عمر عبداللہ کی تقریر پر اسمبلی میں ہنگامہ

مارشل سمیت4ممبران ارکان قانون سازیہ زخمی
ریاست کی قانون ساز اسمبلی جمعرات کو اس وقت اکھاڑے میں تبدیل ہوگئی اورزبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جب جموں کے ارکان قانون سازیہ نے ایوان میںوادی کی موجودہ صورتحال پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی تقریر کوبھارت دشمن قرار دیکر احتجاج کیا۔احتجاجی ممبران نے زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ ایوان میں معافی مانگیں۔احتجاجی ممبران کے زبردست شور شرابہ اور ہاتھا پائی کے دوران اسپیکر نے مارشلوں کو مشتعل ارکان ایوان سے باہر نکالنے کی ہدایت دی جس کے بعدانہیں گھسیٹ کر باہر دھکیل دیا گیا۔رواں اسمبلی اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ مارشلوں اور ممبران اسمبلی کے درمیان دینگا مشتی کے مناظر دیکھے گئے جس کے نتیجے میں ایک مارشل سمیت 4 ممبران اسمبلی زخمی ہوئے ۔ مارشل سمیت کئی ارکان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔اس دوران بی جے پی نے اسمبلی کے بقیہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے ریاست گیر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی جبکہ پینتھرس پارٹی نے8اکتوبرجمعہ کو جموں بندھ کی کال دی۔
جمعرات کو اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی، پینتھرس پارٹی اور جموں سٹیٹ مورچہ کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر بحث کے جواب میں بدھوار کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی تقریر پر اعتراض جتایا۔انہوں نے اسپیکر محمد اکبر لون سے مخاطب ہوکر کہا کہ وزیر اعلیٰ نے جموں وکشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحا ق مشروط قرار دیکرغلط بیانی کی ہے ۔انہوں نے زوردار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اسمبلی میں حریت کا ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ پینتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ نے بتایاکہ وزیر اعلیٰ نے کشمیرکو بین الاقوامی مسئلہ قرار دیکر انہیںیہ کیوں کہا کہ ”آپ بار بار کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہو ”۔ہرش دیو نے کہا”ہم جموں کشمیر کو بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ اس لئے قرار دیتے ہیں کہ یہاں آزادی،پاکستان، حق خود ارادیت، اٹانومی اور سیلف رول کی باتیں ہوتی ہیں جبکہ ملک کی کسی اور ریاست میں ایسا نہیں کہا جاتا”۔انہوں نے کہا” وزیر اعلیٰ کا بیان قابل اعتراض ہے اور ہم اسکی مذمت کرتے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی اصول و ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے وزیر اعلیٰ کی تقریر میں خلل نہیں ڈالا حالانکہ  وزیر اعلیٰ کا خطاب قابل اعتراض تھا۔ہرش دیو نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور عمر عبداللہ کا بیان ناقابل قبول ہے ۔ہرش دیو سنگھ کے حق میں جموں کے سبھی ممبران ارکان قانون سازیہ ایوان میں زبردست شوروغل کرتے ہوئے ویل کی طرف بڑھنے لگے اور  انہوں نے پہلی صف کے نزدیک جمع ہوکر زبردست نعرے بازی کی۔اس دوران اسمبلی کے اسپیکر محمد اکبر لون بار بار احتجاجی ارکان سے خاموش ہونے کی درخواست کرتے رہے لیکن وہ احتجاج جاری رکھنے پر بضد رہے اور انہوں نے”پاکستانی ایجنڈا نہیں چلے گا، حریت ایجنڈا نہیں چلے گا،حریت سرکار نہیں چلے گی،حریت سرکار ہائے ہائے ” کے زور دار نعرے بلند کئے۔ اسی اثناء میں نیشنل کانفرنس کے بعض ارکان نے احتجاجی ممبران پر جوابی الزامات عائد کئے اور فریقین کے درمیان تلخ کلامی اور نوک جھونک بھی ہوئی۔ ایوان میں شور شرابہ جاری تھا کہ بھاجپا، پینتھرس اورجموں سٹیٹ مورچہ کے ارکان میزوں اور نشستوں کو پھلانگتے ہوئے ویل میں آگئے اور اسپیکر کی میز کی طرف جانے کی کوشش کی۔ ایوان میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا اور مشتعل ارکان نے مائیکرو فون، پنکھے، کاغذات اور تاریں تہس نہس کرکے ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دی۔احتجاجی ارکان چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ریاستی سرکار علاحدگی پسندی اور بنیاد پرستی کا ایجنڈا چلا رہی ہے اور وزیر اعلیٰ کا بیان اسی ایجنڈے کا عکاس ہے۔ مشتعل ارکان اسمبلی نے اسپیکر کی میز کی طرف جونہی پیش قدمی شروع کی تو اسپیکر نے ایوان میں موجودایوان کی اندرونی حفاظت پر مامور مارشلوںکو حکم دیا کہ وہ ہنگامہ کرنے والے ممبران کو ایوان سے باہر نکال دیں۔اسپیکر کی ہدایت پر ایک درجن سے زائد مارشل اہلکاروں نے مشتعل ارکان کو گھیر لیا اور انہیں آگے جانے سے روک لیا اور جب وہ آگے بڑھنے پر بضد رہے اور شور شرابہ کرتے رہے تو انہیں گھسیٹ کر ایوان سے باہر پھینک دیا۔اس موقعہ پر احتجاجی ارکان اور مارشلوں کے درمیان زور دار ہاتھا پائی ہوئی او ر ایوان نعرے بازی اور چیخ و پکار سے گونجتا رہا۔اس کارروائی میں بی جے پی اور پینتھرس کے نصف درجن ممبران زخمی ہوگئے جن میں اشونی کمار، جگل کشور، اشوک کھجوریہ، یشپال کنڈل، درگا داس اور سکھ نندن شامل ہیں جن میں سے دو ارکان کو صدر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر ارکان کو معمولی چوٹیں آئیں۔ہاتھا پائی کے دوران غلام حسن نامی ایک مارشل کی پسلیوں میں بھی چوٹ آئی اور اسے بھی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ کئی دہائیوں کے بعد اسمبلی اجلاس کے دوران وہاں موجود فسٹ ایڈ اور ایمبولینس گاڑی کو استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس موقعہ پر اسپیکر محمد اکبر لون نے ایوان میں موجود ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ”افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ایوان کو مچھلی بازار بنایا گیا ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: