ٹارگیٹ کلنگ میں طالب علم جاں بحق

شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبے میں سنیچر کو فوج کے ہاتھوں 21سالہ طالب علم کی ہلاکت کے بعدحالات کشیدہ ہوگئے ۔ ہندوارہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ ریاستی حکومت نے مجسٹیریل انکوائری کےاحکامات صادرکئے اور پولیس نے فوج کے خلاف قتل کا کیس درج کیا ۔فوج نے بھی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام سے مانگی لی ہے اور فوجی سطح پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ریاست کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے لواحقین سے معافی مانگ لی ہے۔
وادی میں کئی ماہ کے بعد تشدد کے ایک واقعہ میں شمالی ضلع کے گنڈ چوگل ہندوارہ نامی گاں میں سنیچر کی صبح اس وقت حالات کشیدہ جب فوج کی4پیرا سے وابستہ اہلکاروں نے 21سالہ منظور احمد ماگرے ولد غلام احمد نامی طالب علم کو فوج نے گولیاں مار کر جاں بحق کردیا ۔اس واردات کے بعدبستی کے لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے اور فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ منظور احمد کی لاش گائوں کے اندر ہی ایک پل کے نزدیک پھینک دی گئی تھی۔منظور احمد کے والد غلام احمد نے بتایاکہ ”جمعہ کی شب بارہ بجے تک میرا بیٹا گھر میں تھا۔ صبح میں نے دیکھا تو وہ کمرے میں نہیں تھا تاہم کمرے میں ایک فوجی جیکٹ پڑا تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ فوجی اہلکاروں نے میرے بیٹے کو اغوا کے بعد قتل کیا”۔مذکورہ طالب علم کی لاش جب اسکے گھروالوں کے سپرد کی گئی تو سینکڑوں لوگوں نے گھروں سے باہر آکر منظور احمد کی لاش کندھوں پر اٹھاکر سوپور کپوارہ شاہراہ تک مارچ کیا۔مظاہرین فوج کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے ۔مظاہرین’ قاتلوں کو پیش کرو’ اور’ ہمیں انصاف دو’ کے نعرے لگارہے تھے۔مظاہرین نے منظورکی لاش شاہراہ پر رکھ کر کولنگام چوک میں دھرنا دیکر زور دار احتجاج کیا۔مظاہرین قتل میں ملوث فوجی اہلکاروں کی نشاندہی اور انہیں سزا دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس دوران فوج نے منظور احمد کی ہلاکت کو افسوسنا ک قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ فوج کی ہی گولی سے جاں بحق ہوگیا۔ دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ فوج جنگجوئوں کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد4اور5فروری کی درمیانی رات میدان چوگل اور پہرو پیٹھ ہندوارہ میں گھات میں بیٹھے تھے جس کے دوران رات کے قریب ساڑھے دس بجے فوجی اہلکاروں نے2افراد کو مشکوک حالت میں دیکھاجو گھات میں بیٹھے اہلکاروں کی طرف ہی آرہے تھے۔کرنل برارنے مزید بتایا کہ فوج نے جنگجو مخالف کارروائیوں کے حوالے سے طے شدہ ضوابط پر عملدرآمد کرتے ہوئے مشکوک افراد کو سرنڈر کرنے کے لئے کہا تاہم وہ بھاگ گئے ،جس پر فوج نے گولی چلائی۔ترجمان کے مطابق گولی لگنے سے منظور احمد ماگرے ولد غلام احمد کی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرا شخص فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔دفاعی ترجمان کے مطابق فوج نے اس سلسلے میں کارروائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔دریں اثنا پولیس نے فوج کی4پیرا کے خلاف قتل کا کیس زیر ایف آئی آر نمبر26/2011زیر دفعہ302آر پی سی درج کیا ہے۔
ریاستی حکومت نے مجسٹیریل انکوائری کے احکامات صادر کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں جبکہ ریاست کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے مذکورہ نوجوان کے گھر جاکر اس واقعہ کی مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ اگر فوج نے یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کی میٹنگ میں پیش کی گئی ان کی تجاویز پر عمل کیا ہوتا تو اس ہلاکت کو ٹالا جاسکتا تھاتاہم وزیر اعلی نے ان تجاویز کی وضاحت نہیں کی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: