کشمیری رہنماؤں کی نظروں سے اوجھل ڈوڈہ

ریاست جموں و کشمیرمیں چناب وادی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو امریکہ میں کیلیفورنیا کو ہے۔قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے علاوہ قدرت اس خطہ ارض پر دوسرے طریقوں سے مہربان ہے۔یہاں کے خوبصورت پہاڑ نہ صرف خوبصورتی اور جاذبیت کا انمول سنگم ہیں بلکہ اپنے سینے کے اندر بیش قیمت خزانے سمیٹے ہوئے ہیں۔آب و ہوا کی معتدلی اور بہتے جھرنوں کی پاکیزگی سے ماحول اس قدر مسحور ہے کہ یہاں کے لوگ بھی معصومیت ، صاف دلی اور کمال مہمان نوازی کے نمونے ہیں۔ان کی مہمان نوازی کو دیکھکر وادی کشمیر کے لوگوں سے ان کی یکسانیت کا گماں ہوتاہے۔اور یہ گمان حقیقت ہی تو ہے جس کا اعتراف ڈوڈہ کے ایک معزز شہری عبداقیوم نے جذبات سے لبریز ان الفاظ میں کیا’’ہم آپکے بھائی ہیں جو پچھلی ایک دو صدیوں سے ان علاقوں میں بود و باش رکھتے ہیں۔جب وادی کشمیر پر اغیارنے یلغار کی اور ہر سُو ظلم و ظلمات کے اندھیرے بٹھادئے تو ہمارے آباء و اجداد اس جانب کوچ کر آئے تاکہ ظلمت کا وہ اندوہناک دور چھٹ جانے کے بعد وطن واپس لوٹیں۔وہ دور طول پکڑتا گیا اور یہاں سے نکلنے کا جواز نہیں بن پایا۔یوں یہ سر زمین ہمارا مسکن بنا۔وازہ وان کے بغیر ہمارے ہمارے سبھی رسوم و رواج خالص کشمیری ہیں‘‘۔
ڈوڈہ کے عصر حاضر کے نامور ادیب اور شاعرمشتاق فریدی نے کشمیر سے آئے ہوئے صحافیوں کیلئے چائے کا انتظام کیا تھا۔چائے کا صرف نام ہی تھا ورنہ وہاں ضیافتوں کے انبار لگے تھے۔ضیافتوں کے ساتھ ساتھ گفتار کی شیرینی سے دعوت کا مزہ دو آتشہ ہوا۔بار بار دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ہنسی کا دور چلتا رہا ۔یہاں کی مہمان نوازی اپنے نقطہ عروج پر اس وقت پہنچی جب معروف سماجی کارکن عبداقیوم زرگر تشریف لائے۔دروازہ کھلتے ہی اُس کا ہاتھ پہلو کے جیب سے نکلا اور تمام مہمانوں پر مٹھائیاں نچھاور کیں۔یہ منظر اس قدر جذباتی تھا کہ وفورِ جذبات سے کچھ کشمیری صحافیوں کے آنسو چھلک پڑے۔
چناب وادی کے لوگ دھان،مکی اور میوہ جات اگاتے ہیں ۔یہاں کے سیب ہر اعتبار سے کشمیر کے سیبوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔رس بھرے اور مٹھاس والے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ڈوڈہ کے اکثر لوگوں کے کلام میں مٹھاس پائی جاتی ہے۔الفاظ سے سامنے والے کیلئے عزت و وقار ٹپکتا ہے۔’’ہم وہ نہیں جو کشمیر میں ہمیں سمجھا جارہا ہے۔ہم پہاڑوں میں بسیرا کرتے ہیں لیکن گنوارا اور پسماندہ نہیں ہیں۔آپ لوگ کشمیر جاکر وہاں یہ سمجھائیں کہ ہم بھی کشمیری ہی ہیں۔ہماری شکلیں ،خدوخال، زبان سبھی کشمیریوں جیسے ہیںیہاں تک کہ ثقافتی، جذباتی اور سیاسی طور پر بھی ہم یکساں نظریات کے حامل ہیں۔ہم اپنی بیٹیوں کیلئے جموں کے بجائے کشمیر یونیورسٹی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اپنوں سے کوئی ڈر نہیں لگتا۔اب کشمیری ہمیں پرائے سمجھیں تو دل کو ٹھیس پہنچتی ہے‘‘۔مشتاق فریدی کے یہ الفاظ دل کو لگے۔
عام کشمیری کی بات ہی نہیں۔یہاں کے سیاسی رہنما ،چاہے وہ مین اسٹریم ہوں یا علاحدگی پسند ،وہ بھی چناب وادی کے محل وقوع اور سیاسی دلچسپیوں سے بے خبرہیں ۔ڈوڈہ کے ایک صحافی نے بتایا کہ اس نے حریت کے ایک سرکردہ رہنما سے ڈوڈہ آنے اور وہاں اپنا پروگرام لوگوں تک پہنچانے کیلئے کہا تو اس نے جواباً یہ پوچھا کہ کیا ڈوڈہ پونچھ کے قریب ہی ہے۔جب لیڈروں کایہ حال ہو تو عام لوگوں سے شکوہ ہی کیا۔ کئی دہائیوں سے کشمیری رہنماؤں نے اپنی سیاست کا محور کشمیر کو سمجھا اور یہ بھول بیٹھے کہ ڈوڈہ، کشتواڑ، بھدرواہ، پونچھ، راجوری، ریاسی اور کرگل کے لوگ بھی سیاسی اعتبار سے کشمیریوں کے بالکل نزدیک ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دو ڈھائی ضلعوں پر مشتمل ڈوگرہ لوگ اور قلیل آبادی والا لیہہ ضلع کشمیریوں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور ایسا کرکے بجٹ کا کثیر حصہ ہڑپ کرنے کے باوجود بھوکے ننگوں کی طرح چلارہے ہیں۔ڈوڈہ کے لوگ کپرن دیسہ سڑک کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنے کہ کشمیری مظفرآباد روڈ کے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سڑک کی تعمیر سے وہ اپنے آبائی وطن سے جڑجائیں گے اور کشمیر سے اپنی سیاسی وابستگی کو مزید مستحکم کرپائیں گے۔عبد المجید بٹ کافی دور سے پریس انفارمیشن بیورو(پی آئی بی) سرینگر کا’’بھارت نرمان‘‘ پروگرام دیکھنے کیلئے آئے تھے۔کشمیری صحافیوں کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔کپرن دیسہ روڈ پر بات کرتے ہوئے بولے’’آپ کو شائد پتہ نہیں ہوگا کہ اس سڑک کی تعمیر سے کشمیر صوبہ میں کشتواڑ اور ڈوڈہ ضلعوں کا اضافہ ہوگا‘‘۔بٹ کے یہ خیالات ڈوڈہ کے لوگوں کی عمومی رائے ہے۔اگر کشمیری سیاسی لیڈران ہوش کے ناخن نہ لیں تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب چناب وادی کے لوگ بے اعتنائی پر اتر آئیں گے اور اپنی سیاسی وابستگیوں کا محور سرینگر کے بجائے جموں کو بنائیں گے۔

Advertisements

One Response to کشمیری رہنماؤں کی نظروں سے اوجھل ڈوڈہ

  1. […] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed, imtiyaz khan. imtiyaz khan said: کشمیری رہنماؤں کی نظروں سے اوجھل ڈوڈہ: http://wp.me/pK9kd-co […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: