُس میں سابق یا موجودہ داغداروزراء کا ذکر موجود نہیں تھا۔
اس بات کا سنسنی خیز انکشاف رواں اسمبلی اجلاس میںپیر کو اس وقت ہوا جب رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے ریاست میں ‘ کورپشن’کے سلسلے میں ریاستی سرکار سے دریافت کیا کہ انسداد رشوت ستانی اور ریاستی ویجی لینس تنظیم میں فی الوقت کتنے افسران اور سیاستدانوں کے خلاف کیس دائر کئے گئے ہیں۔سرکار کی طرف سے پیش کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق سرکار کے کلیدی عہدوں پر مجموعی طور290افسران کی فہرست میںشامل 203 آئی اے ایس ، آئی پی ایس،کے اے ایس اور دیگر گزٹیڈ افسران کے خلاف اس وقت مختلف تحقیقاتی اداروں میں بدعنوانیوں کے کیس زیر سماعت ہیںجبکہ 72ارکان قانون سازیہ اور افسران کے خلاف ویجی لینس میں کیس درج ہیں ۔ایوان میں پیش کی گئی فہرست میں ریاست کے سابق چیف سیکریٹری اشوک جیٹلے ، سابق ڈویژنل کمشنر کشمیر محبوب اقبال ،سابق ضلع کمشنر بارہمولہ بصیر احمد خان ،سابق جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت سرمد حفیظ ،سابق اسسٹنٹ کمشنر شمالی ضلع بارہمولہ رفیع احمد بھی شامل ہیں ۔اسکے علاوہ 12افسران کے بارے میں قانونی چارہ جوئی کی اجازت طلب کی گئی ہے اور تین افسران کے خلاف چالان پیش کرنے پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ریاست میں ایسے افسران کی تعدادبہت بڑی ہے جن کے خلاف سرکاری رقومات کے خرد برد،غیر قانونی تقرریوں،اپنے عہدے کے ناجائز استعمال اور مہنگے داموں پر سرکاری خریداری کے الزامات سے متعلق مختلف تحقیقاتی اداروں میں کیس درج ہیں۔قانون سازاسمبلی میں جن داغدار سرکاری افسران کی فہرست ایوان کے سامنے پیش کی گئی ان میں کم و بیش ایسے افسران بھی شامل ہیں جو اس وقت یا اپنے زمانے میں بہت ہی اہم عہدوں اور کلیدی عہدوں پررہے ہیں ۔ریاست کے سابق چیف سیکریٹری اشوک جیٹلی کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ اُن کے خلاف اپنے عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام تھا اور یہ کہ اُن کے خلاف چالان پیش کئے جانے پر عدالت عالیہ نے روک لگارکھی ہے۔سرکار کی طرف سے ایوان اسمبلی میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایسے افسران کی تعداد172 ہے جن کے خلاف بد عنوانیوں اور رشوت ستانی کے سلسلے میں ریاستی ویجی لینس کے پاس کیس درج ہیںاور ان میں اکثر آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، آئی ایف ایس اور کے اے ایسافسران شامل ہیں۔سرکار کی طرف سے جاری تفاصیل کے مطابق ایسے اعلیٰ افسران کی فہرست بھی طویل ہے جن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اور ان میں سابق وزیر جگجیون لعل بھی شامل ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: