زیادتیاں جاری رہیں تو عوامی ردعمل کا خطرہ

جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ریاست میں جبر و زیادتیوں کاسلسلہ ترک نہیں کیا گیا توشدید عوامی رد عمل ہوسکتا ہے۔ کمیشن نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ حراستی تشدد ، فرضی جھڑپوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جا نی چاہئے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ بشری حقوق کی پامالیوں کی پردہ پوشی سے بھارت کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ایسے واقعات سے عام لوگوں میں حکومت اور اس کے مختلف سیکورٹی اداروں کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔کمیشن کے مطابق عالمی سطح پر بھی فورسز اور ملک کی شبیہ بگڑ جانے کا خدشہ ہے ۔
ریاستی حقوق انسانی کمیشن (ایس ایچ آر سی )نے شمالی کشمیر کے قصبہ ہندوارہ کے ایک عام شہری محمد عبداللہ کی حراستی ہلاکت سے متعلق شکایت کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ رائے دی ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے مظالم اور ز۔یادتیوں پر پردہ ڈالنے والی قوتیں دراصل لوگوں کو دبانا چاہتی ہیں اور یہ کہ اگر عام لوگوں کو دبانے اور ہراساں کئے جانے کے سلسلے میں سختی سے کام لیا جاتا رہا تو اس کا نتیجہ سخت عوامی ردعمل کی صورت میں نکل سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ جموں کشمیر میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن کا قیام نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے دور اقتدار میں سال 1997کے دوران عمل میں لایا گیا تھاتاہم مذکورہ کمیشن کی اعتباریت پر بار بار سوالات اٹھائے جاتے رہے ۔جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمیشن کو مکمل آئینی اختیارات نہیں دئیے گئے ہیں ۔جانکار حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ کمیشن صرف سفارش کرسکتا ہے، قصور واروں کو سزا نہیں سنا سکتا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ کمیشن نے فورسز کے مظالم کا سخت نوٹس لے کر سنگین عوامی ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔واضح رہے کہ اس کمیشن کے سابق چئیرمین جسٹس علی محمد میر چند سال قبل یہ کہہ کر مستعفی ہوگئے تھے کہ یہ کمیشن ایسا شیر ہے جس کے نہ دانت ہیں اور نہ دْم۔ کمیشن کے موجودہ چئیرمین ریٹائرڈ جسٹس بشیر الدین نے سال 2008-09کی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ جب انہوں نے مذکورہ کمیشن کے حقوق انسانی تحفظ سے متعلق ایکٹ کا مطالعہ کیا تو پہلی نظر میں انہیں ایسا لگا کہ مذکورہ کمیشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے لیکن بعداذاں یہ دیکھنے کو ملا کہ ایساکچھ بھی نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گذشتہ سال اسمبلی میں خطاب کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی سرکارریاستی حقوق کمیشن کو لازمی اختیارات دے گی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر عبدالرشید نے حراستی اموات ، فرضی جھڑپوں اور جبری گمشدگیوں وغیرہ سے متعلق ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن میں گذشتہ دنوں 35شکایات درج کروائی تھیں جن میں سے 12شکایات پر کمیشن ہذا نے اپنی طرف سے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا ۔ ریاستی حقوق انسانی کمیشن کے ان فیصلوں اور سفارشات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا تھا کہ جو لوگ دلی میں بیٹھ کر افضل گورو کو پھانسی نہ دئیے جانے پر واویلا کررہے ہیں انہیں کشمیر میں فوج اور فورسز کے ہاتھوں ہوئے مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کرنی چاہئے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: