خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

90 کی دہائی سے قبل خودکشی کا لفظ بولنا بھی حرام سمجھا جاتا تھالیکن چند برسوں کے دوران اس میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔رواں سال خودکشی کے 60واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں 30افراد نے جان گنوادی ہے جبکہ سال 2010میں 76واقعات پیش آئے تھے جن میں 39افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 3سال کے دوران 14, 830افراد نے خودکشی کی ۔ماہرین طب کے مطابق وادی میں روزانہ4سے5اقدام خود کشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اگرچہ خودکشی کے بڑھتے واقعات کے بعد اس کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا گیا تھا ،تاہم اس کے باوجود بھی خودکشی کے رجحان میں تشویشناک اضافے سے سنجیدہ طبقہ متفکر نظر آرہا ہے ۔اعداد شمارسے پتہ چلتا ہے کہ سابق دستیاب ریکارڈ کے مقابلے میں ان واقعات میں 50فیصداضافہ ہواہے جو کہ باعث تشویش ہے اور رواں جدوجہد کی بھینٹ چڑھنے والوں کا بعد دوسرا نمبر خود کشی کرنے والے لوگوں کا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر ماہ قریب 10 اقدام خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں ۔ ماضی قریب کا ریکارڈ دیکھا جائے تو سال 1998 میں ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں خودکشی کے 167 کیس درج ہوئے ۔ان میں 92 عورتوں اور 75 مرد وں نے خودکشی کی تھی جبکہ 1999 میں 288 کیس رجسٹر ہوئے ان میں 144 خواتین اور 64 مرد وں نے خودکشی کی۔اپریل 2000 ء سے مارچ 2001 ء تک خودکشی کے 567 کیسوں میں 337عورتوں اور 190 مرد وں نے خودکشی کی ۔ایک جائزے کے مطابق 2002 میں کوئی دس لاکھ کشمیری نفسیاتی امراض کا شکاربنے تھے ان میں سے ایک لاکھ مریض خودکشی پر مائل پائے گئے جن میں 20فی صد مریضوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی ۔اعداد و شمار کے مطابق 1989 میں وادی کے واحد نفسیاتی ہسپتال سے تقریباًکوئی 1800 مریض علاج معالجے کیلئے رجوع ہوئے تھے ۔ 1995-96ء میں 34000 مریض رجوع ہوئے۔2001میں رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد بڑ ھ کر 48000 تک پہنچ گئی ہے ۔2004 میں 50000 مریض رجوع ہوئے ۔ جبکہ گزشتہ برس 60000مریض رجوع ہوئے اس بات سے قطع نظر کہ چند برس نفسیاتی ہسپتال کی طرف سے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں آوٹ پیشنٹ شعبہ کھولا گیاجہاں اب یومیہ آوٹ پیشنٹ مریضوں کی تعداد 20 سے بڑھ کر150 تک پہنچ گئی ہے۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وادی کشمیر یوں میں اعصابی اختلال کے مریضوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے ۔جس کی وجہ سے روزانہ4,5اقدام خود کشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔جوکہ ریکارڈ اضافہ ہے۔ پولیس کنٹرول روم کے اعداد وشمار کے مطابق وادی میں رواں برس کے مئی میں خود کشی کے12 اقدامات رونما ہوئے ہیں جن میں 7افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ رواں ماہ 19واقعات رونما ہوئے جن میں8افراد کی جان چلی گئی، جن کی عمر18سے25برسوں تک پائی گئی۔واضح رہے کہ جاریہ برس جنوری سے لے کر اب تک60افراد نے خودکشی کی کوشش کی جن میں30افراد کی موت واقع ہوئی ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال76افراد نے خودکشی کی جن میں سے 39افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ اس حوالے سے ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشدحسین نےبتایاکہ صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل ریکارڑ کے مطابق گذشتہ 3سال کے دوران 14, 830افراد نے خودکشی کی ۔ڈاکٹر ارشد کے مطابق گذشتہ3سال کی تحقیق سے ثابت ہے کہ 3.5افراد روزانہ خودکشی کرلیتے ہیں جو صدر اسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔تین سالہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خودکشی کے ان واقعات میں جو لوگ اپنی جان گنوا دیتے ہیں ان میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے جن کی عمر 25سے 34سال ہے جبکہ خودکشی کی اکثر کوششیں خواتین سے ہوتی ہے جن کی عمر 19سے 24سال ہوتی ہے۔ڈاکٹر ارشد کے مطابق تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خودسوزی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے جبکہ خودکشی کے واقعات میں اب گھلا کاٹنے کا سلسلہ بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ڈاکٹر ارشد کہتے ہیں کہ ذہنی پریشانی اورگھریلو معاملات سے دوچاراکثرلوگ خود کشی پر مائل پائے جاتے ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ خود کشی کرنے والوں میں مواضعات سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے ۔اسپتال ذرائع کے مطابق سال2010ء میں 3.4افراد کے یومیہ اقدام خود کشی کے مقابلے میں یہ تناسب بڑھ کر4.5ہوچلا ہے۔ ڈاکٹر ارشد کا کہنا ہے کہ مردوں میں خودکشی کی وجہ نفسیاتی دباؤ جیسے ذہنی اضمحلال، غربت اوربیروزگاری کا عنصر پایا جارہا ہے جبکہ خواتین میں خانہ فساد، تنگ طلبی اس کے محرکات ہیں۔ بڑھتے ہوئے خود کشی کے رجحان کے متعلق مطبی نفسیات کی ماہرڈاکٹرشیبا محی الدین کا کہنا ہے کہ کوخودکشی کرنے کے کئی ایک وجوہات ہوسکتے ہیں اور نوجوان طبقے میں سب سے بڑی وجہ identity crises کا ہے ۔ڈاکٹر شیبا نے بتایاکہ بچوں کی جسمانی نشو ونما تو صحیح انداز سے ہوتی ہے لیکن ان میں ذہنی نشو و نما اس ڈھنگ سے نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے بچے والدین کی معمولی ڈانٹ ڈپٹ بھی برداشت نہیں کرپاتے۔ڈاکٹر شیبا کا کہنا کہ مادیت کی اندھی دوڑ میں والدین اپنے بچوں کے لئے وہ وقت نہیں نکال پاتے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں اور ان پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جاتا ہے ۔ڈاکٹر شیبا کے مطابق مذہبی تعلیم سے دوری بھی خودکشی کے واقعات میں اضافے کا سبب بنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید نہیں ہے کیونکہ اسے زندگی کے ہر مقام پر موت اور زندگی کا سوال کھڑا ملتا ہے جس کی وجہ سے ان پر نفسیاتی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اس صورتحال میں ان کے لئے ایک آسان راستہ بچ جاتا ہے اور وہ ہے خود کشی کا۔سماجی کارکن مسعود احمد کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کو لوگوں کے یوں بے بسی سے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی حکومت نے کبھی ان حالات اور وجوہات کو جاننے کی کوشش کی جس کی وجہ سے لوگ خود کشیاں کرتے ہیں ۔خودکشی کرنے کی بڑی وجوہات ،طویل بیماری ،قرض، بے روزگاری ،کاروباری نقصان ،امتحان میں فیل ہونا ،محبت میں ناکامی اور ڈپریشن ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق خودکشی کی موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ 2020تک دنیا بھر میں 1.5ملین لوگ خودکشی کرکے اپنی جاں گنوادیں گے اورخودکشی کے واقعات میں10سے20گنا اضافہ ہوگا۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق اوسطاً ہر 20سیکنڈ میں ایک شخص کی موت ہوگی جبکہ ہر 2سیکنڈ میں خودکشی کا ایک واقع ہوگا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھرمیں خودکشی سے مرنے کی وجہ9واں ہے۔

Advertisements

2 Responses to خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

  1. Bilal ahmed نے کہا:

    Aoa zindgi ki nemat k sath eisa rawaya bht Hi na maqool hai. zindgi gaie So gaie jo Allah Pak azab mein dalein ge wahan se faraar tu na mumkin hai tu q na isi zindgi ko agla safar asaan banane k liye ache dhang se guzara jaye na k ise ganwa kr mazeed musibat mol li jaye

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: