ترنگا سیاست بھاجپا اور این سی کی ملی بھگت:محبوبہ

بھارت کے یوم جمہوریہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ترنگا لہرانے کے اعلان کو نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف کی سربراہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں لوگوں کی توجہ بنیادی مسئلے سے ہٹانے کیلئے یہ ناٹک رچارہی ہیں۔مسئلہ کشمیر کو برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کی دین قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ یہ پارٹی کبھی اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھی۔فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کے حالیہ اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کی داخلہ اور دفاعی وزارت میں ابھی اس معاملے پر انتشار ہے جبکہ مرکزی اور ریاستی سرکار میں بھی تضاد ہے.سرینگر کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیر کو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ریاستی سرکار کو فالج زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ عوامی تحریک کے دوران 115افراد کی ہلاکتوں نے بھی ان کے ضمیر کو نہیں جھنجوڑا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 115افراد کا قتل کیا گیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور ملوثین کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ 17ہلاکتوں کے لئے تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ آل پارٹی ڈیلی گیشن اور مذاکرات کاروں نے ریاستی عوام کو راحت پہنچانے کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں لیکن ریاستی حکومت ان تجاویز کو عملانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے حکومت کو ہر محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظر بندوں کو رہا کرنے کے بجائے مزید نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا کہ 19جنوری سے انکی پارٹی ریاست گیر سطح پر احتجاجی مہم شروع کرے گی جس میں سرکار کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔محبوبہ کے مطابق اس مہم میں عام لوگوں کے مسائل، گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبے پر زور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ضلع صدر مقامات پر پی ڈی پی کارکن سڑکوں پر آینگے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی سڑکوں پر آکر اپنے مطالبات دہرائے گی اور یہ سلسلہ اسکے بعد بھی جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور آبرومندانہ حل ، شہری آبادی والے علاقوں سے فورسز کا انخلاء، افسپاکی واپسی، سیاسی لیڈران اور بے گناہ نوجوانوں نکی رہائی سمیت دیگر مطالبات کیلئے محو جدوجہد رہے گی ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی عوام پر ہو رہے مظالم پر خاموش نہیں رہیگی اور بنیادی ضروریات سے محروم عوام کی آواز بلند کرنے کیلئے پی ڈی پی حدود پار بھی کرسکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ 8نکاتی پیکیج پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو ا کیونکہ مرکزی حکومت نے گرفتار شدگان کی رہائی کے احکامات دئے لیکن ریاستی حکومت نے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کر دیا۔مفتی کے مطابق علاحدگی پسند لیڈرغلام نبی سمجھی، محمداشرف صحرائی ، جنرل موسیٰ ، ایڈوکیٹ شفیع ریشی، بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں قیوم اور ایڈوکیٹ جی این شاہین مسلسل نظر بند ہیں ۔انہوں نے نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود میاں قیوم کی رہائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے بلکہ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کے خلاف مختلف جرائم پر مبنی فرضی کیس تیار کرکے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت زینت زندان بنایاجارہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت نے ریاست کے نوجوانوں کو سنگباز اور جنگجو قرار دیکر پورے بھارت میں بدنام کرکے رکھ دیا اور اب کشمیری نوجوانوں پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے ۔ ہوم سیکریٹری جی کے پلائے کے حالیہ فوجی انخلاء بیان پر ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی صدر نے کہا کہ اس معاملے پر خود دلی میں کنفیوژن ہے جبکہ ریاستی سرکار بھی انتشار کا شکار ہے۔محبوبہ کے مطابق فوج کا بیان فوجی انخلاء پر کچھ اور ہی ہے بلکہ وادی کے کئی علاقوں میں نئے فورسز کیمپ قائم کئے جارہے ہیں اور یہ سب حکومت کی ایماء پر کیا جارہا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکز نے آرمڈ فورسز سپیشل پاؤرس ایکٹ کے حوالے سے گیند ریاستی سرکار کے پالے میں ڈال دی ہے لہٰذا اب ریاستی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افسپا پر کوئی فیصلہ لے تاہم پی ڈی پی صدرنے کہا کہ فوج میں کمی کے معاملے پر بھی مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان کوئی تال میل نہیں کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے فوج میں کمی کا اعلان کیا جاتا ہے اور بعد میں عمل درآمد یقینی بنایا نہیں جاتا۔ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی طرف سے لالچوک میں ترنگا لہرانے کے معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے نیشنل کانفرنس اوربھاجپا کی میچ فکسنگ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے جبکہ نیشنل کانفرنس لوگوں کی توجہ اصل اور بنیادی مسئلے سے ہٹانے کی کوشش میں اس معاملے پر بیان بازی کررہی ہے۔محبوبہ مفتی نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے دوست قرار دیتے ہوئے کہا ’’ یہ دونوں جماعتیں ماضی میں بھی ایک دوسرے کے شریک کار رہے ہیں اور آج میچ فکسنگ کا نیا ڈرامہ رچارہے ہیں‘‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: