جموں کشمیرکی آبادی1,25,48,926

مردم شماری2011 کے مطابق جموں و کشمیرکی مجموعی آبادی 1,25,48,926ہے جس میں مردوں کی کل تعداد66لاکھ65ہزار561جبکہ خواتین کی کل تعداد 58لاکھ83ہزار365 ہے۔یاد رہے کہ اس آبادی میں ریاست میں تعینات فوج ،نیم فوجی دستے اور غیر ریاستی باشندے بھی شامل ہیں جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مقیم نوجوانوں کا شمار نہیں ہوا ہے۔آبادی کے لحاظ سے بھارت میں19ویں نمبر پر آنے والی ریاست جموں کشمیر میں فی مربع کلو میٹر124شہری رہتے ہیں جبکہ خواندگی کی شرح68.74فیصد ہے۔ ریاست کی مجموعی آبادی میں کشمیر صوبہ کی آبادی 71لاکھ98ہزار1سو15اور جموں صوبہ کی آبادی 53لاکھ 50 ہزار 8سو11ہے۔اس طرح 2001 سے اب تک آبادی میں23.71فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کشمیر صوبہ میں آبادی کی مجموعی شرح57.36اور جموں صوبہ42.63فیصد ہے۔
سرینگر میں مردم شماری2011 کے تازہ اعدادو شمار جاری کرتے ہوئے جمعرات کو متعلقہ محکمہ کے ڈائریکٹر فاروق احمد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جموں کشمیر میں مردم شماری 2011 کودو مراحل میں مکمل کیا گیا۔پہلے مرحلے میں21لاکھ گھرانوں کی گنتی عمل میں لائی گئی جن میں ہوٹل، یتیم خانے ، جیل خانے اور اسپتال وغیرہ بھی شامل تھے۔ ڈائریکٹرموصوف کا کہنا تھا کہ مردم شماری2011 ریاست کے 22 اضلاع ، 82 تحصیلوں، 6551گاؤں اور86قصبہ جات میں انجام دیا گیا۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ جموں کشمیر میں جو مردم شماری عمل میں لائی گئی ہے اس میں ریاست میں مقیم فوج اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ غیر ریاستی باشندوں کو بھی شمار کیا گیا ہے ۔ڈائریکٹر مردم شماری کی طرف سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران ریاست کے مجموعی آبادی کے لحاظ سے جموں ضلع 1526406 کے ساتھ سرفہرست ہے جس کے بعد سرینگر ضلع کا نمبر آتا ہے جہاں کی آبادی 1269751ریکارڈ کی گئی ہے۔اسلام آبادضلع 1070144کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ سب سے کم آبادی کرگل ضلع میں ریکارڈ کی گئی ہے جہاں مجموعی آبادی 143388 ہے۔ایک دہائی کے دوران آبادی میں اضافہ کے حوالہ سے ضلع اسلام آباد 37.48 فیصد اضافہ کے ساتھ پہلے ، گاندربل 36.30فیصد کے ساتھ دوسرے اور کپوارہ 34.62 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ کولگام ضلع کی آبادی میں سب سے کم یعنی 7.30فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔آبادی کے لحاظ سے قومی سطح پر 19ویں نمبر پر آنے والی ریاست جموں کشمیر میں فی مربع کلو میٹر میں 124شہری رہتے ہیں جبکہ خواندگی کی شرح68.74فیصد ہے جس میں مردوں کی شرح 78.26اور خواتین کی شرح 58.01فیصد ہے 2001میں 4807286 افرد خواندہ تھے جبکہ 2011میں 7245053 خواندہ ہیں۔جموں کے 10اضلاع میں مجموعی شرح خواندگی 68.79تک پہنچ چکی ہے جبکہ وادی میں یہ شرح63.29فیصد ہے۔سب سے کم آبادی والے لداخ خطہ میں شرح خواندگی77.48ہے۔ شرح خواندگی میں پہلے ،دوسرے ،تیسرے ،چوتھے اور پانچویں نمبرپر بالترتیب جموں ،سانبہ ،لیہہ ،کرگل اور کٹھوعہ کا نمبر آتا ہے جبکہ کشمیر صوبہ کا سرینگر ضلع شرح خواندگی کے لحاظ سے چھٹے پائیدان پر ہے۔ ایک صدی میں جہاں مجموعی صنفی تناسب میں صرف ایک فیصد کا اضافہ ہوسکا ہے وہیں بچوں کا صنفی تناسب 2001میں941کے مقابلے میں 2011میں 859تک گرچکا ہے تاہم کپوارہ مجموعی آبادی میں بچوں کے شرح تناسب میں قومی سطح پر سب سے آگے ہے جہاں مجموعی آبادی میں صفر سے6سال تک کی عمر تک کے بچوں کی شرح 22.50فیصد ہے۔لیہہ ضلع میں سب سے کم صنفی تناسب583ہے جو2001کے مقابلے میں240کم ہے جس کے بعد کرگل میں صنفی تناسب62پوایئنٹ کم ہوکر775تک گر گیا ہے۔تاہم صنفی تناسب کے لحاظ سے کولگام اور شوپیاں اضلاع سرفہرست ہیں جہاں یہ تناسب قومی شرح سے11فیصد زیادہ ہوکر951تک پہنچ چکا ہے۔لیہہ میں بچوں کی آبادی سب سے کم8.03فیصد ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: