وادی کی موجودہ صورتحال پر اسمبلی میں زوردار بحث

ریاست جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رواں اجلاس میں منگل کو وادی کی موجودہ صورتحال پر خصوصی بحث کے دوران ریاست کی اکثر سیاسی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی تنازعہ قرار ددیااور اس دیرینہ مسئلے کا حل بھی سیاسی قراردیا تاہم آزاد رکن قانون سازیہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے علاحدگی پسند جماعتوں اور عسکری قیادت سے بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ بی جے پی اور پنتھرس پارٹی نے جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیکر وادی کی موجودہ صورتحال کو مخلوط حکومت کی ناکا می سے تعبیر کیا۔ وادی کی موجودہ صورتحال پر اس خصوصی بحث کیلئے سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان اور میر سیف اللہ نے یکم اکتوبر کو ایوان میں ایک تحریک التوا پیش کی تھی۔اسمبلی کے اسپیکر محمد اکبر لون نے وقفہ سوالات کے فوراً بعد مقررہ موضوع ”وادی کی موجودہ صورتحال ”پربحث کی اجازت دی۔رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے بحث کا آغاز کیا۔
محمد یوسف تاریگامی(سی پی آئی ایم)
وادی کی موجودہ صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے جموں و کشمیرکو ایک دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اوراگر یہ گذشتہ تین ماہ کا مسئلہ ہوتا تو شائد نوعیت دوسری ہوتی بلکہ ایک بارکشمیری عوام کے جسم و جان کا خون میں لت پت ہونا نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا۔تاریگامی نے حزب اقتدارو اختلاف سے سوالیہ اندازمیں پوچھا کہ کیا کشمیریوں کی تقدیر میں فقط پٹنااور پسناہی لکھا ہوا ہے؟۔انہوں نے کہا ”کشمیر پوری طرح خون میں لت پت ہیں اور اب سوال صرف لاشیں گننے کا نہیںبلکہ وہ جو بچھڑ گئے ان کا قصور جاننے کیلئے سیاسی قیادت سے سوال پوچھا جارہا ہے؟”اپنے جذباتی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے تاریگامی نے کہا ” گذشتہ بیس برس کے پر آشوب دور میںگولی ہندوستان کی چلی یا پاکستان کی ، سینہ کشمیریوں کا چھلنی ہوگیا”۔تاریگامی کے مطابق اس سلسلے میں سیاسی پارٹیو ں کو ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کی روش ترک کرنی چاہئے۔تاریگامی نے دلی سرکار کی طرف سے8نکاتی فارمولہ میں جاں بحق ہوئے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ دینے کو اشک شوئی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پانچ یا دس لاکھ تو کیا ساری دنیا بھی دے دو مذکورہ جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین کو پھر بھی ان کے زخم نہیں بھرجائیںگے”۔انہوں نے حکومت ہند اور ریاستی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا”اب بس کرو اور یہ ذہن نشین کرلو کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ،اگر ہم اب بھی ہوش میں نہ آئے تو افغانستان جیسے کھنڈرات سے ہمیں بھی واسطہ پڑے گا۔”
پروفیسر چمن لعل گپتا(بی جے پی )
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر پروفیسر چمن لعل گپتا نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس بحث کو کشمیر کی نہیں بلکہ جموں کشمیر کی بحث بنایا جانا چاہئے کیونکہ کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں کا بھی نقصان ہوتا ہے ۔انہوں نے بی جے پی کا روایتی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے الگ نہیں کر سکتی ۔
میر سیف اللہ(نیشنل کانفرنس)
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی کپوارہ میر سیف اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ1947ء کا سال بھارت اور پاکستان کیلئے خوشیوں کا سال رہا لیکن کشمیریوں کیلئے مصیبتوں اور قتل و غارتگری کی شروعات اسی سال سے ہوئی ۔میر سیف اللہ نے علیحدگی پسندوں سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پر امن جدوجہد کریں کیونکہ اپنے لوگوں کو مرنے مارنے پر آمادہ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔انہوں نے  بتایا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ،اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحث ومباحثہ نہیں ہوتا جہاں بھارت اور پاکستان کے نمائندے بھی تھے اور انہوں نے کشمیر کے حل طلب ہونے کا اعتراف کیا ۔میر سیف اللہ کے مطابق اگر کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تو دلّی ،تاشقند ،لاہورایگریمنٹ نہیں ہوتے،الحاق کے دستاویز پر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ،نیشنل کانفرنس کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ 22سال تک جیل میں نہیں رہتے ۔ان کا مزید کہنا تھا ”1947ء سے آج تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ شہید ہو گئے اور ہزاروں کے سہارے چھین لئے گئے لیکن مرکز میں حکومتیں سنجیدہ نہیں رہیں ”۔
ہرش دیو سنگھ (پینتھرس پارٹی)
پینتھرس پارٹی کے لیڈر ہرش دیو سنگھ نے وادی میں گذشتہ چار ماہ کے دوران پیش آئے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیماری کو ڈھونڈنا ہے تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جو ریاست میں امن کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں کیونکہ بقول ان کے کسی کی بند مٹھی کے ساتھ اس کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا جا سکتا ۔ان کا کہنا تھا ”یہ لوگ آج بھی لوگوں کو اُکساتے ہیں ،کوئی پاکستان کے نام پر،کوئی آزادی کے نام پر لیکن جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا ،حصہ ہے اور رہے گا ،کوئی طاقت اسے ہندوستان سے الگ نہیں کر سکتی ”۔
انجینئر رشید(آزاد امید وار)
حلقہ انتخاب لنگیٹ کے ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے  ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے اسکا حل ہی ریاست کے امن کاضامن قرار دیا۔ انجینئر رشید نے کہا کہ ” کشمیر میں امن قائم ہو جانے تک ایسی تمام کوششیں جیسے تعمیر وترقی، بیروزگاری پر قابو وغیرہ فضول ہیں جب تک کہ اس متنازعہ مسئلے کا حل نہیںنکالا جاتا”۔حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انجینئر رشید نے انہیں انتخابات کے دوران لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی یاد دلائی۔انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ آج یہ دونوں پارٹیاں مسئلہ کشمیر پر چپ سادھ لئے ہوئے ہیں جبکہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات میں اٹانومی کے لئے ووٹ مانگا تھااور پی ڈی پی نے سیلف رول کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کئے۔آزاد رکن اسمبلی کے مطابق افسوس اس بات کا ہے کہ 110لوگوں کا خون بھی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک نہ کرسکا۔ انجینئر کی تقریر پر بی جے پی اور پنتھرس ممبران تلملا اٹھے اور انہوں نے کئی بار ممبر اسمبلی کو روکنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشوک کھجوریہ نے مذکورہ ممبر اسمبلی کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ آپ ہی بتائے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے تو انجینئر رشید نے درجواب کہا کہ اس مسئلے کا حل فقط ”حق خود ارادیت” ہے اور آپ ایک بار رائے شماری کرتولیجئے پھر دیکھیں گے۔انجینئر رشید نے بی جے پی اور پنتھرس ممبران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کشمیری بھیڑ بکریاں نہیں ہیں جو آپ انہیں باندھ کے رکھو گے۔انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ اب کشمیریوں کی لاشوں کا مزہ لینا بندھ کیاجائے اور جنگجوئوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔انجینئر رشید نے ایوان میں زور دیکر کہاکہ”ریاست میں سنگبازی کے واقعات ہی کیا بلکہ مجھے تو خدشہ ہورہا ہے کہ کہیں یہاں افغانستان کی طرح ہر طرف کھنڈرات نہ بن جائیں”۔بحث میں کانگریس کے ممبر اسمبلی ڈوڈہ عبدالمجید وانی،نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی کرناہ کفیل الرحمان،بی جے پی کے اشوک کجھوریہ ، کانگریس کے چودھری محمد اسلم ،پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین اور نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان  نے بھی حصہ لیا۔

Advertisements

2 Responses to وادی کی موجودہ صورتحال پر اسمبلی میں زوردار بحث

  1. bet365 نے کہا:

    hello I was fortunate to seek your Topics in wordpress
    your Topics is excellent
    I get much in your subject really thanks very much
    btw the theme of you website is really magnificentsuper
    where can find it

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: