بے نام قبروں کی گونج

ریاستی انسانی حقوق کمیشن کا اعتراف

 جموں کشمیر میں گذشتہ 21سالہ عسکری تحریک کے دوران پہلی بارانسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے وادی میں اجتماعی قبروں کا اعتراف کیا ہے ۔کمیشن کے مطابق وادی کے 38 مقامات پر 2156لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن ہیں۔ کمیشن نے ابھی تک حکومت کو یہ رپورٹ پیش نہیں کی ہے تاہم کمیشن ذرائع کے مطابق وہ اس سلسلے میں حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ جموں کشمیر میں ان بے نام قبروں کی دریافت کا سلسلہ28مارچ 2008کو شروع ہو ا تھا جب لاپتہ افراد کی تنظیم اے پی ڈی پی نے کشمیر کے شمالی علاقوں کی سروے کے دوران ضلع بارہ مولہ کے 18 دیہات سے940 بے نام قبریں دریافت کی تھیں جن میں اجتماعی قبریں بھی شامل تھیں۔بشری حقوق کیلئے کام کرنے والے مختلف اداروں پر مشتمل ’ انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس و جسٹس ‘نے 2009میں گمنام قبروں کی دریافت پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے مزید بے نام قبریں ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ یاد رہے کہ 27دسمبر 2009کو مذکورہ ادارے نے سرینگر میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں 2ہزار7سواجتماعی اوربے نام قبروں میں2ہزار 943سے زائد افراد دفن ہونے کا انکشاف کیا تھا۔
حقوق البشر کے ریاستی کمیشن (ایس ایچ آر سی) نے اپنی تین سالہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، ہندوارہ اورکپوارہ میں2156افراد کو گمنام قبروں میں دفن پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مختلف علاقوں میں مقامی پولیس نے2730 افراد کی لاشیں مقامی لوگوں کو دفنانے کیلئے سپرد کیں اور یہ کہا گیا کہ یہ نامعلوم جنگجوؤں کی لاشیں ہیں تاہم بعد ازاں 574نعشیں عام لوگوں کی پائی گئیں جن کی شناخت ان کے لواحقین نے کی ۔ رپورٹ کے مطابق ان قبروں میں 20 لاشیں جلی ہوئی پائی گئیں، 5 لاشوں کے صرف ڈھانچے پائے گئے جبکہ کئی ایک مسخ شدہ تھیں ۔رپورٹ کے مطابق کئی مقامات پر ایک ہی قبر میں ایک سے زیادہ لاشیں دفن کی گئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام نعشوں پر گولیوں اور تشدد کے واضح نشانات موجود پائے گئے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ ایس ایچ آر سی نے ریاست کے مختلف علاقوں میں گمنام قبروں کی تحقیقات کیلئے تین سال قبل 2008میں اس وقت شروع کی تھی جب گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’اے پی ڈی پی‘ نے گمنام قبروں کی رپورٹ جاری کی تھی۔ ریاستی حقوق کمیشن کی یہ تحقیقاتی ٹیم11 ممبران پر مشتمل تھی جن میں انسپکٹر محمد یوسف ، انسپکٹر بھگوت سنگھ ، انسپکٹر عاشق حسین ، انسپکٹرویر سنگھ ، سب انسپکٹر خالد معراج ، اے ایس آئی فاروق احمد ، ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد ، ہیڈ کانسٹیبل اعجاز احمد، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل غلام قادر اور سلیکشن گریڈ کانسٹیبل نذیر احمد شامل تھے جبکہ ٹیم کی سربراہی ایس ایچ آر سی کے ایس ایس پی کررہے تھے ۔ ایس ایچ آر سی نے گمنام قبروں میں ہزاروں نامعلوم افراد بشمول مقامی و غیر ملکی جنگجوؤں اور عام شہریوں کومارنے کے بعد دفن کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس سلسلے میں باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کرانے کے بعد ان نعشوں کو نکال کر ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جانا چاہیے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ ان میں سے مقامی افراد کتنے ہیں اور کہیں ان میں کوئی ایسا شخص بھی تو نہیں ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے دوران حراست لاپتہ ہوا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مختلف مقامات کا دورہ کرنے کے بعد ایس ایچ آر سی کی 10رکنی ٹیم نے لوگوں کے بیانات قلمبند کئے جن میں سے کئی ایک لوگوں نے ڈر کے مارے اپنے نام مخفی رکھنے کی گذارش کی ۔ رپورٹ کے مطابق’ بارہمولہ میں 21مقامات پر گمنام قبریں ہیں جبکہ بانڈی پورہ میں 11،کپوارہ میں 11،بانڈی پورہ اور ہندوارہ میں تین تین مقامات پر ایسی قبروں کو پایا گیا ۔بارہمولہ کی 21گمنام قبروں میں 851نامعلوم افراد کی لاشوں کو دفن کیا گیا ہے، بانڈی پورہ میں 14،ہندوارہ میں 14جبکہ کپوارہ میں 1277نامعلوم افراد کو گمنام قبروں میں دفن کیا گیا ہے‘ ۔کمیشن نے رپورٹ میں گمنام قبروں میں موجود نامعلوم افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی سفارش کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں لاگو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ اور ڈسٹربڈ ائیریا ایکٹ کو منسوخ کیا جانا لازمی بن گیا ہے کیونکہ ان قوانین کے تحت فوج اور دیگر فورسز کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کے نتیجے میں حقوق البشر کی پامالیوں کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں جہاں کہیں بھی فوج ، فورسز یا پولیس کسی بھی شخص کو گرفتار کرتی ہے تواس کے نزدیکی رشتہ داروں کو اُس کی گرفتاری کے بارے میں فوراًمطلع کیا جانا چاہئے۔ رپورٹ میں اس بات کی سفارش بھی کی گئی ہے کہ جب اور جہاں کہیں کوئی شخص جھڑ پ کے دوران مارا جاتا ہے یا کہ کسی کی لاش کہیں برآمد کی جاتی ہے تو دفن کرنے سے قبل اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ اس صورت میں شناخت کرنے کی سہولت برقرار رہے۔ایس ایچ آر سی کا کہنا ہے ’کافی طویل تفتیش کے بعد ہم کچھ طے کرپائے ہیں۔ اب شناخت کا مسئلہ ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم انصاف فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے‘۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ بے نام قبریں ان لوگوں کی ہوسکتی ہیں جنہیں 1989سے غیر قانونی طریقوں سے قتل کیاگیا،جبری طورلاپتہ کردیاگیا یاپھر تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ بشری حقوق کے معروف کارکن پرویز امروز کا کہنا ہے ’’ان قبروں میں ایسے افراد مدفون ہیں جن کو ماورائے عدالت اور حراست میں لینے کے بعد فرضی جھڑپوں کے دوران قتل کیا گیا ہے ‘‘۔پرویز امروز نے مزید کہا کہ اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد محسوس ہورہا ہے کہ بھارت جموں کشمیر میں جنگی جرائم ،نسل کشی اور غیر انسانی حرکات کا مرتکب ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ2008سے وادی کے مختلف علاقوں میں پائی جانے والی اجتماعی قبریں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فورسز نے کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں نوجوانوں کو ہلاک کیا ہے جنہیں بعد میں ریاستی پولیس نے خفیہ قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ ابھی تک چند مخصوص علاقوں کی سروے عمل میں لائی گئی ہے۔ اگر یہی سروے دس اضلاع میں ہوگی تو صورتحال کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ 1989سے جن8ہزار سے زائد افراد کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ،ان کی تعداد بے نام اور اجتماعی قبروں میں مدفون افراد سے مل سکتی ہے‘‘۔

Advertisements

2 Responses to بے نام قبروں کی گونج

  1. best socket wrenches نے کہا:

    Pretty good post. I just stumbled upon your blog and wanted to say that I have really enjoyed reading your blog posts. Any way I’ll be subscribing to your feed now.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: