جموں کشمیر میں 74ہزار کنال پر فوج قابض:سرکار

ستمبر 30, 2011

جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رواں اجلاس میں جمعہ کو ریاستی سرکار نے اعتراف کیا کہ لداخ کو چھوڑ کر ریاست میں اس وقت بھی 73518.18کنال اراضی غیر قانونی طور فورسز کی مختلف ایجنسیوں کے تصرف میں ہے جس میں وادی کے 25957کنال 8مرلہ اور جموں صوبہ کے 47561کنال 1مرلہ اراضی شامل ہیں۔جموں کشمیر کے وزیر مال رمن بھلہ نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور رکن اسمبلی محبوبہ مفتی کی طرف سے پوچھے گئے ایک غیر ستارہ زدہ سوال کے تحریری جواب سے ایوان کو آگاہ کیا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وادی کے شمالی ضلع بارہمولہ میں سب سے زیادہ یعنی 9314کنال اور15مرلہ جبکہ سرینگر ضلع کی سب سے کم اراضی یعنی 74کنال فورسز کی غیر قانونی تحویل میں ہے ۔ حکومت نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جموں خطے میں کہیں پر بھی فورسز نے ریاست کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ نہیں کیا ہے البتہ خطے میں مجموعی طور پر 47561کنال اور10مرلہ اراضی فورسز کی مختلف ایجنسیوں کی تحویل میں ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ قانون کے تحت لوازمات پورا کرنے کا عمل مختلف ضلع کمشنروں کی طرف سے جاری ہے۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

وزراء کی کارکنوں کے طبلے پر تھاپ

ستمبر 28, 2011

انجینئر رشید کی قراردادشور وغل میں معلق
ریاستی قانون ساز اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار بدھ کو کانگریسی وزراء نے اپنی پارٹی اراکین کے طبلے پر اس وقت تھاپ ماری جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس ایوان میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے کو پانی پی پی کر کوس رہے تھے۔ایسے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر مرعی خاکوں میں رنگ بھرتے ہوئے دانستہ طور پورے وقفہ کے دوران معنی خیز خاموشی اختیار کی کہ جیسے پارٹی کو سانپ سونگھ گیا تھا۔اس کا متوقع نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ افضل گورو کی سزائے موت کے خلاف قرارداد زبردست ہنگامہ آرائی،توڑ پھوڑ اور نعرے بازی کی وجہ سے پیش نہ ہوسکی۔ سپیکر محمد اکبر لون نے ایوان کو مچھلی بازار سے تعبیر کرتے ہوئے دن بھرکیلئے کارروائی ملتوی کردی۔بھارتیہ جنتا پارٹی اراکین افضل سے متعلق قرارداد کو رد کرنے جبکہ کانگریس ممبران کراس ووٹنگ کے مرتکب بھاجپا ممبران کو ایوان سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔واضح رہے کہ بھارتی پارلیمان پر ہوئے حملے کی سازش میں ملوث قرار دئے جانے والے افضل گورو کی سزائے موت کے خلاف آزاد رکن اسمبلی انجینئر رشید ایک قرارداد پیش کرنے والے تھے جس کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔انجینئر رشید نے اس قرار داد پر بحث ٹل جانے کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کو ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں آج کچھ بھی ہوا اس سے تو یہی محسوس ہورہا ہے کہ یہ میچ پہلے ہی’ فکس‘ کیا گیا تھا۔ Read the rest of this entry »


وزیراعلیٰ نے گمنام قبروں سے دامن چھڑالیا

ستمبر 27, 2011

کہا سابق حکومتیں ذمہ دار، انہیں جواب دینا ہوگا
گمنام قبروں سے اپنا دامن چھڑاتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ1990سے 2006 تک اقتدار میں رہی حکومتوں سے وابستہ سبھی سیاسی لیڈران کوان گمنام قبروں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔انہوں نے ریاست کے کسی بھی حصے میں گمنام اجتماعی قبروں کی موجودگی سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گمنام قبریں اسی عرصے کے دوران معرض وجود میں آئی ہیں۔گمنام قبروں میں مدفون افراد کی شناخت کیلئے ’ڈی این اے پروفائلنگ‘‘ عمل میں لانے کا اعلان کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈی این اے نمونے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں جمع کرائیں تاکہ بے نام قبروں میں مدفون لوگوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔ لاپتہ افراد کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ جو لوگ لاپتہ ہیں ان میں سبھی مرے نہیں ہیں بلکہ کئی افراد ایسے بھی ہیں جو کنٹرول لائن کی دوسری جانب سرگرم ہیں جبکہ کئی لوگوں کے اب بچے بھی ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بے نام قبروں میں جو لوگ دفن ہیں وہ صرف سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہی نہیں مرے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ’’ میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جنگجوؤں نے بھی بہت سارے لوگوں کا قتل کیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ سارا الزام سیکورٹی فورسز پر ہی عائد کیا جارہا ہے‘‘۔ Read the rest of this entry »


جموں ممبران نے علاحدہ اسمبلی کا مطالبہ کیا

ستمبر 27, 2011

جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں منگل کو جموں کے دو ممبران نے صوبے کیلئے الگ اسمبلی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان دو نوں جماعتوں نے اسمبلی کو یرغمال بنایا ہے۔ Read the rest of this entry »


اسمبلی میں گمنام قبروں کی گونج

ستمبر 27, 2011

پی ڈی پی کا ایوان سے واک آؤٹ
جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے رواں اجلاس کے دوسرے دن منگل کواس وقت ایوان کا بائیکاٹ کیا جب سپیکر نے گمنام اجتماعی قبروں اور گذشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں کے معاملے پر بحث کے لیے تحریک التواکو مسترد کر دیا۔پی ڈی پی ممبران کے زبردست احتجاج اور مخالف اراکین کے درمیان زوردار بحث وتکرار اور نوک جھونک کی وجہ سے اسمبلی کا وقفہ سوالات شورشرابے کی نذر ہوا ۔بے نام قبروں پر ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے دوران اسمبلی سپیکر محمد اکبر لون نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ لوگوں کوبے نام قبروں تک پہنچانے کیلئے سبھی سیاستدان برابر ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا’’ لوگوں کو بے نام قبروں تک پہنچانے کیلئے ہم سب ذمہ دار ہیں، ہم سب نے یہ کام مل جل کرکیا ہے اور اس میں ہم سب ملوث ہیں‘‘۔ Read the rest of this entry »


ریاستی اسمبلی کا گرمائی اجلاس شروع

ستمبر 26, 2011

ریاست کی87رکنی قانون ساز اسمبلی کا مختصر اجلاس سیکورٹی کے کڑے حصار میں سوموار کو جموں و کشمیر کے گرمائی دارالخلافہ سرینگرمیں ماتمی قرارداد کے ساتھ شروع ہوا۔ماتمی قرار دادمیں گذشتہ اجلاس سے اب تک فوت ہونے والے4 سابق ارکان قانون سازیہ کے ساتھ ساتھ سکم زلزلہ کے ہلاک شدگان اور معروف کرکٹر نواب منصور علی خان پٹو ڈی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے دور اقتدار میں یہ چھٹا اجلاس منعقد ہورہا ہے اور مجموعی طور پر یہ105واں اجلاس ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ ریاست سے باہر ہونے کی وجہ سے اجلاس کے پہلے روز ایوان میں موجود نہیں تھے جبکہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید بھی ایوان سے غیر حاضر رہے۔ Read the rest of this entry »


لانگ ایگو ،آئی ڈائڈ

ستمبر 22, 2011

گذشتہ سال کی ایجی ٹیشن کے دوران فورسز نے سرینگر کے سمیر نامی ایک 8سالہ معصوم بچے کی آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیالیکن سمیر کی ہلاکت نے چند نوجوانوں کو ’کچھ کرنے‘ کی ترغیب دیکر ایک ایسا کارنامہ انجام دینے پراکسایا جس نے کشمیری عوام کو حیران کردیا۔ان نوجوانوں نے سمیر کی ہلاکت پر ’Long Ago,I Died‘ نامی ایک فلم بنائی ہے جسکی نمائش شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں انجام پائی گئی۔فلم میں سال 2010کی ایجی ٹیشن کے نتیجہ میں پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔20منٹ پر مشتمل اس فلم میں سمیر کی پراسرار ہلاکت سے پردہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: