کشمیر:کرفیو کا ایک اور دن

وادی میں منگل کو حریت کانفرنس(گ) کی ‘حیدرپورہ چلو’ کال کے پیش نظرسخت ترین کرفیو اور دفعہ144نافذ رہا ۔یاد رہے کہ’ حیدرپورہ چلو’ کال حریت کے احتجاجی کلینڈر کا حصہ نہیں تھا البتہ حریت (گ) کی اکائی مسلم لیگ نے لوگوں سے کہا تھا کہ بزرگ علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی نظربندی کے خلاف انکی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ تک مارچ کریں۔واضح رہے کہ حریت کانفرنس نے اپنے احتجاجی کلینڈر میں پیر کو ہڑتال میں ڈھیل دی تھی جس کے نتیجے میں وادی میںمعمول کی زندگی ایک دن کیلئے بحال ہوگئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق حریت کے چند اراکین شہر میں امن و قانون کی خلاف ورزی کا منصوبہ بنا رہے تھے جس کی بنیاد پر وادی میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں11جون کو شروع ہونے والی عوامی احتجاجی لہر کے چار مہینے منگل کو مکمل ہوگئے اور اس عرصے میں پولیس اور فورسز کارروائیوں کے دوران 110افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ گذشتہ چار ماہ کے عرصے میں وادی میںکم و بیش تمام کاروباری ،تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔
حریت کانفرنس (گ) کے’ حیدرپورہ چلو’ کال کے پیش نظرلوگوں کو حیدر پورہ کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کیلئے بائی پاس کی طرف جانے والے تمام راستوں بالخصوص ائر پورٹ روڑ کی مکمل ناکہ بندی عمل میں لائی گئی اور اس سلسلے میں جگہ جگہ بٹھائے گئے ناکوں پر کسی بھی گاڑی یا پیدل چلنے والے کو حیدر پورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس ضمن میں پارمپورہ،ایچ ایم ٹی ، درگاہ حضرت بل اور پانتھ چوک میں ناکے لگائے گئے تھے جہاں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات تھی۔ اس صورتحال کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر مجموعی طور پر سناٹا چھایا رہا۔وادی کے دیگر قصبہ جات سے بھی اطلاعات ہیں کہ بیشتر علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا ۔پولیس بیان کے مطابق سرینگر شہر کے ساتھ ساتھ،وارپورہ، میر گنڈ، بڈگام قصبہ، چھون، اومپورہ، نارکرہ، ہمہامہ، شیخ پورہ، ائرپورٹ روڑ، وتہ ڈورہ، گلوان پورہ گوگو، رنگریٹ ، وانہ بل، پانزن ، چاڈورہ، ناگم، مانچھواہ، کرالہ پورہ، واتھورہ، حسی پورہ، چرار شریف، بیروہ، گاندربل، کنگن، اسلام آباد، بجبہاڑہ، قیموہ، کولگام، پلوامہ، کاکہ پورہ، شوپیان، بارہمولہ،پلہالن، دلنہ، ٹنگمرگ، پٹن، سوپور، کپوارہ، ترہگام ،کرالہ پورہ، ہندوارہ، کولنگام، بانڈی پورہ اور سمبل میں کرفیو جبکہ دیگر علاقوں میں بندشیں عائد کی گئی تھیں۔اطلاعات کے مطابق ہندوارہ میںلوگ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے جن کو پولیس نے لاٹھی چارج سے بھگا دیا۔ہندوارہ کے کیہ یونسو وہی پورہ نامی علاقے میں دوپہر دو بجے کے بعد کرفیو میں ڈھیل کے دوران گاڑیوں پر پتھرائو کے واقعات پیش آئے۔بانڈی پورہ کے کئی علاقوں میں پولیس کی طرف سے نوجوانوں کی گرفتاری کی مزاحمت کرنے والے لوگوں پر لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شیلنگ سے دو خواتین سمیت7افراد زخمی ہوگئے جبکہ یونسو ہندوارہ میں کرفیومیں ڈھیل کے بعد گاڑیوں پر پتھرائو کیا گیا اور ہندوارہ میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں پرلاٹھی چارج کیا گیا۔اس صورتحال کے نتیجے میں وادی بھر میںمنگل کو ایک مرتبہ پھر سکوت چھایا رہااور معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔بانڈی پورہ سے اطلاعات ہیں کہ بعددوپہر ضلع کے صدر کوٹ بالا علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے نصف درجن سے زائد راہگیروں کو دبوچ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی۔مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اہلکار وں نے چھاپہ مار کارروائیوںمیںکئی نوجوانوں کو زبردستی گاڑیوں میں سوار کرنے کی کوشش کی تو علاقہ کے مردوزن احتجاج کرنے لگے ۔اس دوران پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ اس واقعہ میں7افراد زخمی ہوگئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: